تازہ ترین
پلوامہ حملہ ۔۔۔ تنگ آمد بجنگ آمد

پلوامہ حملہ ۔۔۔ تنگ آمد بجنگ آمد

جیسا کہ پہلی دو اقساط میں بتایا جاچکا ہے کہ مودی سرکاری آئندہ عام انتخابات میں اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے پاکستان دشمن پالیسی کو ہرقیمت پر جری رکھنا چاہتی ہے خواہ داخلی طور پر اس کے نتائج بھارتی عوام کے درمیان ہی کیوں نہ نفرت اور تشدد کی شکل میں برآمد ہوں  ۔ مودی کی پاکستان دشمن مہم کا براہ راست اثر نہ صرف بھارت کے مسلمان بلکہ امن پسند ہندوئوں پر بھی پڑرہا ہے ۔ مہا سبھائی اور بھارتی جتنا پارٹی کے متعصب کارکنوں کے ہاتھوں بھارت کے تقریباً تمام چھوٹے بڑے شہروں میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کے ساتھ ساتھ مہا سبھا، اشترپرسیوک، سنگھ اور بھارتی جتنا پارٹی کے مخالفین پر بھی محض اس لئے حملے کیے جارہے ہیں کہ وہ حکومت کو فرقہ پرست پالیسی خاص طور پر پلوامہ کے واقعے پر حکومت کے حامی نہیں ہیں ۔ بنگلور میں آباد سندھی تاجر کی دکان کو محض اس وجہ س فرقہ پرستوں نے آگ لگا کر تباہ کردیا کہ اس کی دکان کا نام پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے موسوم تھا ۔ بھارت کے ممتاز سماجی کارکن ومن میشرام نے بھارت کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش میں جہاں بھارتی جتنا پارٹی کی حکومت ہے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی مرکزی حکومت اور فوجی اداروں کو پلوامہ میں ممکنہ تخریب کاری سےمتعلق خفیہ ایجنسیوں نے آٹھ روز قبل ہی تحریری طور پر آگاہ کردیا تھا لیکن نریندر مودی کی حکومت یا کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مودی حکومت اپنی انتخابی حکمت عملی کے تحت بھارت کے چالیس سے زائد جوانوں کو جان بوجھ کر ہلاک کروانا چاہتی تھی تاکہ پاکستان کے خلاف اپنی انتخابی مہم میں ہجیانی کیفیت پیدا کرکے پورے ہندوستان میں پاکستان کے خلاف جنگ کا ماحول پیداہو ۔ومن میشرام کے مطابق مودی سرکار اور کابینہ کی سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کے شرکا نے بھی اس خفیہ ایجنسی کی رپورٹ پر غور کرکے حفاظتی اقدام اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی جبکہ فوجی جوانوں نے بھی اپنے اعلیٰ حکام کو درخواست کی تھی کہ ہمیں بائے روڈ نہیں بائے ایئر منزل تک پہنچایا جائے لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی۔بحیثیت وزیراعلیٰ گجرات نریندر مودی کے یہ سوالات بھارت کی ہر حکومت پر لاگو ہوتے ہیں ۔گزشتہ دنوں پلوامہ میں جو حملہ ہوا اس پر پورا ہندوستان کرب کا شکار ہے، آج مرکز میں خود نریندر مودی حکمران ہیں جتنے سوالات انہوں نے بحیثیت وزیراعلیٰ منموہن سنگھ سے کیئے تھے  ان سوالوں کا جواب ان کو بھی دینا پڑے گا اگر ان کے پاس جواب نہیں ہے تو پھر ملک میں جنگ کی فضا کیوں پیدا کی جارہی ہے خاص طور پر پلوامہ واقعے کے بعد بھارت کے سنجیدہ اخبارات تواتر کے ساتھ پلوامہ واقعے کے پس منظر میں نریندر مودی جب گجرات کے وزیراعلیٰ تھے، کشمیر میں بھارتی افواج کے چند نوجوانوں کے سر کاٹنے کا رونا روتے تھے، اس وقت نریندر مودی نے وزیراعظم منموہن سنگھ سے پانچ اہم سوالات دریافت کیئے تھے، یہی سوالات آج بھارت کے عوام مودی سے بھی پوچھ رہے ہیں کہ

دہشت گردوں کو اسلحہ، گولہ بارود کہاں سے ملتا ہے؟ جب ساری سرحد بھارتی فوج کے قبضے میں ہیں پھر اسلحہ بارود کشمیر میں کیسے پہنچتا ہے؟ تین کلو آتش گیر مادہ پلوامہ کیسے پہنچا؟ کیا لاپروائی غفلت پرتنے پر کسی کسٹم ، پولیس اہلکار یا سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف مقدمات قائم ہوئے؟

دہشت گردوں کے پاس فنڈ کہاں سے آتا ہے جبکہ ملک کا سارا لین دین بینکوں کے ذریعے ہوتا ہے اگر پیسہ باہر سے آتا ہے تو دہشت گردوں کو بھارتی کرنسی کون فراہم کرتا ہے؟

دہشت گرد اپنا مشن مکمل کرکے واپس کس طرح سرحد پار چلے جاتے ہیں جبکہ باڈر سیکیورٹی فورس نیوی اور فضائیہ آپ کے براہ راست کنٹرول میں ہیں؟ نریندر مودی کے پوچھے گئے سوالات آج خود ان سے جواب طلب کررہے ہیں، نریندر مودی جو بھارت کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں ان کے دور میں بھارت میں اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر بھارت کے سابق اور موجودہ چیف جسٹس صاحبان بھی انگلیاں اٹھارہے ہیں۔بھارت کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، گزشتہ دنوں بھارت میں اعلیٰ ملازمتوں کے امتحان میں اول پوزیشن حاصل کرنے والے آئی اے ایس شاہ فیصل نے دس سال تک بھارت سرکار کی ملازمت کرنے کے بعد کشمیر میں بھارتی حکومت کے ظلم و تشدد کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں جاری قتل و غارت گری کا نہ رکنا حکومت کی طرف سے اس کو نہ روکنے کی کوشش کرنا ہے ۔ مسلمانوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کا برتائو کرنا اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ نفرت ، عدم برداشت کا ماحول ہونا جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کو لاحق خطرات شامل میں ہیں ۔ جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک ذہین باصلاحیت اور قابل افسر کا اپنے کیریئر کے صرف دس سال کے اندر بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک پر صدائے احتجاج کس بات کی غمازی کرتا ہے فیصل کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام تشدد کی راہ پر اس لئے چلنے پر مجبور ہوئی کہ بھارتی حکومت پرامن طریقے سے ان کی بات سننے پر تیار نہیں ہیں ۔ حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کی وزارت عظمی سے سبکدوش ہونے والی محبوبہ مفتی خاندانی طور پر کشمیر کے بھارت میں ضم ہونے کی حامی رہی ہیں ان کے والد مفتی محمد سعید جو شیخ عبداللہ کے ساتھی رہے ہیں اور خود بھی بخشی غلام محمد کے بعد مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ رہے ہیں، محبوبہ مفتی نے بھارت کے مشہور پروگرام ‘‘آپ کی عدالت’’ میں بھارتی حکومت کے اس دعویٰ کو انتہائی غلط اور بے بنیاد قرار دیا کہ پاکستان آج سفارتی سطح پر تنہائی کا شکار ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ آج سعودی عرب، خلیجی تمام ریاستیں، چین، روس، ملائیشیا، ترکی، ایران اور افغانستان پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ پاکستان امریکا کے اسٹریٹجک پارٹنر رہے طالبان سے امریکا کے مذاکرات کروارہا ہے ، امریکا کو پاکستان کی ضرورت ہے۔عرب ممالک، چین، روس اور امریکا بھارت کو صرف دوست کہتے ہیں جبکہ پاکستان کو اپنا بھائی قرار دیتے ہیں ۔ محبوبہ مفتی نے دوٹوک انداز میں اینکر کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو کشمیر کشمیریوں کے بغیر چاہیئے کچھ عقل کی بات کریں، اینکر نے پاکستان کے دنیا بھر سے مالی امداد کے لئے بھیک مانگنے کی پھبتی کسی تو محبوبہ مفتی نے کہا کہ جی ہاں پاکستان کا وزیراعظم مالی امداد کے لئے بیٹھ کر برابری کی سطح پر مذاکرات کرتا ہے جبکہ مودی جو سعودی عرب کے شہزادے کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوکر امداد کے معاہدے پر دستخط کرارہے ہیں ۔ محبوبہ مفتی کا یہ انٹرویو بھارت کی خارجہ پالیسی خاص طور پر کشمیر کے عوام کو غلام بنائے رکھنے کی پالیسی کی مکمل عکاسی کرتا ہے ۔ مودی سرکار اپنے اندرونی حالات سے گھبرا کر بھارت کے عوام کو جنگ کی بھٹی میں جھونکنا چاہتے ہیں جبکہ پاکستان مسلسل مودی کو کشمیر سمیت تمام تنازعات کو پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی دعوت دے رہا ہے ۔ پاکستان نے مودی پر واضح کردیا ہے کہ اگر وہ آگ و خون کی ہولی کھیلنا چاہتا ہے تو پاکستان بھی تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق بھرپور جواب دینے کے لئے تیار ہے ۔ ختم شدہ

Comments are closed.

Scroll To Top