تازہ ترین
پاکستان فوری معاشی بحران سے نکل چکا، وزیر خزانہ

پاکستان فوری معاشی بحران سے نکل چکا، وزیر خزانہ

اسلام آباد: (06 نومبر 2018) وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ 6 ارب ڈالرز سعودی عرب سے اور باقی رقم چین سے آئی جس کی وجہ سے پاکستان فوری معاشی بحران سے نکل چکا ہے۔

دورہ چین کے بعد اسلام آباد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ اس عمر نے کہا کہ چین سے مدد کا اصولی فیصلہ ہوچکا ہے اور اس کیلئے نو نومبر کو بیجنگ میں ملاقات ہوگی۔ ملاقات میں گورنر سٹیٹ بینک اور سیکرٹری خزانہ شریک ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اصولی طور پر فیصلہ ہوچکا ہے۔ اب اس کے خدو خال کیا نکلیں؟ اس کے خدو خال کیلئے نو نومبر کو میٹنگ ہے جس سے پتہ چل جائے گا۔اسد عمر نے کہا کہ ہم جو برآمدات دگنی کرنے کی بات کررہے ہیں وہ اسی سال ہونگی اور ان میں مزید اضافہ بھی کیا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ 12 ارب ڈالرز کے فنانشل گیپ کیلئے 6 ارب ڈالرز اس سال سعودی عرب سے آئیں گے اور باقی چین سے دے دے گا۔وزیر خزانہ اسد عمر نے مزید کہا کہ بقایاجات کی ادائیگی کا بحران ختم ہوچکا ہے اور اس وقت پاکستان کو کوئی بقایاجات کی ادائیگی کا بحران درپیش نہیں ہے۔

اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چین کا دورہ بہت مفید رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ چین کے چار مقاصد تھے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

انہوں نے کہا کہ پہلا مقصد یہ ہے کہ چین کے ساتھ ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں اور حکومت بدلنے کے بعد چین اور پاکستان کی خواہش تھی کہ وزیر اعظم چین جائیں تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ ہمارے تعلقات کس نوعیت کے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اسٹریٹجک تعلقات کو معاشی تعلقات میں بدلنے کیلئے اس دورے سے مدد ملی ہے اور چین کے ساتھ 15 کے لگ بھگ ایم اویو ز سائن کئے گئے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تیسرے نمبر پر غربت کا خاتمہ ہے۔ وزیر اعظم کی خواہش تھی کہ ہماری بہت سی آبادی ایسی ہے جو غربت کے لکیر سے نیچے زندگی بسر کرتی ہے اس لیے ہمیں غربت کو ختم کرنے کیلئے چین تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اس لیے غربت کے خاتمے کیلئے چین سے معاہدہ کیا گیا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ چوتھے نمبر پر چین سے زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی ہے جس سے زراعت کو جدید بنانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات نہ صرف اچھے ہیں بلکہ اس کے مزید بہتر ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ چین سے معیشت میں وسعت کی بات ہوئی ہے جس میں ارتکاز اس بات پر تھا کہ ہم اپنی بر آمدات کیسے بڑھا سکتے ہی؟شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چین کے ساتھ جو بات ہوئی ہے اس سے امید ہے کہ ہم اپنی برآمدات کو ڈبل کرنے کی پوزیشن میں آجائیں گے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ دورہ چین سے دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں لیکن اس موقع پر ایک طوفان کھڑا کردیا گیا کہ سی پیک پر بہت سے غلط فہمیاں جنم لے رہی ہیں مگر میں واضح کردوں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بات ہوئی ہے کہ سی پیک کو ہم نے گیٹ وے بنانا ہے، اس کیلئے ہم نے اپنی ترجیحات کا تعین کیا ہے، جس میں ایک یہ ہے کہ ہم پاکستان میں کس طرح صنعتوں کوترقی دے سکتے ہیں؟ اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنی زرعی پیداوار کو کس طرح بڑھا سکتا ہے؟ اور کس طرح سی پیک کے دائر ے میں رہتے ہوئے پاکستانی ہنر مندوں کی استعداد بہتر بنائی جاسکتی ہے؟

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ہم نہ یہ بھی طے کیا ہے کہ جے سی سی کی اگلی میٹنگ دسمبر میں ہوگی تاکہ لیڈر شپ نے جو نئی سمت طے کی ہے اس پر فوکس کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین سے تعلقات مضبوط ہوئے، وزیرخارجہ

بیل آوٹ کے بغیر معیشت بحران سے نہیں نکل سکتی ، وزیر خزانہ اسد عمر

 

Comments are closed.

Scroll To Top