تازہ ترین
چیف جسٹس کے ایک ہی دن میں تین ازخود ںوٹس

چیف جسٹس کے ایک ہی دن میں تین ازخود ںوٹس

اسلام آباد: (08 جنوری 2018) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ملک میں وی وی آئی پیز کی نقل و حرکت کے دوران ٹریفک کی بندش، کراچی کے نجی میڈیکل کالجزمیں داخلوں اور سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار پر ازخود نوٹسز لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹس طلب کرلی ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ملک میں وی وی آئی پیز کی نقل و حرکت کے دوران ٹریفک کی بندش کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے نجی میڈیکل کالجوں میں داخلے کا بھی نوٹس لیا ہے جس پر حکم دیتے ہوئے انہوں نے تمام نجی میڈیکل کالجز کے سی ای اوز کو 13 جنوری کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔انہوں نے ایک از خود نوٹس کراچی کے ہسپتالوں کی حالت زار پر لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو میڈیکل سپرنٹنڈنٹ 13 جنوری کو کراچی رجسٹری میں طلب کیا ہے۔ ان سے طبی سہولیات، ایمرجنسی اور ادویات کی فراہمی سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے۔

اس سے قبل 6 جنوری کو سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے اپنے پیغام میں سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سے التماس ہے کچھ توجہ سندھ اور کے پی کے اسپتالوں پر بھی دیں جہاں کے عوام علاج کیلئے پنجاب کےاسپتالوں میں آتے ہیں۔واضح رہے کہ مریم نواز کا بیان اس وقت سامنے آیا جب سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پنجاب حکومت کے سرکاری اسپتالوں کی حالت زار پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت جاری تھی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ اگر تعلیم اور ہیلتھ کے شعبوں میں کام نہ ہوا تو اورنج لائن سمیت تمام پراجیکٹ بند کر دوں گا۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ صوبے میں مفت ادویات مل نہیں رہیں اور تشہیر پر پیسہ خرچ کیا جاریا ہے۔ پنجاب حکومت اپنی تشہیر پر کروڑوں روپے اشتہارات کی مد میں لگا رہی ہے، ٹی وی چینلز پر اپنی مشہوری کے بجائے اسپتالوں کو ادویات فراہم کریں۔معزز جج کا اپنے ریمارکس میں مزید کہنا تھا کہ صحت شہریوں کا بنیادی حق ہے۔ صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ نوٹس کا مقصد ایکشن لینا نہیں، اسپتالوں کی حالت زار بہتر کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جیلوں میں صاف پانی کی عدم دستیابی چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس

سپریم کورٹ کا نیب میں خالی آسامیاں ایک ہفتہ میں پُر کرنے کا حکم

 

Comments are closed.

Scroll To Top