تازہ ترین
پاکستان کا 80 فیصد پانی ضائع ہوجاتا ہے، وزیراعظم

پاکستان کا 80 فیصد پانی ضائع ہوجاتا ہے، وزیراعظم

کراچی: (16ستمبر 2018) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا 80 فیصد پانی ضائع ہوجاتا ہے تاہم ڈیمز فنڈ کیلئے سالانہ 30 ارب کا ٹارگٹ رکھا ہے۔ حکومت تب مضبوط ہوتی ہے جب عوام حکومت کے ساتھ کھڑی ہو۔

گورنرہاؤس کراچی میں ڈیمز فنڈریزنگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملٹری ڈکٹیٹر ایوب خان کے دور میں ڈیمز پرسب سے زیادہ کام ہوا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

انیس سو ساٹھ میں سستی بجلی ملتی تھی۔ ہم نے جو پانی پر بجلی بنانی تھی وہ 1990ء میں بجلی آئی پی پیز پر بننا شروع ہوئی، جس سے بجلی مہنگی ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایک شخص کیلئے 5 ہزار 600 کیوسک میٹر پانی تھا لیکن آج ایک ہزار کیوبک میٹر رہ گیا ہے۔ اگر ہم اسی طرح چلتے رہے تو 2025ء تک ہم بڑے متاثر ہوں گے۔ گندم اگانے کیلئے بھی پانی نہیں ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے پاس صرف دوبڑے ڈیمز ہیں۔ 80 فیصد پانی سمندر میں چلاجاتا ہے۔ یہ ایک عام سی سوچ ہے کہ ہمیں بارشوں اور دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنا ہوگا۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ملکی قوم کو متحرک کرنا ہے کیونکہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ 10 سال پہلے قرضہ 6 ہزار ارب جبکہ اب 30 ہزار ارب ہوگیا ہے۔ یعنی صرف پچھلے دس سالوں میں قرض بڑھ گیا ہے۔ ہمیں قرضوں پر سود دینا پڑتا ہے۔ ہم بجٹ سے ڈیم نہیں بنا سکتے اس لیے ہم نے ڈیمز فنڈ قائم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو ڈیمز فنڈ کیلئے خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پیسے اکٹھے کرنے والا شخص ہوں۔ 30 سال سے فنڈریزنگ کررہا ہوں۔ ہم نے پیسے اکٹھے کرنے کا سالانہ 30 ارب ٹارگٹ رکھا ہے۔ انشاء اللہ ہم پیسے اکٹھے کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ جب ایک قوم بن جاتی ہے تو پھر قوم کیلئے کوئی چیز مشکل نہیں ہوتی۔ حکومت تب مضبوط ہوتی ہے جب عوام حکومت کے ساتھ کھڑی ہو۔

انہوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی اور جاپان تباہ ہوگئے تھے لیکن وہ پھر کھڑے ہوگئے۔ پاکستان میں سیلاب آیا تو پاکستانیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کام کیا۔

عمران خان نے کہا کہ حکومت ڈیم نہیں بناسکتی، کیونکہ حکومت کے پاس پیسا نہیں ہے۔ ہم نے پانچ سال میں ڈیم بنانے ہیں۔ ڈیمز سے سستی بجلی اور پانی کا ذخیرہ کرنے کیلئے پانی بھی ملے گا۔انہوں نے کا کہ کراچی جب تک کھڑا نہیں ہوتا تب تک پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔ پنجاب، سندھ یا خیبرپختونخواہ میں حکومتیں بنتی تھیں تو کراچی کی کسی کے پاس آنرشپ نہیں تھی۔ اس لیے کراچی آہستہ آہستہ نیچے چلا گیا۔ لیکن اب ہم سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کراچی کے تمام مسائل حل کریں گے۔ گندگی کا خاتمہ اور امن و امان کو بہتر بنائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان اور بنگلادیش کے لوگ یہاں رہتے ہیں ان کوپاسپورٹ یا شناختی کارڈ نہیں ملتے۔ ان کونوکریاں نہیں ملتیں، اسی لیے اسٹریٹ کرائم ہے۔عمران خان نے کہا کہ کراچی میں پچھلے 40 سالوں سے مقیم بنگلادیشی لوگوں کو پاسپورٹ اور شناختی کارڈ دیں گے۔ جب معاشرے میں ظلم ہوتا ہے تو اس کی قیمت ریاست کو ادا کرنی پڑتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میری فلاسفی یہ ہے کہ ملک کو اٹھانے کیلئے غریبوں کو اوپر اٹھانا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وزیراعظم عمران خان کی ایم کیو ایم کو شکایات دور کرنے کی یقین دہانی

وزیراعظم کی زیرصدارت امن و امان سے متعلق جائزہ اجلاس

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top