تازہ ترین
پاک سعودی مشترکہ بحری مشق کا ہاربر فیز اختتام پذیر

پاک سعودی مشترکہ بحری مشق کا ہاربر فیز اختتام پذیر

کراچی (12 فروری 2018) پاک سعودی بحری افواج کے مابین منعقد ہونے والی مشترکہ بحری مشق کا ہاربر فیز اختتام پذیر ہوگیا۔

پاکستان اور سعودی عرب کی بحری افواج کے مابین بندرگاہ الجبیل سعودی عرب میں منعقد ہونے والی مشترکہ بحری مشق نسیم البحر کا پہلا مرحلہ اختتام پذیر ہوگیا۔

ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبایے

مشق کا پہلا مرحلہ بحری آپریشنز کی مختلف جہتوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے ہاربر کی سرگرمیوں کے سلسلے پر مشتمل تھا۔

ہاربر فیز میں دونوں ممالک کی بحری افواج کے مابین مشق کے سی فیز کے دوران کیے جانے والے مشترکہ آپریشنز کی منصوبہ بندی کی گئی۔

ابتدائی مرحلے کے دوران پاک بحریہ اور سعودی بحریہ کے جہازوں اور بندرگاہ پر مختلف تنصیبات پر متعدد تربیتی سرگرمیاں کی گئیں۔

اس فیز میں دونوں ممالک کی بحری افواج نے ایمفیبئیس لینڈنگ آپریشنز، ایسکورٹنگ آپریشنز، اسنائپر/ کیمو فلاج تکنیک اور مائن کاﺅنٹر میژرز کی مشقوں کی منصوبہ بندی کے ماڈیولز کی ریہرسل کی۔

پاکستان نیوی کے مشن کمانڈر اور سعودی بحریہ کی جانب سے مشقوں کے ڈائریکٹر نے ہاربر فیز کی تمام سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کی۔

قبل ازیں مشترکہ مشقوں کی افتتاحی بریفنگ بھی منعقد کی گئی جس میں مشقوں کے ارتقا اور مختلف مراحل کی تفصیلات پر روشنی ڈالی گئی۔ پاک بحریہ کے مشن کمانڈر اور سعودی نیوی کی جانب سے مشق کے ڈائریکٹر بھی اس موقع پر موجود تھے۔

پاک سعودی مشترکہ بحری مشق نسیم البحرکے مقاصد میں دونوں بحری افواج کے مابین مشترکہ آپریشنز اور دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دینا، بحری قذاقی کی روک تھام، اینٹی ایئر اینڈ سرفیس وارفیر اور مائن کاﺅنٹر میژرز وارفیر آپریشنز کی مشق کرناشامل ہے۔

ان مشقوں سے غیر روایتی، فضائی، سرفیس اور مائن وار فئیر خطرات کے خلاف مشترکہ صلاحیت کو بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔ ہاربر فیز کے مکمل ہونے کے بعد مشق نسیم البحر سی فیز میں داخل ہوجائے گی۔

اس مشق کے ساتھ ساتھ پاک بحریہ اور سعودی عرب کی میرینز بھی مشترکہ مشق دیرہ الساحل میں حصہ لے رہے ہیں۔ موجودہ مشق، نسیم البحر مشق کے سلسلے کی گیارہویں مشق ہے جو کہ 17 فروری تک سعودی عرب کے پانیوں میں جاری رہے گی۔

پاکستان اور سعودی بحری افواج کے درمیان مشترکہ مشق کا انعقاد خطے کی موجودہ سیاسی و جغرافیائی صورتحال کے تناظر میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

یہ مشق دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی۔ 1993 سے جاری یہ مشق آج اعلی سطح کی بحری مشقوں کی شکل اختیار کرچکی ہیں جس میں بحری مشق کے تمام پہلو شامل ہوتے ہیں۔

دونوں ممالک کی جانب سے اس مشق میں بڑے پیمانے پر شرکت کرنا دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والے یقین اور بھروسے کا غماز ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی پاکستان سپر لیگ فائنل:سیکیورٹی اہلکاروں کی فل ڈریس ریہرسل

سنجوان کیمپ حملہ: پاکستان نے بھارتی میڈیا کے الزامات کو مسترد کر دیا

Comments are closed.

Scroll To Top