تازہ ترین
پُلوامہ سے رافیل تک

پُلوامہ سے رافیل تک

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کا گزشتہ پانچ سال کا چڑھا ہوا پاکستان دشمن انتخابی بخار پلوامہ واقعہ کو روکنے میں بھارت کی پانچ لاکھ سے زائد فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی کے بعد مزید تیز ہوگیا ہے۔ مودی اپنے عوام کو پاکستان پر اپنے مبینہ اسٹریٹیجک ہوائی حملے کی ناکامی پر پہنچنے والے زخموں کو چاٹنے کے بجائے پاکستان کے عوام کو اندر گھس کر مارنے کی گیڈر بھبھکی دے رہے ہیں ۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے وہ سمجھتا اور جانتا ہے کہ مودی آئندہ عام انتخاب میں اپنی ناکامی کو فتح میں تبدیل کرنے کی غرض سے پاکستان کی سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ جاری رکھے گا۔ پاکستان پر ناکام فضائی حملے کے اثرات سے مودی ابھی سنبھلنے نہ پائے تھے کہ 2012 میں فرانس کیساتھ رافیل طیاروں کی خریداری میں اپنی بدعنوانی کے مسئلے کو ازخود بھارت کے عوام کی توجہ کا مرکز بنادیا ، مودی کا کہنا ہے کہ اگر راہول گاندھی اور ان کے ساتھی فرانس کے ساتھ ہونے والے رافیل جنگی طیاروں کی خریداری کو متنازع نہ بناتے تو بھارت کو دنیا کے سامنے شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔جنوری 2012 میں بھارت کی حکومت نے فرانس کی ڈی سالٹ کمپنی سے 126 جنگی طیارے خریدنے کا اعلان کیا ۔ ابتدائی معاہدے کے مطابق یہ طیارے ڈی سالٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے بھارت کی کمپنی ہندوستان ایر وناٹکس لمیٹڈ نے بھارت میں ہی بنائے تھے لیکن خریداری کا یہ سودا دونوں ملکوں کے درمیان بعض وجوہات کی بنا پر تکمیل نہ پاسکا ۔ 2014 میں بھارت میں کانگریس کے بجائے جنتا پارٹی کی حکومت برسراقتدار آگئی ۔ 2015 میں بھارت کے وزیراعظم جب فرانس کے دورہ پر گئے تھے تو انہوں نے فوری طور پر صرف 36 رافیل جنگی طیارے خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ انتہائی عجلت میں ستمبر 2016 میں بھارت اور فرانس کی حکومتوں میں رافیل طیاروں کی فروختگی کا معاہدہ طے پاگیا ۔ بھارت کی حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کو جب ان جنگی طیاروں کی خریداری کا علم ہوا تو تحقیقات سے پتہ چلا کہ یہ نہ صرف انتہائی مہنگے خریدے گئے ہیں بلکہ وزیراعظم مودی نے اپنے دیرینہ فنانسر امبانی کو کروڑوں ڈالرکا ناجائز فائدہ بھی پہنچایا ہے ۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی کے مطابق کانگریس کی حکومت صرف 715 کروڑ روپے فی جنگی طیارے کے حساب سے خرید رہی تھی جبکہ مودی سرکار نے 1600 کروڑ روپے فی طیارے کے حساب سے خریداری کا معاہدہ کیا ہے ۔ راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ مودی نے فرانس جاکر ہمارے پرانے خریداری کے سودے کے معاہدہ کو امبانی کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے تبدیل کردیا ۔ راہول گاندھی نے اس تمام معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کیا لیکن وزیراعظم مودی اور ان کے ساتھیوں نے راہول گاندھی کے مطالبہ کو بے سروپا شورو غوغاً قرار دیکر خاموش کرانے کی کوشش کی۔بتایا جاتا ہے کہ مودی کے دوست امبانی نے ہوائی جہاز کی صنعت میں دلچسپی چند ماہ قبل ہی لینی شروع کی تھی اس نے اس سلسلے میں کمپنی بنائی تھی ۔ اس کو مودی سرکار نے رافیل طیاروں کا ٹھیکہ دیدیا اس اقدام پر بھارت کے فوجی ادارے بھی حیران و پریشان تھے کہ ایک ایسی کمپنی جس کو فضائی طیارے بنانے کا کوئی تجربہ نہیں انتہائی بڑا ٹھیکہ کس طرح دیدیا گیا ۔ مودی مخالف سیاسی جماعتیں حکومت سے پرزور مطالبہ کررہی ہیں کہ وہ بنانے کی آخر کیا وجوہات ہیں کہ صرف چار سال کے دوران جہازوں کی قیمت میں اتنا بھاری اضافہ ہوگیا ۔ بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت رافیل طیاروں کی خریداری میں ہونے والے گھپلے کے الزامات کا جواب دینے کے بجائے کانگریس پر یو فورس گھوٹالے کا حوالہ دے رہی ہے اس کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ عوام رافیل کے بجائے کانگریس سے یو فورس بدعنوانی کیس سے متعلق سوالات پوچھنے لگیں ۔ اب یہ بات واضح طور پر سامنے آگئی ہے کہ بھارت کے عام انتخابات کے دوران نریندر مودی اور بھارتی جنتا پارٹی کو پلوامہ پاکستان پر اسٹریٹیجک اسٹرائیک کی ناکامی اور بھارتی فضائیہ کی ہتک آمیز پسپانی کے ساتھ رافیل کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ، ان سوالوں کی موجودگی میں آئندہ انتخابات میں بھارتی جنتا پارٹی کی کامیابی مشکل نظر آرہی ہے ۔ رافیل بدعنوانی کیس بھارت کی سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے گزشتہ بدھ کو دوران سماعت سپریم کورٹ میں بھارت کی حکومت نے اعتراف کرکے اپنے عوام کو حیران کردیا کہ معاہدے کی خفیہ دستاویزات چوری ہوگئی ہیں اس کا تاحال مقدمہ بھی درج نہیں کرایا گیا ہے۔بھارت کے اٹارنی جنرل نے اسکی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اگر دستاویزات کی چوری کی ایف آئی آر درج کرائی تو اس سے ملک کو نقصان ہوگا ۔ کانگریس نے سپریم کورٹ میں مودی حکومت کے موقف کو فراڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے مودی سرکار کی کرپشن کے الزام کو مزید حقیقت سے قریب کردیا ہے ۔ وزیراعظم نے اپنی کرپشن کی فائلیں چوری کراکر اپنی کرپشن کو چھپانے کی کوشش کی ہے ۔ راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ کرپشن کی کڑی مودی کیساتھ شروع ہوئی ہے اور ان پر ہی ختم ہوئی ہے اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی واضح ہوگئی ہے کہ مودی نے عام انتخابات میں کامیابی کے لئے جو حکمت عملی تیار کی تھی وہ مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے ۔ پلوامہ سے رافیل تک بھارت کے عوام مودی کی کارکردگی سے انتہائی غیر مطمئن نظر آتے ہیں۔بھارت کے امن پسند عوام کو اب یہ خطرہ بھی محسوس ہونے لگا ہے کہ نریندرہ مودی اپنی اس ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کرنے کے لئے فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی راہ پر نہ چل پڑیں اس کا اندازہ بھارت کے مختلف مقامات پر رہائش پذیر کشمیری مسلمانوں اور زیر تعلیم طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات سے لگایا جاسکتا ہے ، اپنے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے مودی اپنے ہر انتخابی جلسہ میں پاکستان کے خلاف آگ اگل رہے ہیں لیکن یہ بات خوش آئند ہے کہ مودی کی اشتعال انگیزی کے باوجود بھارت کے عوام کے ذہنوں سے رام جنم بھومی کا پتھر زنگ آلود ہوچکا ہے ۔ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے دانشور ، وکلا ، جج ، ڈاکٹرز اور سیاستدان سب مودی کی فرقہ پرست سیاست سے نالا نظر آرہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top