تازہ ترین
پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی

تحریر: نعیم الرحمٰن

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلئے آئی سی سی بھی میدان میں آگئی، کرکٹ گورننگ باڈی نے بین الاقوامی سیکیورٹی فرم کی خدمات تین سالہ معاہدے کے تحت حاصل کی ہیں۔ سیکیورٹی کمپنی کے دفاتربرطانیہ، نیوزی لینڈ اورمتحدہ عرب امارات میں بھی ہیں۔ معاہدے کے تحت کمپنی حکام ہرسال پاکستان کادورہ کریں گے اوریہاں سیکیورٹی انتظامات، اسٹیڈیمز، ہوٹل سہولیات اور دیگر امور کا جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ آئی سی سی کوپیش کریں گے۔ سیکیورٹی ٹیم کے ہمراہ انٹرنیشنل کرکٹرزکی تنظیم فیکا کا نمائندہ بھی ہوگا۔ سیکیورٹی کمپنی کو ہر ٹور کے لئے 4 لاکھ ڈالرزمعاوضہ ادا کیا جائے گا اور اس طرح مجموعی طور پر کمپنی تین سال میں 12 لاکھ ڈالرحاصل کرے گی۔

چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے آئی سی سی کی سیکیورٹی کمپنی کو ہائر کرنے کو پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کی جانب پہلا قدم قرار دیا ہے اوراس کے جلد مثبت نتائج سامنے آنے کی امید بھی ظاہرکی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ورلڈالیون کے دورہ پاکستان سے قبل سیکیورٹی کمپنی کے آفیشلز فیکا نمائندے کے ساتھ پاکستان آئیں گے اور وہ پی ایس ایل فائنل کے موقع پرماہرین کی سفارشات کی روشنی میں کھلاڑیوں کے لئے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیں گے اورحکومت پاکستان، پنجاب گورنمنٹ اور آئی جی پنجاب اوردیگرحکام سے بھی ملاقات کریں گے، ان کی رپورٹ کی بنیاد پرآئی سی سی ورلڈ الیون کے دورہ پاکستان کوحتمی شکل دے گی۔

مارچ 2009 میں سری لنکن ٹیم پردہشت گردوں کے حملے نے پاکستان کوبین الاقوامی کرکٹ کیلئے نوگوایریا بنادیا ہے۔ ملک کے کرکٹ میدان انٹرنیشنل کرکٹ کی میزبانی سے محروم اورسونے ہوگئے اور پاکستان اپنی ہوم سیریز پہلے انگلینڈ اورپھریواے ای میں کھیلنے پرمجبورہوگیا۔ پاکستان کرکٹ کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان مصباح الحق ہوم گراؤنڈ پرقومی ٹیم کی قیادت کی حسرت دل میں لئے ہی ریٹائرہوگئے۔اظہر علی، اسد شفیق، سرفرازاحمد، محمد عامر، یاسرشاہ، بابراعظم اورکئی رائزنگ اسٹارز کوہوم کراؤڈ کے سامنے صلاحیتوں کے اظہارکاموقع ہی نہیں مل سکا ہے۔ گذشتہ آٹھ برسوں میں صرف زمبابوے کی ٹیم محدود اوورز کے چند میچز کھیلنے پاکستان آئی اوراس نے بھی صرف قذافی اسٹیڈیم لاہور میں تمام میچز کھیلے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ گذشتہ کئی سال سے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کیلئے کوشاں ہے لیکن پی سی بی کومعروف کرکٹرز کے گریز کی وجہ سے وہ پاکستان سپرلیگ کے ابتدائی دوایڈیشنز بھی یواے ای میں ہی منعقدکرانا پڑے لیکن پی ایس ایل 2 کافائنل سخت سیکیورٹی میں لاہور میں منعقد ہوا۔

اس سال انگلینڈ میں منعقدہ چیمپئنزٹرافی فائنل میں سرفرازاحمد کی زیرقیادت پاکستان ٹیم نے روایتی حریف بھارت کوشکست دی اورپہلی بار چیمپئن بننے کااعزاز حاصل کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فائنل میں ہارنے والی بھارتی ٹیم چیمپئنزٹرافی کے بعد مسلسل کرکٹ کھیل رہی ہے جبکہ فائنل کافاتح پاکستان ٹیم کواب تک کوئی میچ کھیلنے کاموقع نہیں مل سکا۔ ستمبر میں ورلڈ الیون کی ممکنہ میزبانی کے بعد یواے ای میں سری لنکا سے ہوم سیریز ہی پاکستان کوکھیلنا ہے تاہم چیمپئنزٹرافی کی جیت نے آئی سی سی کی مقرر کردہ پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کیلئے قائم ٹاسک فورس کوبھی متحرک ہونے پرمجبورکردیا اورورلڈالیون کے دورہ پاکستان کے امکانات روشن تر ہونے لگے ہیں۔

زمبابوے کے سابق کپتان اورانگلش کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ اینڈی فلاور کوورلڈ الیون کے دورہ پاکستان کیلئے ہیڈکوچ اورچیف سلیکٹر مقررکیاگیاہے۔ اینڈی فلاوردورے کیلئے پندرہ رکنی ٹیم کومنتخب کرنے اورقائل کرنے میں مصروف ہیں۔ پی سی بی نے بھی دورے کیلئے خزانے کے منہ کھول دیئے ہیں اوربھاری معاوضے پر کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔ نیوزی لینڈ کے بعد آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے بھی پاکستان میں سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے اپنے زیرمعاہدہ کرکٹرز کوورلڈ الیون میں شمولیت کیلئے این اوسی دینے سے انکارکردیاہے لیکن ان دونوں ممالک کے بھی متعدد کرکٹرزجواپنے بورڈز سے کنٹریکٹ میں نہیں ہیں، پاکستان آنے پرتیارہیں۔ جس کے بعد ورلڈ الیون کا دورے سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے کھل سکتے ہیں۔

چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کی کاوشوں سے سری لنکن بورڈ نے بھی پاکستان سے شیڈول سیریز کا ایک ٹی ٹوئنٹی لاہور میں کھیلنے پرمشروط آمادگی ظاہر کردی ہے۔ ورلڈالیون کادورہ پرامن طور پرمکمل ہونے پرسری لنکن ٹیم بھی پاکستان میں ایک ٹی ٹوئنٹی کھیلے گی۔ پنجاب میں 17 ستمبرکوضمنی الیکشن کی وجہ سے پنجاب حکومت کی درخواست پرپی سی بی نے ورلڈ الیون اورپاکستان کے میچز کے دو شیڈول تیار کئے ہیں۔ پہلا 12 ،13 اور15 ستمبرجبکہ دوسرے شیڈول میں میچز 11، 12 اور13 ستمبر کو رکھے گئے ہیں۔ تاہم پنجاب حکومت اورآئی سی سی کی منظوری کے بعد دورے کا باقاعدہ شیڈول جاری کردیاجائے گا۔

اس طرح پاکستان کے سونے کرکٹ گراؤنڈز ورلڈ الیون اورسری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سے آباد ہوجائیں گے۔ آئی سی سی کی مقررکردہ سیکیورٹی کمپنی کی اگلے تین سال تک پاکستان میں حفاظتی انتظامات کے جائزے اوررپورٹ کے ذریعے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی میں مدد ملے گی۔ پی سی بی نے ورلڈالیون کے دورے کے موقع پر آئی سی سی کے تمام فل ممبرز بورڈ حکام کوبھی مدعو کرنے کافیصلہ کیاہے، جوخود سیکیورٹی انتظامات دیکھ کراپنی ٹیمیں بھیجنے کے بارے میں بہترطور پر فیصلہ کرسکیں گے۔

یہ بھی پڑھئے

مسائل میں گھری پاکستان کرکٹ ٹیم

ٹیسٹ اورون ڈےلیگ کا جلد آغاز

Comments are closed.

Scroll To Top