تازہ ترین
نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزاؤں کے خلاف اپیل پر فیصلہ موخر

نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزاؤں کے خلاف اپیل پر فیصلہ موخر

اسلام آباد: (20 اگست 2018) ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ موخر کردیا ہے۔

شریف خاندان کی سزا معطلی سے متعلق جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں اورنگزیب پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔

اس موقع پرنیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ کے حکم پرشریف خاندان کے خلاف ریفرنس دائرکیے۔ عدالت عظمیٰ کے حکم پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی۔ لندن فلیٹس نیلسن اور نیسکول کے نام پر تھے، ہم نے دستاویزات سے ثابت کردیا ان کمپنیوں کے مالک نوازشریف ہیں۔ یہ جائیدادیں بے نامی دار کے نام پر تھیں، نیلسن کمپنی فلیٹ نمبر 16 کی 1995ء سے مالک ہے۔ یہ ٹائٹل دستاویز 13 دسمبر 2017ء میں جاری ہوئی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ نیلسن لمیٹڈ کی ملکیت کسی شخص کی تو نہیں ہے۔ اس پر نیب پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ فلیٹس جس کے قبضے میں ہیں کمپنی کا مالک بھی وہی ہوگا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے کہ اپنے آپ کو سزا معطلی تک محدود رکھیں۔ جس پر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ہمارا کیس یہ ہے کہ یہ جائیداد ان کی ملکیت ہے۔ ایم ایل اے کے ذریعے معلوم ہوا کہ نیلسن اور نیسکول مریم کی ملکیت ہے۔ 2006ء میں بینیفشل مالک ہونے کو ظاہر کرنا ضروری تھا۔ عدالت میں پیش کی گئی 2006ء کی ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ دفاع کا کیس ہے ضروری عوامل کی تفتیش نہیں کی گئی۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ ان کا موقف ہے۔ معاہدہ سرے سے موجود ہی نہیں۔ 12 ملین درہم کی بات بھی درست نہیں ہے۔ ان کا ذریعہ بھی ہم نے غلط ثابت کیا اور ثبوت بھی لائے۔ ہم معلوم ذرائع آمدن کا ثبوت بھی لائے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ وہ معلوم ذرائع آمدن کیا ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ وہ معلوم ذرائع آمدن فلو چارٹ ہیں۔جسٹس اطہر نے پوچھا کہ آپ ہمیں کیا دکھانا چاہتے ہیں؟سردار مظفر نے کہا کہ میں آپ کو 1980ء کا جعلی معاہدہ دکھانا چاہتا ہوں۔

اس موقع پر نیب پراسیکیوٹرنے 1980ء کے معاہدے سے متعلق جے آئی ٹی رپورٹ کی تفصیلات سنائیں۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ جو ٹرائل کورٹ میں ہوا وہ بتائیں۔ ہمیں صرف ٹرائل کورٹ کا ریکارڈ دیکھنا ہے۔ سپریم کورٹ نے نتیجہ نہیں نکالا، معاملہ ٹرائل کورٹ کوبھیجا، ہمیں اب صرف ٹرائل کورٹ کا نتیجہ ہی دیکھنا ہے۔عدالت نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جس کے چند گھنٹوں بعد فیصلے کو موخر کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

ایون فیلڈ ریفرنس: سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

ایون فیلڈ ریفرنس کے مجرمان سے ملاقات کا دن

ایون فیلڈ ریفرنس کے مجرمان سے ملاقات کا دن

Comments are closed.

Scroll To Top