تازہ ترین
پاکستان کی شکست کاپوسٹ مارٹم

پاکستان کی شکست کاپوسٹ مارٹم

تحریر:نعیم الرحمٰن

دورہ جنوبی افریقامیں حسبِ توقع پاکستان کرکٹ ٹیم ابتدائی دوٹیسٹ صرف تین تین دن میں ہارگئی اور دو صفر سے سیریز گنوا بیٹھی۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر پہلے ٹیسٹ میں شکست پرآگ گولا ہوگئے اور سینئر پلیئرز کوبرا بھلا کہنے کے ساتھ کپتان سے بھی الجھ پڑے۔

بلاشبہ پاکستان ٹیم کی کارکردگی افسوسناک ہے۔ سرفرازاحمد کی قیادت بھی بہت اچھی نہیں لیکن کیا ان ناکامیوں کے ذمہ داری کوچ مکی آرتھر، چیف سلیکٹر انضمام الحق، بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور اور بولنگ کوچ اظہرعلی پرنہیں ہے۔ پاکستان ٹیم کی کارکردگی کاپوسٹ مارٹم کیا جائے تواس کے مرکزی کردارکوچ مکی آرتھر اور چیف سلیکٹر انضمام الحق ہیں۔ جو ڈومیسٹک کرکٹ کی کسی پرفارمنس کوخاطر میں نہیں لاتے۔انضمام کوبھتیجے امام الحق کوتینوں طرز کی کرکٹ میں کھلانے اورمن مانی کرنے کے سواکوئی کام نہیں۔

فواد عالم،آصف ذاکر،سعدعلی،سمیع اسلم،عابدعلی،افتخاراحمد اور عثمان صلاح الدین کئی سیزن میں شانداربیٹنگ اوراے ٹیم میں موقع ملنے پر پرفارمنس کے باوجود سلیکشن کے اہل نہیں۔ امام الحق نے پہلے ون ڈے میں سنچری بنائی۔ لیکن دنیا میں کہیں بھی تینوں طرز کی کرکٹ میں وہی پلیئرز نہیں کھیلتے۔ آسٹریلیا کا ایرون فنچ ون ڈے میں ساڑھے3 ہزار رنز اور ٹی ٹوئنٹی میں 172 رنز کاعالمی ریکارڈ بنانے کے بعد یو اے میں پاکستان کے خلاف ڈیبیوکرتا ہے لیکن پانچ ٹیسٹ میں ایک ففٹی سمیت 276رنزبنانے پرسڈنی ٹیسٹ سے ڈراپ ہوجاتا ہے۔بھارت کے روہت شرما ون ڈے انٹرنیشنل میں تین ڈبل سنچریز کے باوجود ٹیسٹ ٹیم کا مستقل رکن نہیں بن پاتا توامام الحق اورفخرزمان میں ایسا کیا ہے کہ وہ تینوں طرز کی ٹیموں کے لازمی رکن بن جائیں۔ امام الحق نے آئرلینڈ سے ڈیبیو پر 74 رنز بنائے لیکن پھرنواننگز میں وہ ایک ففٹی سمیت 144رنز سولہ کی اوسط سے بناسکا۔ ون ڈے میں ڈبل سنچری بنانے والا فخرزمان پروٹیزکے خلاف دوٹیسٹ کی تین اننگز میں بتیس رنز بنانے کے بعد چھٹے نمبر پر بھیجا گیا تو سات رنزبنا کراونچا کیچ تھما کرپویلین لوٹ گیا۔ دونوں ٹیسٹ میں نصف سنچری بنانے والے شان مسعود کومحض حارث سہیل کی انجری کی وجہ سے چانس مل گیا۔ وہ ہرسیزن اوراے ٹیموں کے خلاف تسلسل سے اسکور کررہا ہے۔ پاکستان کے فزیوکو حارث سہیل کی انجری کی نوعیت کاعلم نہیں۔ پہلے کہاجاتاہے وہ پہلے ٹیسٹ سے باہر ہوگیا۔ پھرفٹنس بحالی پر دوسرے ٹیسٹ میں واپسی کی نوید سنائی جاتی ہے۔ پھردوسرے ٹیسٹ سے باہر ہونے اور آخرمیں دورے سے آؤٹ ہونے کامژدہ ملتا ہے۔مہمان کپتان فاف ڈوپلیسی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ہم اپنے بولرز کے لیے سیمنگ وکٹیں ہی بنائیں گے۔ وہ کیپ ٹاؤن میں واحد اسپنر کیشومہاراج کو ڈراپ کرکے ورنن فلینڈرکولے آتے ہیں۔ لیکن ہم لیگ اسپنریاسرشاہ کوبرقراررکھتے ہیں۔ 33 ٹیسٹ میں وکٹوں کی ڈبل سنچری کرنے والایاسرشاہ دوٹیسٹ میں ایک ہی وکٹ لے سکا۔ شان مسعود نے بھی ایک وکٹ لے لی۔ یہ کس کا قصور ہے۔ فہیم اشرف نے آئرلینڈ کے خلاف ڈیبیوٹیسٹ میں مشکل حالات میں تراسی رنز بنائے۔ لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف 36 رنزکی عمدہ اننگ کھیلی۔ ہیڈنگے میں ساٹھ رنزدیکرتین وکٹیں لیں۔ تو پاکستان کو اظہر محمود اور عبدالرزاق کے بعد جینوئن آل راؤنڈر ملنے کی امید ہوئی۔ جنوبی افریقی کپتان کہتے ہیں کہ ساتویں نمبر پر بیٹنگ کرنے والا فاسٹ بولر کسی بھی ٹیم کے لیے آئیڈیل ہوتاہے۔ لیکن پاکستان میں فہیم اشرف اچھی کارکردگی کے بعد بھی کھلاڑیوں کوپانی پلا رہا ہے اور یاسرشاہ سیمنگ وکٹ پراپناریکارڈ خراب کرنے میں لگا ہے۔سرفرازاحمدکی قیادت پربہت چرچاہوا۔ انہیں قیادت سے ہٹانے کی بھی بات کی گئی۔سنچورین میں پیئر نے توان کی مخالفت کودشمنی میں بدل دیا۔ سوال یہ ہے کہ دنیا میں کتنے وکٹ کیپرمستند بیٹسمین ہیں۔ ہمارے ہاں تو وسیم باری 20 سال بیٹنگ کی صلاحیت کے بغیرکھیل گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کیپ ٹاؤن میں جنوبی افریقی کپتان فاف ڈوپلیسی جومستند بیٹسمین بھی ہیں نے بھی پیئربنایا۔ واضح رہے کہ 2013 میں مصباح الحق اوریونس خان کی موجودگی میں بھی جنوبی افریقا میں پاکستان کوتین صفر سے شکست ہوئی تھی اورٹیم 45 رنز پرڈھیر بھی ہوئی تھی جب یونس اورمصباح کے بعد سینئربیٹسمین اظہرعلی اور اسد شفیق ذمہ داری نہیں لیں گے۔ ٹاپ آرڈرپرمن چاہے پلیئرکھیلیں گے توکپتان کیاکرے گا۔آسٹریلوی ٹیم بال ٹیمپرنگ ایشومیں کپتان اسٹیواسمتھ اوراوپنرڈیوڈوارنرکی غیرموجودگی میں نہیں سنبھل سکا اورٹم پین الیون چوتھے ٹیسٹ میں بھی شکست کے قریب ہے۔Image result for sarfaraz ahmed in south africa matchبھارت کاپہلی بارآسٹریلوی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز جیتنا یقینی ہے۔ وکٹ کیپر کپتان ٹم پین کی کوئی کارکردگی نہیں۔ لیکن وہاں پین کی ناکامی پرکوئی بات نہیں ہورہی۔ سرفرازاحمد اتنا بااختیار نہیں کہ اپنی مرضی کی ٹیم منتخب کر سکے لیکن انضمام الحق جب چیمپئنز ٹرافی کی فتح پرایک کروڑ روپے کے سرکاری انعامی رقم کے حقداربن جاتے ہیں تو ناقص سلیکشن اور تین ان فٹ پلیئرز کو جنوبی افریقا بھیجنے پر ان پر جرمانہ بھی عائد ہونا چاہئے۔ گرانٹ فلاور چار سال سے بیٹنگ کوچ ہیں۔ انہوں نے کس بیٹسمین کی تینکیک درست کرائی ہے۔ اظہرمحمود کی نگرانی میں فاسٹ باؤلرز سیم وکٹوں پراتنے موثرکیوں نہیں ہوسکے۔ مکی آرتھر جوان تمام خامیوں کو درست کرنے میں ناکام ہے۔ کب تک ٹیم پرمسلط رہے گا۔

Comments are closed.

Scroll To Top