تازہ ترین
پولیس کےہاتھوں ہلاک نقیب اللہ محسود بےقصور یا دہشتگرد؟

پولیس کےہاتھوں ہلاک نقیب اللہ محسود بےقصور یا دہشتگرد؟

ویب ڈیسک: (18 جنوری 2018) سوشل میڈیاپرکراچی میں مبینہ پولیس مقابلےکےدوران مارے گئےنقیب محسود کیلئےآوازیں بلند ہورہی ہیں۔ جسٹس فار نقیب اور اسٹینڈ ود نقیب کے نام سے ہیش ٹیگ گردش میں ہیں۔اکثریت یہ ماننے کو تیار نہیں کہ یہ خوبرو نوجوان کوئی دہشت گرد بھی ہوسکتا ہے۔

تیرہ جنوری کو شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کالعدم تنظیم کے مبینہ دہشت گرد نسیم اللہ عرف نقیب کو تین ساتھیوں سمیت مارگرایا ہے۔ پھرچند ہی دنوں بعد سوشل میڈیا پر بھونچال آگیا۔ مختلف یوزر کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے جس کی زندگی کا خاتمہ کیا وہ درحقیقت دہشت گرد نہیں بلکہ وزیرستان سے کراچی کاروبار کے لیے آنے والا بے قصور نوجوان ہے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے نقیب اللہ کی تصویریں وائرل ہونا شروع ہوگئیں۔

اس وقت سوشل میڈیا پر نقیب اللہ کے لیے آواز اٹھانے والوں کی بھرمار ہے۔ کوئی اسے ماروائے عدالت قتل قرار دے رہا تو واقعہ کی تحقیقات کی مانگ کررہا ہے۔ سوشل میڈیا پر صرف اور صرف بات ہورہی ہے تو نقیب کی ہے۔

جسٹس فار نقیب اور اسٹینڈ ود نقیب دو ایسے ہیش ٹیگ ہیں جن پر سب سے زیادہ پوسٹ کی جارہی ہیں۔ گھنے لمبے بالوں والے خوبرو اور جاذب نظرنقیب کی تصویروں کے ساتھ مختلف کمنٹس ہر کسی کی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔کسی نے پوسٹ کیا ہے کہ جو شخص اپنے بیٹے کو پاک فوج میں بھرتی کرنا چاہتا تھا وہ بھلا کیسے دہشت گرد ہوسکتا ہے۔

 

سوشل میڈیا پر مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اس واقعے کی جوڈیشل انکوائر ی کی جائے۔ بیشتر یوزر کا کہنا ہے کہ یہ جعلی پولیس مقابلہ ہے۔اب جھوٹ کیا ہے اور سچ یہ تو آنے والے دنوں میں پتا لگ جائے گا لیکن یہ ضرور ہے کہ ایک بار پھر سوشل میڈیا مضبوط ہتھیار بن کر ابھرا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

ٹانک: نقیب اللہ کی نماز جنازہ ٹانک میں ادا کر دی گئی

Comments are closed.

Scroll To Top