تازہ ترین
پاک امریکا تعلقات۔۔۔ 1947ء سے اب تک

پاک امریکا تعلقات۔۔۔ 1947ء سے اب تک

تحقیق: محمد فراز

۔(21 ستمبر 2017) اگست 1947 ء میں امریکا نے برطانیہ کے حکمرانوں سے بھارت کی آزادی کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کو تسلیم کرنے کے والے ممالک میں شامل ہوا۔

پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو 1950ء میں روس کے وزیر خارجہ کی جانب سے ماسکو کے دورے کیلئے ایک مدعو کیا گیا۔ لیاقت علی خان کو واشنگٹن کی طرف سے بھی مدعو کیا گیا تھا تاہم انہوں امریکی ریاست کے دورے کا فیصلہ کیا۔

سن 1954ء میں سوویت کی توسیع کے خدشات کے حوالے سے امریکا اور پاکستان نے باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیا۔ 1953ء سے 1961ء تک پاکستان میں 508 ملین ڈالرز کی فوجی امداد دی۔سن 1955ء میں پاکستان نے دو امریکی سپانسر علاقائی دفاعی تنظیموں (ساؤتھ ایسٹ ایشیاء ٹریٹی آرگنائزیشن اور سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن)میں شمولیت اختیار کی۔ جس کے نتیجے میں اسلام آباد نے 1953ء سے 1961ء تک امریکی امداد میں مزید تقریباً 2 بلین ڈالر وصول کیے۔سن 1962ء میں بھارت اور چین کی جنگ کے دوران امریکا نے بھارت کو فوجی اور معاشی دونوں امداد کی پیشکش کی۔صدر کینیڈی نے پاکستانی صدر محمد ایوب خان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر امریکا نے ہندوستان کو فوجی امداد دینے کا فیصلہ کیا تو وہ سب سے پہلے ایوب خان سے گفتگو کریں گے۔سن 1965ء میں کشمیر کے تنازع پر بھارت کے ساتھ دوسری جنگ کے دوران امریکا نے دونوں ممالک کو امداد سے محروم کردیا۔سن 1971ء میں پاک بھارت تنازع کے باعث امریکا نے ایک بار پھر پاکستان کو فوجی امداد معطل کردی۔سن 1975 ء میں امریکا نے پاکستان کو دوبارہ محدود مالی امداد شروع کردی۔سن 1979ء میں یورینیم افزائش کی سہولیات کی تعمیر کے بعد امریکا نے ایک بار پھر فوجی امداد معطل کردی۔سن 1980ء میں امریکا نے افغانستان میں سوویت مداخلت کے بعد پاکستان کو فوجی امداد کا وعدہ کیا۔ امریکا نے شمالی پاکستان کو ہتھیاروں اور سعودی جنگوؤں کی افغانستان منتقلی کیلئے رسدگاہ بنادیا۔سن 1981ء میں امریکا نے پاکستان کو 3.2 بلین ڈالرز کے پانچ سالہ اقتصادی اور فوجی امداد کی پیشکش کی۔ جس کے بعد پاکستان، افغان جنگ میں امریکا کا اہم اتحادی بن گیا۔سن 1990ء میں پریسلر ترمیم کے تحت امریکی فوجی امداد دوبارہ معطلی کا شکار ہوگئی۔سن 1992ء میں امریکا نے پاکستان پر پابندی میں دوبارہ نرمی کرتے ہوئے معاشی امداد شروع کردی۔سن 1998ء میں بھارت کی جانب سے کے کئی آلات تباہ کیے جانے کے بعد پاکستان نے اپنا ایٹمی تجربہ کیا۔ امریکا نے اقتصادی اور زراعت کی امداد میں پاکستان کو 140 ملین ڈالرز بھیجے، لیکن ایٹمی ٹیسٹ کے باعث تمام غیر انسانی امداد پر مکمل پابندیاں لگادیں۔سن 1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کا تختہ پلٹا۔ امریکا نے فوجی حکومت کیلئے محدود پیمانے پر امداد بحال کردی۔ستمبر 2001ء میں صدر مشرف نے دہشتگردی کے خلاف لڑائی میں صدر بش کو غیر مستحکم تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ امریکا نے 1998ء کے ایٹمی ٹیسٹ اور 1999ء کی بغاوت کے بعد پاکستان پر لگائی جانے والی کچھ پابندیاں ہٹادیں۔ جس کے بعد امریکا کی جانب سے پاکستان کو بڑی امداد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

سن 2002ء میں امریکا نے پاکستان کیلئے 350 ملین ڈالرز کا اعلان کیا، جبکہ فوج کیلئے 510 ملین ڈالرز مختص کیے۔سن 2003ء میں صدر بش نے پاکستان کیلئے 3 بلین ڈالرز کے پانچ سالہ پیکیج کا اعلان کیا۔ بغاوت سے متعلق پابندیوں میں توسیع اور خاتمے دونوں کیلئے قانون سازی کانگریس میں پیش کی گئی۔سن 2004ء میں امریکا نے پاکستان کو نیٹو کا غیر اتحادی قرار دیا۔سن 2005ء میں آنے والے خوفناک زلزلے امریکا نے 510 ملین ڈالرز کی امداد کا وعدہ کیا۔مارچ 2006ء میں صدر بش کے دورہ پاکستان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جمہوری تعلقات مضبوط ہوئے۔سن 2007ء میں واشنگٹن نے صدر مشرف اور اپوزیشن لیڈر بے نظیر بھٹو کے درمیان طاقتی اشتراک کو توڑنے کی کوشش کی۔سن 2008ء میں صدر پرویز مشرف نے استعفیٰ دیا۔ یہ استعفیٰ پاک امریکا تعلقات میں ایک اہم دور کا خاتمہ سمجھا جاتا ہے۔اکتوبر 2009ء میں کیری لوگر بل منظور کیا گیا۔ بل کے تحت 7.5 ارب ڈالرز کی غیر فوجی امداد دی گئی۔ بعض مخصوص حالات میں امریکا کی جانب سے پاکستان میں فوج پر بے اعتمادی دیکھی گئی۔یکم دسمبر 2009ء کو صدر براک اوباما نے پاکستان کے ساتھ باہمی اعتماد اور احترام کی بنیاد پر تعلقات وسیع کرنے کا فیصلہ کیا۔فروری 2010ء میں اوبامہ انتظامیہ نے اضافی 3 بلین ڈالرز امداد کی درخواست کی۔ 2002ء سے 2010ء تک پاکستان نے امریکہ سے فوجی اور اقتصادی امداد میں تقریباً 18 بلین ڈالر وصول کیے ہیں۔اکتوبر 2010ء میں امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ ایلن لارسن نے پاکستانی برآمدات کی ترجیحی بنیادوں پر مراعات کیلئے 3 بلین ڈالرز کی پیشکش کی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد پاکستان سے کنارہ کشی اختیار نہیں کریں گے۔جنوری 2011ء میں ریمنڈ ڈیوس نے 2 پاکستانیوں کو قتل کردیا۔ اس واقعے نے پاک امریکا تعلقات میں کچھ کشیدگی پیدا کی۔مئی 2011ء پاکستانی صحافی سلیم شہزاد کو قتل کردیا گیا۔ امریکی ایڈمرل مولن نے الزام لگایا ہے کہ یہ ’’قتل حکومت کی طرف سے منظور کیا گیا تھا‘‘۔ آئی ایس آئی نے یہ بیان مسترد کردیا تھا۔دو مئی 2011ء میں آپریشن نیپیوون سپیئر کے تحت امریکا نے پاکستانی سرزمین پر طالبان کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کردیا تھا۔ اس کارروائی سے متعلق پاکستان کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ امریکا کو ڈر تھا کہ پاکستان کو اس مشن کے بارے میں آگاہ کرنے سے یہ خفیہ کارروائی پہلے ہی بے نقاب ہوسکتی تھی۔سن 2011ء میں ہی امریکی فضائی حملے میں 24 پاکستانی فوجی شہید کردیئے گئے جس کے بعد پاک امریکا تعلقات کشیدہ ہوگئے۔حملے کے بعد پاکستانی حکومت نے امریکی فوج کو سلیمان ایئر بیس (جو طالبان اور عسکریت پسندوں کے خلاف استعمال کیا جاتا تھا) سے نکلنے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ حکومت نے امریکا کیلئے نیٹو سپلائی بھی روک دی۔نپٹون سپیئر میں امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو غداری کے الزام میں 33 سال کی قید کی سزا سنائی گئی۔ امریکی کانگریس نے پاکستان کی امداد سے 33 ملین ڈالرز کاٹ لیے۔نیٹو کے سیکرٹری جنرل اینڈرس فوگ راسموسن نے پاکستان سے نیٹو سپلائی کے راستے بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ مئی 2012ء میں شکاگو میں منعقد ہونے والے 25ویں نیٹیو سربراہ اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔انیس مئی کو آصف زرداری نے نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کی لیکن پاکستان اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے نہیں ہوسکا۔آٹھ جون 2012ء کو امریکی سیکریٹری دفاع کے اسسٹنٹ پیٹر لیوئی اسلام آباد پہنچے۔ ان کی جانب سے نیٹو کی سپلائی پر 6 ماہ کی بندش کا خاتمہ کرانے کی کوشش کی گئی۔گیارہ جون 2012ء کو امریکا نے اپنی ناکامی کے سبب مذاکرات سے انکار کردیا۔تین جولائی 2012ء کو ہیلری کلنٹن کی جانب سے فضائی حملے میں ہونے والے نقصان پر معذرت کے بعد افغانستان کو اہم فراہمی کے راستے دوبارہ کھول دیئے گئے۔سن 2015ء میں اسلام آباد میں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آغاز ہوا۔ جان کیری نے سرتاج عزیز سے پانچ مختلف علاقوں میں ترقی کا جائزہ لینے کیلئے ملاقات کی۔مارچ 2016ء میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاک امریکہ اسٹریٹیجک ڈائیلاگ،انسداد دہشتگردی سمیت اہم امور پر بات چیت کی گئی۔اپریل 2016ء میں امریکا نے پاکستان کو 9 اے ایچ ون زیڈ وائپر جنگی ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ 170 ملین ڈالرز سے زائد مالیت کے ہیلی کاپٹرز کی تیاری کا کام ستمبر 2018ء تک مکمل ہوگا۔اگست 2016ء میں امریکا نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر پاکستان کو پیٹھ دکھا دی۔ پینٹاگون نے پاکستان کو30 کروڑ ڈالرز کی دفاعی امداد روک دی۔دسمبر 2016ء میں امریکا نے سندھ طاس معاہدے پر اپنا کردار ادا کرنے کی حامی بھری۔ امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا کہ امریکہ سندھ طاس معاہدے کا پاکستان اور بھارت کیلئے قابل قبول حل تلاش کرنے کو تیار ہے۔اپریل 2017ء میں امریکا نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی۔ اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر نکی ہیلی نے کہا کہ صدر ٹرمپ دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کے عمل میں شریک ہوسکتے ہیں۔مئی 2017ء میں پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری نے امریکی قومی سلامتی مشیر لیفٹیننٹ جنرل میک ماسٹر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاک امریکا تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ افغانستان میں قیام امن اور سرحدی استحکام کے امور بھی زیر غور آئے۔جولائی 2017ء میں پاکستانی سفیر سے پاک امریکن بزنس ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی۔اگست 2017ء میں افغانستان میں تعینات امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن  نے الزام لگایا کہ افغان طالبان قیادت کوئٹہ اور پشاور میں موجود ہے۔ستمبر 2017ء میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے امریکی نائب صدرمائیک پینس سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور افغانستان سمیت خطے میں امن و استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

Comments are closed.

Scroll To Top