تازہ ترین
وزیرخارجہ اقوم متحدہ کے اجلاس میں شرکت کےلیے نیویارک پہنچ گئے

وزیرخارجہ اقوم متحدہ کے اجلاس میں شرکت کےلیے نیویارک پہنچ گئے

نیویارک(25ستمبر، 2018) وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کےلیے نیویارک پہنچ گئے ہیں۔وہ نئی حکومت کی ترجیحات اور پالیسیوں سے دنیا کو آگاہ کریں گے-

نیویارک میں وزیر خارجہ کا استقبال اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کیا- وزیر خارجہ جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت اور خطاب کے ساتھ ساتھ دیگر اجلاسوں میں بھی شریک ہوں گے-وزیر خارجہ 12 سے زائد ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقاتیں کریں گے-

وزیر خارجہ 29ستمبر کو اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔وہ اپنی تقریر میں مسئلہ کشمیر پر کھل کر پاکستان کا موقف بیان کریں گے ۔

وزیر خارجہ بدھ کو اقوام متحدہ کے اسلامک کوپریش کونٹیک گروپ سے بھی خطاب کریں گے- وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے ملاقات 2 اکتوبر کو ہوگی۔

 وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جنرل اسمبلی اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سمیت عالمی اور علاقائی صورتحال پر پاکستان کا موقف پیش کریں گے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی امریکا میں چالیس سے زائد ملاقاتیں ہوں گی۔واضح رہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی 29 ستمبر کو نیویارک میں جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے جس کے دوران عالمی امور پر پاکستان کا موقف پیش کریں گے۔

اس سے قبل واشنگٹن میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ بھارت سے تعلقات میں بہتری کیلئے بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج سے ملاقات کرنا چاہتے تھے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارتی وزارت خارجہ کا رویہ افسوسناک ہے۔ بھارتی رویہ سفارتی آداب کے منافی ہے،پاکستان کا ردعمل سفارتی آداب کے تقاضوں کے اندر تھا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

انہوں نے بتایا کہ بھارت 27 ستمبر کو وزرائے خارجہ ملاقات پر راضی ہوا تھا، لیکن پھر اپنے اندرونی معاملات سے توجہ ہٹانے کیلئے ایسی صورتِ حال پیدا کی گئی۔ بھارتی رویہ سفارتی آداب کے منافی ہے، بھارت انسانیت کا ماحول بہتر کرنے سے کترا رہا ہے۔

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت خام خیالی پر مبنی دہشت گردی کا راگ نہ الاپے، بھارت کو خیالی راگ چھوڑ کر حقیقت کی دنیا میں آنا پڑے گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت نے خطے کی ترقی کے لیے بھارت سے مذاکرات کی کوشش کی، دیکھنا ہوگا امن کی بات کون کر رہا ہے اور کون فرار کے راستے پر ہے۔

شاہ محمود نے بھارت کی طرف امریکی جھکاؤ پر کہا کہ امریکا خطے میں بھارت کو اسٹریٹیجک پارٹنر بنانے کی خواہش رکھتا ہے، جب کہ اسے ہمیشہ پاکستان سے تعلقات میں فائدہ ہوا، ہمیں امریکا سے تعلقات کو مینیج کرنا ہے، بھارت گھبراتا ہے، ہم نہیں گھبرائیں گے۔انھوں نے کہا کہ بھارت نے مذاکرات کی دعوت پر دہشت گردی کا راگ الاپا، مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں نہتے لوگ حق خود ارادیت کی آواز بلند کر رہے ہیں، کشمیر کے معاملے پر بھارت یو این قرارداد آنکھیں چرا رہا ہے، بھارت میں دانشور کہہ رہے ہیں کہ ان کی کشمیر پالیسی نا کام ہو چکی ہے، بھارت کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔

وزیرِ خارجہ نے کشمیر کے حوالے سے کہا کہ کشمیریوں سے رائے لے لیں اگر وہ چاہتے ہیں ’کشمیر بنے گا پاکستان تو پھر بنے گا‘۔

وزیرِ خارجہ نے کہا امریکا جو کہتا ہے کہے ہم سنیں گے لیکن امریکا کے پابند نہیں، پاکستان کی ترجیحات، مفادات اور ضروریات مدِ نظر رکھیں گے۔انھوں نے کہا ہم چاہتے ہیں افغانستان میں جو بیٹھے ہیں وہ ہتھیار پھینک کر میز پر بیٹھیں، حکمران بھی اپنی سوچ پر نظرِ ثانی کریں، ہتھیار اٹھانے والے بھی افغان ہی ہیں۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ سعودی ولیٔ عہد سے نیو یارک میں ملاقات ہوگی، اکتوبر میں سعودی عرب اور یو اے ای حکام انویسٹمنٹ کا جائزہ لینے پاکستان آئیں گے، ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات پاکستان کی پالیسی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات پاکستان کی اولین ترجیح، شاہ محمودقریشی

پاک بھارت مذاکرات سے پورے خطے کو فائدہ ہوتا، شاہ محمود قریشی

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top