تازہ ترین
پاکستانیوں کے بیرون ممالک اکاؤنٹس سے متعلق کیس میں حکومتی رپورٹ مسترد

پاکستانیوں کے بیرون ممالک اکاؤنٹس سے متعلق کیس میں حکومتی رپورٹ مسترد

اسلام آباد: (14 مارچ 2018) سپریم کورٹ نے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاؤنٹس سے متعلق کیس میں حکومتی رپورٹ غیر موثر قرار دے دی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پاکستانیوں کے بیرون ممالک میں بینک اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گورنر اسٹیٹ بینک کیوں نہیں آئے؟

جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ رپورٹ داخل کر دی گئی ہے۔ کیمٹی کی طرف سے بیرون ممالک میں بینک اکاؤنٹس کے معاملے پر سفارشات مرتب کی ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ گورنر اسٹیٹ بینک کو یہاں ہونا چاہیے تھا۔ بیرون ممالک کہاں کہاں جائیدادیں ہیں ہمیں بتائیں؟ ابھی تک ہم نے چار پراپرٹیز کا کہا تھا اس کا پتہ نہیں چلا۔ رپورٹس تو بن جاتی ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہیں ہوتا۔ ہمیں پندرہ دنوں میں پیسے واپس لا کر دیں۔

فنانس سیکریٹری نے عدالت کو بتایا کہ پیسے کو باہر لے کر جانے سے روکنے کیلئے فنانس ایکٹ میں تبدیلی کرنی ہے۔ ہوسکتا ہے آئندہ دنوں میں پارلیمنٹ میں اس حوالے سے اقدامات ہوں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قانون میں کچھ خامیاں ہیں۔ آئے دن پاناما پیپرز اور پیراڈائز طرز کی لیکس سامنے آرہی ہیں۔ قانون بنانے والوں کی جانب سے اب تک اقدامات کیے جانے چاہیے تھے۔ پیش کردہ رپورٹ موثر نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانیوں کے غیرملکی بینک اکاؤنٹس پر چیف جسٹس کا ازخود نوٹس

اسحاق ڈار کی درخواست پر ہجویری ٹرسٹ کے اکاؤنٹس بحال

 

Comments are closed.

Scroll To Top