تازہ ترین
پُلوامہ حملہ ۔۔۔ بھارت ذمے دار (حصہ اول)

پُلوامہ حملہ ۔۔۔ بھارت ذمے دار (حصہ اول)

برصغیر ہند کی تقسیم کے ساتھ ہی ہندوستان اور پاکستان کے اندرونی وبیرونی حالات پر دونوں ملکوں کی ظاہری اور پوشیدہ دشمنی جاری رہی ہے ، اس کی بنیاد ریاست جموں و کشمیر کے الحاق کے سوال پر پیدا ہونے والے تنازع سے پڑی ہے ۔ بدقسمتی سے جنت فردوس کہلانے والا یہ خطہ آگ و خون میں نہایا ہوا ہے ، ستر سال کے دوران چنار کی وادی تین جنگوں کا شکار ہوچکی ہے ۔ اقوام متحدہ کا ادارہ بھی یہاں کے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے میں بری طرح ناکام ثابت ہورہا ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے دو عظیم رہنما شہید ملت لیاقت علی خان اور آنجہانی پنڈت جواہر لعل نہرو دونوں اقوام عالم کے سامنے وعدہ کرچکے تھے کہ ریاست جموں وکشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیر کے عوام کریں گے بعد میں بھارت اپنے اس وعدے سے منحرف ہوگیا اس نے کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ تسلیم کرنے کے بجائے بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دینا شروع کردیا۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے لئے آنجہانی پنڈت نہرو نے ریاست کشمیر کے وزیراعلیٰ شیخ عبداللہ کو اپنا آلہ کار بنایا جلد ہی شیخ عبداللہ کو احساس ہوگیا کہ پنڈت نہرو کشمیری عوام سے کئے ہوئے اپنے وعدوں سے منحرف ہورہے ہیں تو انہوں نے بھارت کے عزائم کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنا شروع کردیں جس کے نتیجے میں پنڈت نہرو کے حکم پر شیخ عبداللہ کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا اس کے بعد کشمیر میں کٹھ پتلی وزیراعلیٰ کا سلسلہ تاحال قائم ہے لیکن جب بھی کسی وزیراعلیٰ نے نئی دہلی کے احکامات کی تعمیل میں رکاوٹ بننے کی کوشش کی اس کو کان سے پکڑ کر اقتدار کی مسند سے اٹھاکر سرینگر کی سڑکوں پر پھینک دیا گیا۔بخشی غلام، مفتی محمد سعید، غلام نبی آزاد، فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی یہ تمام لوگ جب تک نئی دہلی کے تحت کشمیر کی عوام دشمن پالیسیوں پر چوں چرا کئے بغیر عمل پیرا کرتے رہے اقتدار کی دیوی ان پر مہربان رہی ۔ ان تمام سابق حکمرانوں کے دور میں ریاست جموں وکشمیر کے عوام کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا رہا لیکن یہ تمام افراد خاموش تماشائی بنے رہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام نے بھارت کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے خلاف جب سے جدوجہد شروع کی ہے ریاست کے مسلمانوں کی زندگی مسلسل بھارتی افواج کے ظلم و تشدد کا شکار بن رہی ہے۔ ریاست میں حریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کی آڑ میں بھارتی افواج نے موت کا بازار لگا رکھا ہے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں نے اپنے سیاسی حقوق کی بحالی کے لئے جدوجہد کو روکنے میں بھارت نے اپنی ناکامی کی ذمے داری پاکستان پر عائد کرنا شروع کردی ہے۔بھارت کی پارلیمنٹ پر حملہ ہو، کشمیر میں اڑی میں رونما ہونے والا خونی واقعہ یا حالیہ پلوامہ میں حریت پسندوں کے خودکش حملے کے نتیجے میں چالیس سے زائد بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ ہو بھارت نے ان تمام واقعات میں پاکستان کو ملوث کرنے میں لمحہ بھر کی تاخیر نہیں کی ۔ پلوامہ واقعے سے بہت پہلے بھارتی اخبارات اور کشمیر کے سیاستدان جن میں ریاست کا سابق حکمران بھی شامل ہے جنہوں نے کشمیر کی کشیدہ صورتحال پر تنقید شروع کردی تھی ۔ لکھنو سے شائع ہونے والے اردو روزنامہ ‘‘آگ’’ مورخہ اکتیس دسمبر دوہزار اٹھارہ کو اپنے ادارتی صفحہ پر ‘‘کشمیر پھر پارلیمنٹ میں’’ کے عنوان سے فاروق عبداللہ کے حوالے سے اپنے مضمون میں لکھتا ہے کہ اگر حکومت ہند کشمیر میں قیام امن کی خواہش مند ہے اور چاہتی ہے کہ ریاست میں اب مزید خون خرابہ نہ ہو تو اسے فوری طور پر پاکستان و حریت رہنمائوں سے بات چیت کرنی چاہئے تاکہ کشمیر جیسے دیرینہ مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل تلاش کیا جاسکے لیکن بھارتی حکومت تو خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ان حالات میں ریاست میں امن ہوگا تو کیسے۔؟؟ امسال بارہ جنوری کو اننت ناگ میں فاروق عبداللہ نے اپنی جماعت کے عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ریاست میں بھارت کی مرکزی حکومت کی کسی بھی سخت گیر پالیسی کی حمایت نہیں کریں گے ، بھارت کی مرکزی حکومت ریاست کو عوام کا غم و غصہ کم کرنے کے لئے ان کے دکھ کو دیکھنا پڑے گا ، 1996 میں جب میری حکومت تھی تو ہم نے اپنی اسمبلی سے کشمیر کی خود مختاری (اٹانومی) کی قرار داد منظور کراکر دہلی حکومت کو بھیجی تھی لیکن اٹل بہاری واجپائی کی حکومت نے اس کو منظور نہیں کیا میں آج بھی کہتا ہوں کہ ریاست جموں و کشمیر کی خود مختاری (اٹانومی) بحال کرنا ہوگی اس کے بغیر ریاست میں امن کا قیام ممکن نہیں۔جموں و کشمیر حریت کانفرنس کے مقبول رہنما میر واعظ مولوی عمر فاروق نے بھی اٹھارہ جنوری دوہزار انیس کو اپنے ایک بیان میں مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کے خلاف بھارت کی مسلح افواج کی کامیابیوں کے دعویٰ پر تبصرہ کرتے ہوئے بھارتی فوج کے ہاتھوں 250 کشمیری نوجوانوں کی اموات افسوسناک اور انسانیت سوز ہیں جدید جنگی ساز و سامان سے لیس تربیت یافتہ فوج جس کی تشکیل مدمقابل فوج سے لڑنے کے لئے کی گئی ہے وہ نہتے کشمیری نوجوانوں جن میں چودہ سالہ بچے بھی شامل ہیں مارنے پر جشن مناتی ہے جاں بحق ہونیوالے نوجوان گوریلا یا دہشت گرد نہیں تھے یہ نوجوان حق خود ارادیت کی آواز دبانے کی وجہ سے ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ ان بیانات اور مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے تناظر سے پلوامہ کے واقعے کو کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ فوجی قافلے پر خودکش حملہ کرنیوالا نوجوان کن حالات واقعات کے نتیجے میں موت کو گلے لگا کر بھارت کی قابض فوج پر حملہ آور ہوا اس کا جواب یقینا بھارت کو دینا ہوگا محض پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگا کر بھارت اپنے عوام اور دنیا کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتا۔ اس کا عملی مظاہرہ خود بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی ان کی وزیر خارجہ سشما سوراج کو اس وقت دیکھ لیا جب دونوں بھارتی رہنمائوں کے بے حد اصرار کے باجوود سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پلوامہ واقعے میں پاکستان کو ملوث کرنے کے بھارتی دعویٰ کی تائید کرنے سے صاف انکار کی صورت میں کیا۔ فاروق عبداللہ نے اکیس جنوری کو سرینگر میں اپنی جماعت کے ہیڈکوراٹر میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں بھارتی افواج اور دوسرے قانون ساز اداروں کے اہلکاروں کو دہشت گرد نہیں بلکہ فدائین قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے فدائین حملے میں ایک سو چالیس اہلکار مارے گئے ہرطرف سینہ کوبی کی جارہی ہے اور کشمیریوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے مرنے مارنے اور بدلہ لینے کی باتیں کی جارہی ہیں لیکن جب چھتیس گڑھ کے دانتے واڑہ میں ایک ساتھ 75 اہلکار مارے گئے تو کسی نے بھی بات نہیں کی اور کسی بھی طبقے کے لوگوں کو انتقام کا نشانہ نہیں بنایا گیا ۔ بھارت ایک طرف کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے تو دوسری طرف کشمیری عوام کو غیر بنایا جارہا ہے آخر ہمارے ساتھ یہ ناانصافی کیوں ؟ فاروق عبداللہ کا یہ بیان واضح ثبوت ہے کہ پلوامہ حملے میں پاکستان یا اس کا کوئی ذیلی فوجی ادارہ ہرگز ہرگز ملوث نہیں ہے، فاروق عبداللہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان اور دیگر اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top