تازہ ترین
نیب کرپشن قول و فعل کا تضاد

نیب کرپشن قول و فعل کا تضاد

بدعنوان اور کرپشن میں ڈوبے ہوئے معاشرے میں عوام کی ترقی اور فلاح و بہبود کا سوچا بھی نہیں جاسکتا یہی وجہ ہے کہ دنیا ان تمام ملکوں میں جہاں حقوق العباد کی ادائیگی پر یقین رکھتے ہیں اپنے یہاں کرپٹ اور بدعنوان عناصر کو برداشت نہیں کرتے۔ بدقسمتی سے قیام پاکستان کے چند سال بعد ہمارے ہاں بھی بدعنوانی، رشوت اور اقربا پروری کا آغاز ایوب خان کے دور سے جڑیں پکڑنے لگا جو آمرانہ نظام کے تسلسل اور بطن سے پیدا ہونے والے نام نہاد سیاستدانوں کے دور میں تناور درخت بن گیا ۔ آج ہماری حالت یہ ہے کہ ملک کا شاید ہی کوئی شعبہ ایسا موجود ہو جو کرپشن سے پاک ہو، نچلی عدلیہ سے اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز افراد بری طرح کرپشن میں ملوث نظر آتے ہیں۔بدعنوانی اور کرپشن کے انسداد کے لیے ہمارے بدعنوان اہلکاروں نے جو اینٹی کرپشن ، ایف آئی اے اور نیب جیسے ادارے قائم کیے لیکن یہ ادارے چونکہ خود کرپشن سے پیدا ہوئے تھے اس لئے یہ مکمل طور پر کرپٹ افراد کی سرپرستی کرنے والے ادارے کی حیثیت اختیار کرگئے ۔ ہمارے سامنے محکمہ اینٹی کرپشن کی تیس سالہ تاریخ ہے اس کی موجودگی میں بلدیہ اداروں سے لے کر قومی و صوبائی حکومتوں میں کرپشن دن رات فروغ پاتی رہی ، کرپٹ عناصر یا ادارے اپنے ساتھ اینٹی کرپشن کے محکمے کی بھی پرورش کرتے رہے یہی صورتحال قومی احتساب بیورو کی بھی ہے یہ ادارہ ایک آمر نے بنایا ہی اس مقصد کے لئے تھا کہ اپنے سیاسی مخالفین کو احتساب کے نام پر رسوا اور ذلیل کیا جائے۔آمریت کے خاتمے کے بعد برسراقتدار آنیوالی حکومتوں نے بھی اس ادارے کی خامیوں اور جانبداری کے خاتمے کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھایا جس کے نتیجے میں آج سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری شکنجے میں آئے ہوئے ہیں۔ نیب کے چیئرمین ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال کا دعویٰ ہے کہ جس کسی نے بھی ملک کو لوٹا یا نقصان پہنچایا اس کے ساتھ سمجھوتہ نہیں ہوگا لیکن نیب کا عمل آج بھی ماضی کی طرح اس کے برعکس بلاشبہ احتساب بلا امتیاز ہونا چاہیے، حکمرانوں اور اپوزیشن کے ساتھ قانون کی نگاہ میں یکساں سلوک ہونا چاہیے یہ نہ ہو کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور موجودہ اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف تفتیش کے نام پر مہینوں نیب کے عقوبت خانے میں رہے لیکن وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کے اعتراف جرم کے باوجود انہیں جرمانے کی ادائیگی پر آزاد چھوڑ دیا جائے ۔ سابق وزیراعلیٰ اور موجودہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہٰی کے خلاف پنجاب بینک کا معاملہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں گزشتہ کئی برسوں سے موصوف نیب کی کارکردگی کی بدولت پنجاب اسمبلی کے اہم عہدے پر فائز ہوکر چیئرمین نیب کے بلند و بانگ دعوﺅں کا منہ چڑا رہے ہیں ۔سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور موجودہ وزیر دفاع پرویز خٹک کی بدعنوانی کا تازہ سرٹیفکیٹ جرمن کے سفیر مسٹر مارٹن کوبلر نے اپنی ٹویٹ میں دیا ہے ،اخبارات کے مطابق جرمن سفیر نے اپنی ٹویٹ میں کے پی کے میں ایک سڑک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ازاخیل میں جرمنی کے تعاون سے ایک کلو میٹر سڑک بارہ انچ موٹائی کے ساتھ صرف چالیس لاکھ میں تعمیر کی گئی ہے جبکہ خیبرپختونخوا حکومت نے اتنی ہی لمبائی اور اس سے نصف موٹائی کی سڑک ایک کروڑ روپے میں مکمل کی ہے ۔جرمن سفیر نے سوال کیا ہے کہ لاگت میں آخر اتنا بڑا فرق کیوں ؟ شاید اخبارات میں شائع ہونے والے ایک انتہائی ذمے دار ملک کے سفیر کا تبصرہ ہمارے معزز ریٹائرڈ جسٹس چیئرمین نیب کی نگاہ سے نہیں گزرا ۔حکومت کے قواعد و ضوابط کے مطابق سرکاری ملازمین پر اخبارات یا ٹیلی ویژن کے پروگرام میں شرکت کرنے سے قبل حکومت سے باضابطہ تحریری اجازت نامہ لینا ضروری قرار دیا گیا ہے  لیکن ہمیں نہیں معلوم کے نیب پنجاب کے ڈائریکٹر بیک وقت پانچ ٹی وی چینلز پر سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کے خلاف توپوں کا دہانہ کھولنے سے قبل اجازت لی تھی یا نہیں ۔ اطلاعات کے مطابق چیئرمین نیب کو اس کا کچھ علم نہیں تھا ان پروگرامز کو دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ نیب کے ڈائریکٹر لاہور خود کو حکومت کے قواعد و ضوابط سے بالاتر سمجھتے ہیں اور اس کو ٹی وی شوز میں آکر مبینہ طور پر سیاست دانوں کی بدعنوانیوں کی سچ اور جھوٹ پر مبنی کہانیاں سنانے کا اختیار حاصل ہے۔یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے کون کہتا ہے کہ ملک کی دولت لوٹنے والوں کا احتساب نہ کیا جائے؟ یہ بات درست ہے کہ کل تک جن لوگوں کے پاس سترہ سی سی موٹرسائیکل نہ تھی ان کے پاس بلٹ پروف گاڑیاں ہیں اور وہ کروڑوں مالیت کے بنگلوں میں رہائش پذیر ہیں۔ بدعنوان افراد میں سیاست دانوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوگی اکثریت کا تعلق ملک کی نوکر شاہی سے ہے جس سے نیب جیسی مقدس گائے مبرا نہیں ہے۔ بدقسمتی سے ان بدعنوان بیورو کریٹس کے ساتھ ہمارے خونی رشتے بھی ہیں اس لئے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ہمارے ہاتھ اکثر و بیشتر کانپ جاتے ہیں اگر ایسا نہیں ہے تو کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ کے پوش علاقوں کے رہائشیوں کے ماضی اور حال کی چھان بین کی جائے تو پتہ چلے گا کہ لوٹی ہوئی دولت کا سترہ فیصد سے زائد ان بنگلوں کے مالک کے تصرف میں ہے ۔ اگر ہم سنجیدگی کے ساتھ ملک کو بدعنوانیوں سے پاک کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں صحیح معنوں میں ریاست مدینہ کی چھوڑی ہوئی مثالوں پر عمل کرنا ہوگا اس میں بیٹا، بھائی، بہن کے درمیان تمیز نہیں کی جاسکتی ، ہر شخص قانون کی نگاہ میں برابر ہوگا معاشرے کو کرپٹ عناصر سے پاک کرنے کے لیے احتساب بلاامتیاز اور بے دریغ ہونا لازمی شرط ہے۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top