تازہ ترین
پاک فوج کاچیف جسٹس سےعدلیہ کی جانب سے اداروں پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ

پاک فوج کاچیف جسٹس سےعدلیہ کی جانب سے اداروں پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ

راولپنڈی (22جولائی، 2018)پاک فوج نے چیف جسٹس ثاقب نثار سے عدلیہ کی جانب سے قومی اداروں پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کردیاہے۔

ترجمان پاک فوج  جانب سے ٹوئیٹ میں ہائیکورٹ کے جج کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات پر سریم کورٹ سے ضروری کارروائی کی درخواست کی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور نے کاکہناتھا کہ ہائی کورٹ کے ایک جج نے ریاستی اداروں پر الزامات لگائے اس صورتحال میں تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ ریاستی اداروں کا وقار و احترام یقینی بنایا جاسکے۔

چیف جسٹس کاجسٹس شوکت عزیز صدیقی کی تقریر کا نوٹس

اس سے قبل آج ہی کےدن  اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی تقریر پر چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے نوٹس لیتے ہوئے  کہا کہ وہ سختی کے ساتھ واضح کر رہے ہیں کہ عدلیہ  پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار کاکہناتھا کہ کسی میں جرات  نہیں کہ عدلیہ پہ دباؤ ڈال سکے عدلیہ پوری طرح آزاد اور خود مختار ہیں ۔

چیف جسٹس کاکہناتھا کہ ہم قانون کی بالادستی اور آئین کے تحت کام کر رہے ہیں۔

ویڈیودیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیں

گزشتہ روز جسٹس شوکت کی جانب سے کی جانے والی تقریر پر چیف جسٹس آف پاکستان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نوٹس لے لیا اور تقریر کے حوالے سے تحقیقات کا حکم بھی دے دیاہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جسٹس شوکت عزیز نے گزشتہ روز وکلاء کے خطاب کے دوران حساس اداروں کی جانب سے عدلیہ میں مداخلت کرنے کا الزام عائد کیاتھا۔

جسٹس ثاقب نثارنے کہا بطور عدلیہ سربراہ میں یقین دلاتا ہوں ہم پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں۔ان کا مزید کہناتھا کہ اسلام آباد کے ایک جج کا بیان پڑھا، بہت افسوس ہوا اس طرح کے بیانات ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہیں اس معاملے پر قانونی کارروائی کریں گے اور حقائق قوم کے سامنے لائیں گے ،عدلیہ پر کوئی دباؤ نہیں ہے پھر بھی حقائق قوم کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top