تازہ ترین
پاکستان میں اقلیتوں کا کردار اور انکے بنیادی مسائل

پاکستان میں اقلیتوں کا کردار اور انکے بنیادی مسائل

رپورٹ: ذین علی

پاکستان میں اقلیتی ووٹرز کی تعداد تو بڑھ گئی لیکن انکے بنیادی مسائل نہ حل ہوسکے۔ 2018 کے عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اقلیت ووٹرز کی تعداد میں تیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کی انتخابی فہرستوں کے مطابق ملک میں سب سے زیادہ غیر مسلم ووٹروں کا تعلق ہندو برادری سے ہے۔ جن کی تعداد تقریبا 17لاکھ 77 ہزار سے زائد ہے۔

ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے مکیش چندو سماجی رہنما ہے جو ہندو برادری کی فلاح و بہبود کے کاموں میں مصروف عمل رکھتے ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سندھ میں ہندو برادری بڑی تعداد میں اباد ہے۔ انتخابی فہرستوں کے مطابق ہندو رائے دہندگان کی اکثریت سندھ میں رہتی ہے، جہاں تقریبا چالیس فیصد ووٹرز صرف دو اضلاع عمر کوٹ اور تھرپاکر میں رہتے ہیں۔ 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوں ووٹروں کی تعداد تقریبا 18 لاکھ ہے جو 2013 کی لسٹوں کے مقابلے میں تقریبا ساڑھے تین لاکھ زیادہ ہے۔لیکن بہت سے ہندو شہری ابھی تک رجسٹرڈ ووٹر نہیں ہیں، جس کی بنیادی وجہ تعلیم کی کمی ہے۔ سندھ میں تھرپارکر اور عمر کوٹ ایسے خطے ہیں، جہاں ہندو برادری اکثریت میں ہے۔ وہاں تین انتخابی حلقے ایسے ہیں، جہاں ہندو ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔بارہاں ان علاقوں سے منتخب ہونے والے امیدواروں نے ان علاقوں کے بنیادی مسائل حل کرنے کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔ پاکستان میں دوسری بڑی مذہبی اقلیت مسیحی برادری ہے۔ جن ووٹروں کی تعداد 16 لاکھ 40 ہزار سے زیادہ ہے۔

عزیز کھوکھر مسیحی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور سماجی کاموں کے اعتبار سے یہ اپنی برادری میں نمایاں حیثیت رکھتے ہے۔ عزیز کھوکھر کراچی میں مسیحی برادری کی سب سے زیادہ ابادی والے علاقے محمود اباد کے رہائشی ہے۔ ان کےمطابق اس علاقے کے بینادی مسائل پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی، سیوریج کا تباہ حال نظام اور اسٹریٹ لائٹس کی خرابی سمیت نوجوانوں کی بیروزگاری ہے۔اس حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی ہے اور سندھ قابینہ کے وزیر سعید غنی اسی حلقے سے منتخب ہوئے ہیں۔عزیز کھوکھر کے مطابق وہ سعید غنی سے پر امید ہے کہ انکے بینادی مسائل جلد حل کیے جائے گے۔ انکا کہنا ہے کہ ایک ہفتے قبل بھی ملاقات میں ان مسائل کی نشاندہی کی ہے جس پر وزیر بلدیات نے کرسمس سے قبل اسٹریٹ لائیٹس ، سیوریج نظام کی بہتری اور صاف پانی کی فراہمی میں بہتری کی بات کی ہے۔ ان کے علاوہ 31,500 سے زائد بہائی، 8852 سکھ، 4235 پارسی اور بدھ مت کے 1884 پیروکار بھی ووٹر لسٹوں میں شامل ہیں۔Related imageسال 2018 کی انتخابی فہرستوں میں ایک بھی یہودی ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہے جبکہ 2013 کے انتخابات کے لیے رجسٹرڈ یہودی ووٹروں کی تعداد 809 تھی۔ پارسی رائے دہندگان کی بڑی اکثریت سندھ میں ہے جبکہ ان کا ایک حصہ خیبر پختونخوا میں بھی آباد ہے۔الیکشن کمیشن اف پاکستان کی جانب سے ایک بار پھر سے ووٹرز لسٹوں میں نام کے انداراج کا عمل شروع ہوگیا ہے۔31 دسمبر تک پاکستان کی شہریت رکھنےوالے افراد جن کی عمر 18 سال سے زائد ہے اپنے نام کا اندراج ووٹرز لسٹ میں کرسکتے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ اقلیت برادری ووٹروں کی رجسڑیشن کے لیے کس حد تک خصوصی اقدامات کیے جاتے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top