تازہ ترین
پنجاب میں سیاسی و انتظامی ابتری

پنجاب میں سیاسی و انتظامی ابتری

وزیراعظم پاکستان عمران نے کہا ہے کہ سازشیں ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سازشیں کون کررہا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں میں سوائے مولانا فضل الرحمان ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں بڑے واشگاف انداز میں ایک سے زائد بار پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اعلان کرچکی ہیں کہ فی الحال وہ موجودہ حکومت کو گرانے میں دلچسپی نہیں رکھتیں ان کی خواہش ہے کہ موجودہ حکومت کا قدرتی طور پر خاتمہ بالاالخیر ہونا چاہئے۔ ان کے خیالات کے مطابق نا تجربہ کار اور موقع پرست سیاستدانوں پر مشتمل موجودہ حکومت قوت فیصلہ سے محروم ہے اور وہ اپنے کسی وعدے یا فیصلے پر مشکل سے قائم رہتی ہے۔ حکومت کے پاس دن رات سوائے کرپشن کے ڈھول پیٹنے کے اور کچھ نہیں ہے ۔ عوام کو توقع تھی کہ تحریک انصاف کے برسر اقتدار آنے کے بعد ملک کے حالات میں مثبت تبدیلی آئے گی، مہنگائی اور بیروزگاری پر قابو پانے کے عملی اقدامات اٹھائے جائینگے ۔ اب تو حکومت کے سو دن کے ایجنڈے کی تکمیل کا بھی وقت قریب آچکا ہے اس مدت مٰں سوائے الزام تراشیوں کے عوام کے سامنے کچھ بھی نہ آسکا۔ عمران خان نے اپنی حکومت کے خلاف سازش کا جس دن انکشاف کیا اسی دن ملک بھر کے ٹی وی چینلز پر پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چودھری پرویز الٰہی، جہانگیر ترین اور وفاقی وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں چودھری پرویز الہٰی اور طارق بشیر چیمہ بیک زباں گورنر پنجاب چودھری سرور کے رویے کی شکایت کرتے نظر آرہے ہیں اور جہانگیر ترین سے درخواست کررہے ہیں کہ وہ گورنر پنجاب کو کنٹرول کریں۔اس ملاقات کی حکومتی حلقے بظاہر ڈرائنگ روم میں ہونے والی بے ضرر گفتگو  قرار دے رہے ہیں لیکن گفتگو کے بعد پریس کانفرنس میں چودھری پرویز الہی کے یہ الفاظ تمام صورت حال کو واضح کردیتے ہیں کہ کسی کو گلہ ہوتا ہے تو بات کرتا ہے گلے دور نہ ہوں تو غصہ سیکرٹ بیلٹ پر نکلتا ہے،جہانگر ترین نے اس گفتگو سے پید اشدہ صورتحال سے عمران خان کو آگاہ کردیا ہے۔ دوسرے دن وزیراعظم پاکستان عمران خان نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان سے بنی گالہ میں ملاقات کے دوران کہا کہ ہمارا ایجنڈا قومی تعمیر و ترقی اور ملک کو بحران سے نکال کر اپنے پاوں پر کھڑا کرنا ہے، سازشیں ہمارا کچھ بگاڑ نہیں سکتیں نہ ہم سازشوں کی پرواہ کرتے ہیں ۔ چودھری پرویز الہٰی وفاقی اور صوبہ پنجاب کی حکومتوں میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، ان کے یہ الفاظ یقیناً خطرے کی گھنٹی کی حیثیت رکھتے ہیں کہ گلے شکوے دور نہ ہوئے تو غصہ بیلٹ پیپر پر نکلتا ہے رہ گیا چودھری سرور کا معاملہ تو وہ اپنی طبیعت اورفطرت سے مجبور ہیں وہ اپنے آپ کو گورنر ہائوس میں ایک نمائشی و آرائشی کردار نہیں بلکہ انتظامی معاملات میں عمل دخل رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ملک کے بدعنوان سیاستدانوں اور بیورو کریٹس کو کیفرکردار تک پہنچانے والا ادارہ نیب اب خود چاروں طرف سے تنقید کا شکار ہے، اس کے بعض ناعاقبت اندیش اہلکاروں کی وجہ سے میڈیا اور عوام کی نگاہوں میں ادارہ مشکوک ہورہا ہے ۔ یہ ادارہ بھی تفتیش کے دوران بدنام زمانہ پولیس کے روایتی طریقہ کار کو اپنائے ہوئے ہے ، ادارہ اپنی افادیت کھو چکا ہے ۔ بڑھتی ہوئی شکایات کے تحت عدالت عالیہ کے چیف جسٹس ایک سے زائد بار نیب کو ہدایت جاری کرچکے ہیں کہ وہ زیر تفتیش افراد سے ہتک آمیز رویہ اختیار نہ کریں لیکن نیب کے باز اہلکار شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، عدالت کی ہدایات کے باوجود اپنے رویے پر نظرثانی کو تیار نہیں ہیں ۔ دوسری طرف ملک کی نوکر شاہی بھی نئی حکومت اور نیب کے رویے کو دیکھتے ہوئے ششو پنج میں مبتلا ہے اور وہ کوئی بھی فیصلہ کن کام کرنے کو تیار نظر نہیں آتے اس کا شکوہ خود وزیراعظم بھی کرچکے ہیں ۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی حکومت بیورو کریٹس کو گھر کے ذاتی ملازمین سے زیادہ حیثیت دینے کو تیا رنہیں ہے۔سرکاری ملازمین کے تبادلے جس طرح سے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیے جارہے ہیں اس سے انتظامی مسائل پیدا ہونا قدرتی عمل ہے ۔ پنجاب کی حکومت نے ایک نہیں درجنوں بیورو کریٹس کو کھڈے لائن لگانے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے، یہ نہ صرف انتیا نواب کیس کے فیصلے کی خلاف ورزی ہورہی ہے بلکہ عمران خان کی کارکردگی کو بھی متاثر کررہی ہے۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top