تازہ ترین
نیب پھر بدنامی کی راہ پر

نیب پھر بدنامی کی راہ پر

ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال نے بد نام زمانہ احتساب بیورو کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا تو ملک میں اسکا زبردست خیر مقدم کیا گیا اور توقع ظاہر کی کہ اب احتساب بیورو انتقام بیور نہیں بلکہ انصاف بیورو بن جائے گا ۔ ابتدا میں احتساب بیورو اپنے ماضی کے داغ دھونے میں کامیاب نظر آیا لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا رہا وہ اپنی پرانی روش پر لوٹ آیا ۔ سب سے پہلے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب ‎‌‌‌‌‌‌ثاقب نثار نے نیب کے متعلق شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے متنبہ کیا کہ نیب لوگوں کی پگڑیاں اچھالنا بند کرے ۔ عوام نے محسوس کیا کہ نیب سیاسی ہورہی ہے ،انتخابات سے چند دن قبل سیاسی رہنماوں کی گرفتاریاں اس شک کو تقویت پہنچا رہی تھیں۔ایک بڑا حلقہ مبینہ طور پر بدعنوانیوں میں ملوث افراد کے نیب کے خلاف مچائے جانے والے شوروغوغا کو سیاسی حربہ سمجھ کر نظر انداز کرتے رہے لیکن گذشتہ روز سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسٰی اور جسٹس گلزار کے ریمارکس نے نیب کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے ۔ جسٹس گلزار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ نیب سیاست زدہ کیوں ہورہا ہے، اسکا سب مقدمات میں رویہ ایک جیسا نہیں ہے وہ کچھ مقدمات پر اپنا تمام زور خرچ کررہا ہے ۔ فاضل جج کے مطابق نیب نے پلی بارگین کے علاوہ کوئی کارکردگی نہیں دکھائی۔ دوسری طرف وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ترجمان بھی احتساب بیورو کے نامناسب اور جانبدار رویے کا اشارہ کرتے رہتے ہیں ۔دنیا کے تمام مہذب معاشروں میں والد کے بعد استاد کو سب سے زیادہ احترام اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے ۔ یہ استاد ہی ہے جو ماں کی گود کے بعد بچے کو تہذیب و تمدن سے آگاہ کرنے کیساتھ علم و ہنر کی ابتدا سے انتہا تک تعلیم کے زیور سے آراستہ کرکے معاشرے کا مہذب انسان بنانے کے ساتھ باعزت زندگی کے طور طریقے اختیار کرنے کے سبق بھی سیکھاتاہے۔ بدقسمتی سے جب سے دنیا میں اخلاقیات کی جگہ مادیت نے لی ہے ہماری معاشرتی و سماجی زندگی بھی اس سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ موجودہ اقتصادی اور معاشرتی تبدیلی نے ہمارے اخلاقی رکھ رکھاو اور چھوٹے بڑے کی تمیز کو مٹادیا ہے۔ اساتذہ جن کو آج سے چالیس پچاس سال قبل عزت و احترام کیساتھ دیکھا جاتا تھا آج ہماری نے حسی کا سب سے زیادہ شکار ہیں ۔ ایک زمانہ تھا جب ہمارے والدین استاد کے حوالے سے خدا وند تعالٰی سے اپنی اولاد کے حق میں یہ دعا کرتے تھے کہ

باخدا پہلا سبق ان کو پڑھادے یہ ادیب

با ادب ہے با نصیب ،بے ادب ہے بے نصیب

ہمارے درمیان آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہوتے ہوئے اپنے اساتذہ کو دیکھتے ہی اپنی نشست سے کھڑے ہوکر نہ صرف ان کا حال احوال پوچھتے ہیں بلکہ ان کے مسائل حل کرنے کی بھی ہر ممکن کو شش کرتے ہیں لیکن اب اساتذہ کا احترام رہا نہ ان کی حالت زار پر توجہ دینے والے ۔ آج جو لوگ تنخواہوں اور مراعات کیساتھ پرتعیش زندگی گزار رہے  وہ ان غریب اور ننگے اساتذہ کی قربانیوں کا نتیجہ ہے ۔ ایک زمانہ تھا جب پنجاب و کراچی کی جامعات بین الاقومی شہرت کی حامل تھیں، ان جامعات کے فارغ التحصیل طلبا نے سائنس، کامرس اور ادب میں بین الاقوامی سطح پر شہرت و کامیابی حاصل کی ۔ آج ان جامعات اور ان کے اساتذہ کی حالت انتہائی بری ہے اور ان اداروں کی جعلی ڈگریوں نے ملک کے ساتھ ساتھ ان جامعات کو بھی بری طرح داغدار کردیا ہے۔ گذشتہ دنوں پنجاب و سندھ کی جامعات کے وائس چانسلرز کو جن الزامات کے تحت ہتھکڑیاں لگا کر عدالتوں کے احاطوں میں گھمایا گیا اس سے ملک و قوم کی بدنامی ہوئی ۔نیب کے افسران بالا کے حکم پر جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر کیساتھ مزید چھ ڈاکٹر صاحبان کو عدالت سے مجرم قرار دلوانے سے پہلے بےعزت کیا گیا ۔ دوسری طرف جب ہم خاص مجرمانہ ذہن افراد کی گرفتاریوں اور ان کی عدالتوں میں پیشی کو دیکھتے ہیں تو نیب کا امتیازی سلوک صاف نظر آتا ہے، راو انوار جس پر درجنوں افراد کے قتل اور ماورائے عدالت ہلاک کرنے کے الزامات ہیں، انور مجید اور اس کے ساتھیوں پر اربوں روپے غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل کرنے کا مقدمہ ہے، شرجیل میمن اور دوسرے افراد کہنے کو جیل میں بند ہیں لیکن نامعلوم امراض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اسپتالوں کو اپنی رہائشگاہ بنائے ہوئے ہیں۔یہ سب کچھ ملک کے انتہائی دیانتدار ادارے نیب کی موجودگی میں ہورہا ہے ۔ جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ ہتک آمیز رویے پر عدالت عالیہ کے چیف جسٹس کا فیصلہ یقیناً سماجی ،معاشرتی اور اخلاقی برائیوں سے پراگندہ ماحول میں تازہ ہوا کے جھونکے کے مترادف ہے لیکن کیا ہی اچھا ہوکہ وہ اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل لاہور، کراچی، راولپنڈی اور حیدر آباد میں سے کسی ایک شہر کی جیل کا اچانک دورہ کریں تو ان کو پتہ چل جائے گا کہ اصلاح خانے کے نام پر قائم یہ ادارے عقوبت خانے بن چکے ہیں ۔رشوت کا بازار دیکھنا ہے تو کبھی ملک کے کسی بھی جیل میں ملاقاتی کی حیثیت سے چلے جائیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ پولیس اور جیل کے عملے میں برائیاں کس حدتک سراہیت کرچکی ہیں۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top