تازہ ترین
پرتشدد واقعات، پنجاب حکومت کی خاموشی

پرتشدد واقعات، پنجاب حکومت کی خاموشی

پاکستان کی موجودہ پارلیمنٹ کو وجود میں آئے چار ماہ مکمل ہونے والے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران جو کشیدگی پیدا ہوئی تھی وہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ پارلیمنٹ کے باہر بعض مذہبی و سیاسی جماعتیں جلاو گھیراو کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں تو پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن اور حزب اقتدار کے مہم جو اور شعلہ بیان ارکان پارلیمنٹ ناصرف جسمانی تشدد کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں بلکہ خواتین ارکان کی موجودگی میں مغلظات گالیوں کا بھی تبادلہ کرتے نظر آتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے پارلیمنٹ کے اب تک تمام اجلاسوں میں مکمل غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا ، حزب اختلاف اور حکومتی ارکان اسپیکر کے سلوک اور رویے سے کلی طور پر مطمئن نظر آتے ہیں لیکن کچھ مواقع پر اسپیکر صاحب چند ارکان کے غیر پارلیمانی رویے کی وجہ سے پارلیمنٹ کی کارروائی کو جاری نہ رکھ سکے۔ پارلیمنٹ کے اندر و باہر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے تجویز پیش کی جس میں سپارکو سے درخواست کی کہ وہ ہمارے دو چار فساد پھیلانے والے سیاستدانوں کو خلا میں چھوڑ آئیں اور انکی واپسی کا راستہ بھی نہ چھوڑیں اگر انکی اس تجویز پر عمل درآمد ہوا تو فساد پھیلانے والوں کی فہرست میں یقینی طور پر فواد چوہدری کا بھی نام شامل ہوگا کیونکہ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب وہ ٹی وی پر آکر بھس میں جلتی ہوئی ماچس کی تیلی نہ ڈالتے ہوں۔پارلیمنٹ کے سینئر رکن اور سابقہ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کی گزشتہ 5 سالہ کارروائی کا جائزہ لیا جائے اور اسکی روشنی میں فسادی ارکان کو خلا میں بھیجا جائے تو اس میں موجودہ حکمران جماعت کے ارکان اسمبلی کی بہت بڑی تعداد شامل ہوگی اور یہ ایوان خالی ہوجائے گا۔ تحریک لبیک کے تین روزہ دھرنے سے پیدا شدہ صورتحال پر سینیٹ کے قائد ایوان اور تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز کا تبصرہ بالکل درست ہے کہ ریاست سیاسی طاقت کے خواہشمند مذہبی افراد کی یرغمال بن گئی ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذہبی سیاسی جماعتوں کو کن لوگوں نے دھرنا اور جلاو گھیراو کی راہ پر ڈالا ہے بقول فواد چوہدری کے حالیہ جلاو گھیراو اور پرتشدد واقعات میں مسلم لیگ ن ،پیپلز پارٹی،جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام  نے اپنے آپ کو مکمل طور پر اس سے علیحدہ رکھا پھر انکی خلا میں بھیجنے والی تجویز صرف مسلم لیگ ن کے لیے کیوں ؟ فواد چوہدری کے مطابق اگر مسلم لیگ ن کی قیادت خلا میں چلی جائے تو انکی ملاقات خلائی مخلوق سے بھی ہوجائے گی لیکن اب یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خلائی مخلوق سے کس کی پرانی شناسائی ہے۔حق دوستی کا تقاضہ تو یہ ہے کہ اپنے پرانے تعلقات کو صرف تین ماہ کے اقتدار کے اندر فراموش نہیں کرنا چاہیئے ۔اخبارات کے مطابق اشتعال انگیز تقاریر کرنے والے تحریک لبیک کے رہنماوں کو حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت وزیر اعظم ،آرمی چیف اور سپریم کورٹ کے تین ججوں کے خلاف دیے گئے متنازع ویڈیو بیان پر استثنٰی دیا جا چکا ہے اس کے تحت حکومت پیر افضل قادری کے اشتعال انگیز بیان کو نظر انداز کرنے کی پابند ہے لیکن وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان ہونے والے معاہدے میں پیر افضل قادری کو استثنٰی ملنے کی تردید کی ہے۔ ان حالات و واقعات کے پیش نظر وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا یہ فیصلہ انتہائی خوش آئند ہے جس میں انہوں نے ملک کے تمام صوبوں کو جشن ولادت رحمت العالمین منانے کی ہدایت کی ہے انکا کہنا ہے کہ ہم دنیا کے سامنے پرامن اسلام کا امیج پیش کرنا چاہتے ہیں ۔عمران خان کی ہدایت پر وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ بھی انتہائی مستحسن ہے جس میں حالیہ پرتشدد احتجاج کے دوران جن کی املاک کو نقصان پہنچا ہے انکی بھی داد رسی کی جائے اور ساتھ ہی پنجاب حکومت کو جلد از جلد معاوضہ پیکج تیار کرنے کی بھی ہدایت کی ہے لیکن کتنا ہی اچھا ہوتا کہ اگر پرتشدد واقعات کے انسداد میں پنجاب حکومت کے کردار اور خاموشی کی بھی تحقیقات کراکر معلوم کیا جائے کہ آخر وہ کونسی وجوہات تھیں جس کی وجہ سے پورے صوبے کی انتظامیہ پورے تین دن صوبے کے عوام کی جان ومال کے تحفظ میں ناکام رہی ۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top