تازہ ترین
ٹوئٹر پر ہاں، فیس بک پر ناں

ٹوئٹر پر ہاں، فیس بک پر ناں

ویب ڈیسک (14 فروری 2018) این اے 154 لودھراں کے ضمنی انتخاب میں شکست کے بعد تحریک انصاف کی مقبولیت پر اٹھتے سوالات پر سوشل میڈیا صارفین نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کردیا۔ اب تک پول میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں فیس بک صارفین تحریک انصاف کے حق میں جبکہ ٹوئٹر صارفین مخالفت کرتے نظر آئے۔

اب تک پول میں سوال کیا گیا کہ ’’این اے 154 میں پی ٹی آئی کی نواز لیگ کے ہاتھوں شکست کیا تحریک انصاف اورعمران خان کی مقبولیت کا گراف گرنے کی جانب اشارہ ہے؟‘‘ 39 فیصد فیس بک صارفین اس جملے سے متفق نظر آئے جبکہ 61 فیصد نے جواب نفی میں دیا۔

دوسری جانب ٹوئٹر پر معاملہ بلکل مختلف نظر آیا۔ 64 فیصد ٹوئٹر صارفین نے اتفاق کیا کہ این اے 154 میں شکست عمران خان اور تحریک انصاف کی مقبولیت میں کمی کی جانب اشارہ ہے۔ جبکہ 36 کا جواب نفی میں تھا۔

اب تک کے کئے گئے سوال پر سوشل میڈیا صارفین نے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا۔ ایک ٹوئٹر صارف عبدالحمید نے لکھا کہ شکست کی وجہ ووٹرز کو گھر سے نہ نکال پانا، ٹیم ورک اچھا نہ ہونا اور مقامی نمائندوں کی غفلت تھی۔

یاد رہے کہ قومی اسمبلی کی نشست این اے 154 پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن نے تحریک انصاف کو شکست دے دی تھی۔ 338 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے سید محمد اقبال شاہ نے 1 لاکھ 12 ہزار 730 ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ تحریک انصاف کے علی خان ترین 85 ہزار 326 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔

یوں ن لیگ کو تحریک انصاف پر 27 ہزار 404 ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ ضمنی انتخاب کے دوران 4 لاکھ 31 ہزار 2 ووٹرز کے لیے 338 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے۔

این اے 154 لودھراں میں دسمبر 2015 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کے جہانگیر ترین نے مسلم لیگ ن کے صدیق بلوچ کو واضح فرق سے شکست دی تھی۔

جہانگیر ترین نے ایک لاکھ 29 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ صدیق بلوچ نے 93 ہزار سے زائد ووٹ لیے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹوئٹر پر فالوورز کی تعداد 33 ملین ہونے پر شاہ رخ سوئمنگ پول میں کود پڑے

انوپم کھیر کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر آئی لؤ پاکستان

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top