تازہ ترین
پلوامہ حملہ۔۔۔بھارت ذمے دار (حصہ دوئم )

پلوامہ حملہ۔۔۔بھارت ذمے دار (حصہ دوئم )

فاروق عبداللہ کے بھارت کی اقلیتوں کے متعلق بیان کی تائید آزادی کے بعد بھارت میں اقلیتوں پر ہونے والے ظلم و تشدد کے ہزاروں واقعات ہندو ستان کے اخبارات کے صفحات پر آج بھی موجود ہیں خاص طور پر منتخب بھارتی حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں نے مسلمانوں اور عیسائیوں یہاں تک کہ نچلی ذات کے ہندوئوں کو ہزاروں کی تعداد میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ جب سے بھارت میں انتہاپسند جماعات بھارتیہ جتنا پارٹی مودی کی قیادت میں برسراقتدار آئی ہے اقلیتوں کے حالات ماضی کے مقابلے میں زیادہ خراب ہوئے۔ گئو رکشا کی تحریک ہو یا مسلمان اکابرین اور بادشاہوں کے نام سے موسوم شہر کی سڑکیں ہو یا عمارات کے ناموں کی شدھی یہ سب ایسے اقدامات ہیں جن سے بھارتی جتنا پارٹی کی مسلمانوں سے نفرت کے جذبات کا اظہار ہوتا ہے۔ ناموں کی تبدیلی کے عمل پر خود بھارت کے سنجیدہ حلقوں نے اپنی بیزاری کا اظہار کیا خاص طور پر فلم انڈسٹری کے نامور اداکار نصیر الدین شاہ، جاوید جعفری اور دیگر نے حکمران جماعت کے نام تبدیل کرنے کے فیصلے پر نکتہ چینی کی تو نہ صرف مہا سبھا کے منتخب ارکان اسمبلی بلکہ صنت اور سادھوئوں نے بھی مسلم اداکاروں کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا۔ اردو ادب میں متعدد شعرا ایسے گزرے جنہوں نے اپنے آبائی شہروں کے ناموں کو اپنے اسم گرامی کا لازمی جزو بنارکھا تھا مثلا جگرمراد آبادی اور اکبر الہ آبادی ان شعرا کو وفات پائے عرصہ گزرچکا ہے کیا ان کے کلام سے یہ نام مٹائے جاسکتے ہیں ۔ بھارت کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش میں بھارتی جتنا پارٹی کی صوبائی حکومت کی قیادت مہا سبھائی ذہنیت کے سادھو کے سپرد ہے اس کے دور میں صوبے بھر میں آوارہ گائے مسلمان اور ہندوئوں کی زراعت کے لئے زبردست خطرہ بن چکی ہیں۔  یوپی میں مسلمانوں کے لئے اپنی گائے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا فسادات کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔گزشتہ تین سالوں میں درجنوں مسلمانوں کی متعصب ہندوئوں نے محض اس شبہے پر سنگسار کرکے سرعام ہلاک کردیا کہ وہ گئوماتا کو ذبح کرنے کی غرض سے لے جارہا تھا ۔ بھارتی اخبارات کے مطابق 2017 میں اترپردیش کے وزیراعلیٰ ادتیہ ناتھ یوگی نے وزارت کے حلف اٹھائے ہی بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے دست راست آمیت شاہ کے ساتھ پورے صوبے کے مذبح خانوں کو مسمار کردیا اس کا مقصد صوبے کی پوری قریشی برادری کو بے روزگار کرنا تھا ۔ اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والے زراعت پیشہ عوام اب گائے پالتے ہوئے خوف محسوس کرنے لگے ہیں مسلمانوں کا کہنا ہے کہ جب سے ملک میں جتنا پارٹی برسراقتدار آئی ہے بھارت کا ماحول بدل چکا ہے ۔ جتنا پارٹی کے متعصب رویے کی بنا پر یوپی میں گنگا جمنا تہذیب متاثر ہوئی ہے یقینا اس سے آئندہ عام انتخابات میں جتنا پارٹی کو نقصان ہوگا ۔ بھارت کے سوشل میڈیا پر گزشتہ دنوں ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک ویٹنری ڈاکٹر ایک مسلمان کو رشوت دینے کی دھمکیاں دے کر کہہ رہا تھا کہ اگر اس نے مطلوبہ رشوت نہ دی تو وہ اپنی رپورٹ میں بھینس کے گوشت کو گائے کا گوشت لکھ دے گا ۔ مسلمان اپنے گھر میں منعقدہ ایک تقریب کے مہمانوں کے لئے 5 کلو بھینس کا گوشت لے جارہا تھا کہ اس کو پکڑلیا گیا۔ مودی سرکار مسلم نوجوانوں میں ابھرتے ہوئے سیاسی شعور کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے کوئی دن ایس نہیں جاتا جب بھارت کے کسی نہ کسی علاقے میں مسلمانوں خاص طور پر مختلف دینی مدرسوں اور تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم نوجوان دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے کے الزام میں گرفتار نہ ہوتے ہوں ۔ گزشتہ سال دسمبر کے شروع میں خفیہ پولیس کے اہلکاروں نے بیک وقت لکھنو ، امروہہ،  دہلی اور میرٹھ میں چھاپے مار کر متعدد مسلم نوجوانوں کو حرکت اسلام نامی تنظیم کا دہشت گرد قرار دے کر گرفتار کیا۔گرفتار شدگان میں مفتی سہیل اور اسکی والدہ بھی شامل ہیں، حراست میں لئے جانے والے طالبعلموں کے قبضے سے خودکش جیکٹس ، راکٹ اور دوسرے مہلک ہتھیار برآمد ہوئے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی یہ کارروائی کا سلسلہ تادم تحریر جاری ہے ۔ سہیل کے جن ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ان میں رئیس، سعید اور ارشاد نامی نوجوان بھی شامل ہیں ۔ پکڑی جانیوالی خاتون پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ دہشت گردوں کو گولہ بارود خریدنے کے غرض سے رقوم مہیا کرتی تھی ۔ پولیس ملزمان کے گھر سے برآمد ہونے والے لوہے پائپ کو راکٹ لانچر قرار دے رہی ہے، ملزمان اپنے گھر کے قریب علاقے میں بلڈنگ کی دکان میں کام کرتے ہیں ان کی دکان میں رکھے ہوئے ہائیڈرولک جیک کو راکٹ لانچر قرار دیا جارہا ہے ۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی نے ایک دوسرے چھاپے کے دوران دو نوجوانوں کو جن میں سے ایک نابالغ بچہ ہے دہلی میں منعقدہ یوم جمہوریہ کی تقریبات کو دھماکوں سے اڑانے کی سازش کررہے تھے ۔ گرشنا رشدہ نوجوان کا ممتاز تحریک آزادی کے کارکن نوید بابو سے قرار دیا جارہا ہے جس نے 2017 میں بھارت کے ظلم و تشدد کے خلاف مسلح جدوجہد کی تحریک میں شرکت اختیار کی ۔ ایک طرف بھارت میں مسلمان نوجوانوں کو دہشت گرد قرر دے کر کال کوٹھڑیوں میں ڈالا جارہا ہے تو دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے متوالے نوجوانوں میں بھارت کی غلامی سے آذادی حاصل کرنے کی تحریک زور پکڑرہی ہے ۔واقعے کے بعد نصف درجن سے زائد جھڑپوں میں بھارت کی قابض افواج متعدد نوجوانوں کو ہلاک کرچکی ہے جبکہ حریت پسندوں کے ہاتھوں بھارت کی جابر فوج کا ایک میجر اور متعدد اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں ۔ ماضی کے برعکس اس مرتبہ بھارت خود ساختہ دہشت گردی کے واقعات میں پاکستان کو ملوث کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے ۔ بھارت کی طرف سے پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دینے پر خود بھارت کے سنجیدہ سیاستدان نریندر مودی کا مذاق اڑارہے ہیں اور متنبہ کررہے ہیں کہ وہ ہتھیاروں کی زبان استعمال کرنے سے احتراز کریں کیونکہ آج کا پاکستان 1970 سے انتہائی مختلف ہے۔ گو پاکستان رقبے اور مسلح افواج کی تعداد کے لحاظ سے بھارت سے کم ہے لیکن اسکی جنگی صلاحیت بھارت سے کئی گنا زیادہ بہتر ہے۔ پاکستان پر حملہ کرنے کی مخالفت کرنے والوں میں بھارت کے سابق چیف جسٹس، بنگال کی وزیراعلیٰ ممتازبینرجی کانگرنس کے سیکریٹری جنرل اور دیگر قابل ذکر سیاسی رہنما شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل امریکا، ترکی، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنمائوں نے بھی بھارت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی راہ اختیار کرے  یہاں تک کہ بھارت کے سنجیدہ صحافیوں نے بھی نریند مودی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے معاملات کو اس نہج پر نہ لے جائیں کہ جس سے تباہی و بربادی کے سوا کچھ بھی نہیں حاصل ہوگا۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top