تازہ ترین
وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لئے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس شروع

وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لئے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس شروع

کوئٹہ: (13 جنوری 2018) وزیراعلیٰ بلوچستان کے انتخابات کیلئے صوبائی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوگیا ہے، جس میں اراکین اسمبلی نیا قائد ایوان منتخب کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق نواب ثناء اللہ زہری کے مستعفی ہونے کے بعد نئے وزیراعلیٰ بلوچستان کے انتخاب کے لیے رائے شماری آج ہوگی، جس کے لیے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس شروع ہوگیا ہے، اسپیکرراحیلہ حمید درانی اجلاس کی صدارت کررہی ہیں

نئے وزیراعلیٰ بلوچستان کے انتخاب سے قبل پشتون خواہ میپ کے امیدوار سید لیاقت علی کے حق میں دستبردار ہوگئے جس کی تحریری درخواست انہوں نے سیکریٹری اسمبلی کو جمع کرائی تھی،جس کے بعد اب وزارت اعلیٰ کیلئے عبدالقدوس بزنجو اور لیاقت آغا کے درمیان ون آن ون مقابلہ ہے۔

ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

بلوچستان اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس صبح 10 بجے کے بجائے ساڑھے 11 بجے ہو گا جبکہ نئے وزیراعلیٰ شام 5 بجے اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

دوسری جانب ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے باعث اسمبلی آنے والے تمام راستے صبح 8 بجے سے بند رہیں گے۔عبدالرزاق چیمہ نے مزید کہا کہ اہم اجلاس کے لیے اسمبلی کی سیکیورٹی پر پولیس کے 900 اہلکار تعینات ہوں گے جبکہ فرنٹیئر کور کے اہلکار بھی سیکیورٹی پر مامور ہوں گے،اسمبلی میں بغیر شناختی کوائف کے کسی کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔

واضح رہے کہ 10 جنوری کو گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے نواب ثناء اللہ زہری کی جگہ نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے صوبائی اسمبلی کا اجلاس 13 جنوری کو طلب کیا تھا۔نواب ثناء اللہ زہری کے مستعفی ہونے کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ بلوچستان میں اپوزیشن کو وزیراعلیٰ لانے کی پیشکش کی جائے گی۔

اپوزیشن جماعتوں نے وفاقی حکومت کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ وزیراعلیٰ کیلئے اپنا کوئی امیدوار نہیں کھڑا کریں گے۔یہ بھی یاد رہے کہ دو روز قبل بلوچستان اسمبلی کے مسلم لیگ (ن)  کے منحرف اراکین اسمبلی نے صوبے کی وزارت اعلیٰ کیلئے سابق ڈپٹی اسپیکر میر عبد القدوس بزنجو کے نام پر اتفاق کیا تھا۔

بلوچستان کی وزارت اعلیٰ کیلئے عبدالقدوس بزنجو  کے نام کا اعلان پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر رہنما و سابق اسپیکر صوبائی اسمبلی میر جان محمد جمالی نے کیا تھا اور دعوی کیا تھا کہ قدوس بزنجو کو وزیر اعلیٰ بنانے کیلئے مقابلے کی نوبت نہیں آئے گی تاہم اگر مقابلہ کرنا بھی پڑا تو ہم تیار ہیں۔واضح رہے 9 جنوری کو نواب ثناء اللہ زہری نے تحریک عدم اعتماد کے اسمبلی میں پیش ہونے سے قبل ہی وزیر اعلیٰ بلوچستان کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں زبردستی اپنے ساتھیوں پر مسلط نہیں ہونا چاہتا۔

یہ بھی پڑھیے

عبدالقدوس بزنجو کو وزیراعلیٰ بلوچستان کا امیدوار نامزد کردیا گیا

وزیر اعلیٰ بلوچستان کے لئے جوڑ توڑ عروج پر

وزیر اعلیٰ بلوچستان کے لئے جوڑ توڑ عروج پر

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top