تازہ ترین
نوازشریف لندن فلیٹس کے مالک نہیں ہیں، خواجہ حارث کے دلائل

نوازشریف لندن فلیٹس کے مالک نہیں ہیں، خواجہ حارث کے دلائل

اسلام آباد: (20 جون 2018)ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ نوازشریف لندن فلیٹس کے مالک نہیں ہیں، الزام ثابت کرنے کی ذمہ داری پراسیکیوشن پرعائد ہوتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں شریف فیملی کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی، ۔نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے آج دوسرے روز بھی حتمی دلائل دیئے۔

اپنے دلائل میں خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ لندن فلیٹس نوازشریف کے نام نہیں ہیں، اور نہ ہی بی وی آئی کی دستاویزات بھی نوازشریف کی ملکیت ثابت نہیں کرتیں، اس کے علاوہ ایسی کوئی بینک ٹرانزیکشن بھی نہیں جس سے ملکیت ثابت ہو۔

خواجہ حارث نے کہا کہ واجد ضیا کا یہ کہنا کہ نوازشریف لندن فلیٹس میں رہتے رہے اس لئے مالک ہیں، جس پر خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا میں ابھی جاؤں اور ان فلیٹس میں چائے پی لوں تو کیا مالک بن جاؤنگا، ایک شخص اتنا بڑا جھوٹ کیسے بول سکتا ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ کیس پہلے استغاثہ نے ثابت کرنا ہے اس کے بعد بارثبوت ملزمان پرہے، اس کیس میں استغاثہ نے پہلے ہی بار ثبوت ملزمان پر ڈال دیا،استغاثہ نے آمدن کے ذرائع ہی معلوم نہیں کیے تو آمدن اور اثاثوں میں تضاد کیسے معلوم کیا۔

خواجہ حارث نے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حاکم علی زرداری کیس میں سپریم کورٹ نے بارثبوت سے متعلق چار شرائط رکھی تھیں، معلوم ذرائع آمدن استغاثہ ثابت کر دے پھر بار ثبوت ملزمان پرآتا ہے ،یہی چیز سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں لکھی ہے۔نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ کیپٹل ایف زیڈ ای کا ایون فیلڈ پراپرٹی سے کچھ لینا دینا نہیں، جبکہ واجد ضیا نے لندن فلیٹس کے استعمال اور اپنے ریکارڈ کے حوالے سے غلط بیانی کی، اور استغاثہ کے پاس کوئی ایسا گواہ نہیں جو کہہ سکے نوازشریف نیلسن نیسکول کے بے نامی دار یا اصل ملک ہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ بے نامی دار کی جائیداد ثابت کرنے کے لیے سورس آف منی اور ٹرانزیکشن آف منی کا ہونا لازمی ہے، نواز شریف بے نامی دار ہیں اور ان کے بچے نامی دار، ایسی کوئی شہادت استغاثہ کے پاس نہیں ہے۔

بعد ازاں کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی، نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے حتمی دلائل کل بھی جاری رہیں گے۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

اس سے قبل آج جب سماعت شروع ہوئی تو نواز شریف کے سابق وکیل خواجہ حارث بھی احتساب عدالت پہنچے، جج محمد بشیر نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ کیا وہ اپنی وکالت نامے والی درخواست واپس لے رہے ہیں؟ساتھ ہی انہوں نے ریمارکس دیئے کہ وکالت نامہ واپس لینے والی آپ کی درخواست خارج کر دی ہے۔

جس پر نیب پراسیکوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ہم نے تو مخالفت بھی نہیں کی، پھر بھی درخواست خارج ہوگئی،خواجہ حارث نے جواب دیا کہ پہلے ایک اور درخواست دینی ہے، بطور وکیل موقف اپنانا میرا حق ہے، ہمیں بھی معلوم ہوجائے گا کہ کیس اکھٹے چلیں گے یا علیحدہ،ساتھ ہی انہوں نے جج کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ ہی بتا دیں کہ اس کیس کی کارروائی کو کیسے آگے چلانا ہے، ہماری کوشش یہ نہیں ہونی چاہیے کہ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچی جائے، ہم سب کو ایک دوسرے سے تعاون کی ضرورت ہے۔خواجہ حارث نے مزید کہا کہ ہر چیز کے لیے قانون ہوتا ہے، سپریم کورٹ نے ہفتے کو بھی عدالت لگانے کا کہا، یہ کون سا قانون ہے؟اس موقع پر نواز شریف کے وکیل جہانگیر جدون کا کہنا تھا کہ ‘کہا جا رہا ہے کہ عدالت سزا کیوں نہیں سنا رہی۔

بعد ازاں نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے ایون فیلڈ ریفرنس میں حتمی دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ ریفرنس کا حصہ نہیں بنائی جاسکتی،سپریم کورٹ نے نیب کو جے آئی ٹی کے جمع کیے گئے مواد پرریفرنس فائل کرنے کا کہا،تاہم جے آئی ٹی نے شواہد لینے کی بجائے صرف ملزمان کا بطور گواہ بیان ریکارڈ کیا۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ملزمان پرکرپشن کے الزامات کے کوئی شواہد پیش نہیں کئے گئے، جبکہ فرد جرم میں کہا گیا کہ نواز شریف، مریم نوازاور دیگرملزمان لندن فلیٹس کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے، ضمنی ریفرنس میں نواز شریف پر حسین نواز کے نام پر لندن فلیٹس خریدنے کا الزام عائد کیا گیا،لیکن فرد جرم سب ملزمان پر اکٹھی عائد کی گئی، کیس کی نوعیت کے حوالے سے استغاثہ خود کنفیوز ہے۔کیس کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں بحث مباحثے پر اعتراض کرتے ہوئےنوازشریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ مہذب معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا کہ اینکرز ٹی وی پر بیٹھ کر کیس پر تبصرے کریں۔ بعد ازاں احتساب عدالت نے ریفرنسز کی سماعت کل تک ملتوی کردی ، جہاں خواجہ حارث اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

اس سے قبل چودہ جون کو ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے جہانگیر جدون نے وکالت نامہ داخل کرایا گیا، جبکہ مریم نواز کے وکیل کی عدم حاضری کے باعث  کیس کی سماعت انیس جون تک ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا گیا تھا کہ آئندہ سماعت پرامجد پرویز ہرصورت حتمی دلائل شروع کریں۔ سماعت کے موقع پر معزز جج نے استفسار کیا کہ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز کہاں ہے، انہیں کیس میں حتمی دلائل دینے ہیں، جس پر امجد پرویز کے معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ طیبعت ناسازی کے باعث وہ آج عدالت میں پیش نہ ہوسکے، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کی جارہے ہیں، جبکہ باہر جا کر یہ لوگ شور کرتے ہیں ٹرائل میں تا خیر ہو رہی ہے۔

نیب پراسکیوٹر سردار مظفر کا کہنا تھا کہ اگر ان کے وکلاء کیس نہیں چلا سکتے تو ملزمان خود آ کر دلائل دیں، اپنی مرضی کا وقت رکھوا کر کہتے ہیں آج پیش نہیں ہو رہے۔نیب پراسکیوٹر کا موقف سننے کے بعد معزز جج نے مریم نواز کے وکیل امجد پرویز کو آئندہ سماعت پر ہرصورت حتمی دلائل شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت انیس جون تک ملتوی کردی تھی۔

اس سے قبل  سماعت کے دوران ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ نواز شریف کے وکیل کی حیثیت سے بیرسٹر جہانگیر جدون کا وکالت نامہ آگیا ہے، امجد پرویز نہیں ہیں تو بیرسٹر جہانگیر جدون کو کہیں دلائل دیں جس پر بیرسٹر جہانگیر جدون نے کہا مجھے ابھی موکل کی جانب سے ہدایات نہیں ملیں، آج صرف ملزمان کے استثنٰی کی درخواست دی، یہی ہدایات تھیں۔معاون وکیل نے کہا کہ خواجہ صاحب نے اس کیس میں نو ماہ بڑی محنت کی، کسی دوسرے وکیل کے لیے یہ کیس آگے چلانا مشکل ہوگا، نوازشریف خواجہ حارث سے رابطے میں ہیں، راضی کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ جج احتساب عدالت نے کہا جہانگیر جدون پہلے دن سے عدالت آ رہے ہیں، کیس اچھی طرح سمجھتے ہیں

واضح رہے کہ بارہ جون کو ہونے والی سماعت کے موقع پر احتساب عدالت نے خواجہ حارث کی نیب ریفرنسز سے دستبرداری کی درخواست مسترد کردی تھی۔
جج محمد بشیر نے ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہیں نہیں لکھا کہ ہفتے اوراتوارکو سماعت لازمی ہے،اس موقع پر عدالت نے سپریم کورٹ کے حکم نامے کی کاپیاں فریقین کو فراہم کرنے کا حکم دیا۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

دوران سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نوازشریف سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے کوئی دوسرا وکیل کیا ہے یا خواجہ حارث صاحب کو ہی کہیں گے؟ جس پرنواز شریف نے جواب دیا کہ یہ کوئی اتنا آسان فیصلہ نہیں،ایک وکیل جس نے اس کیس میں اتنی محنت کی ہو اسے چھوڑ کر نیا وکیل تلاش کرنا شروع کردوں؟

نواز شریف نے عدالت میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم تو نو ماہ سے یہاں آرہے ہیں، اور سو کے قریب پیشیاں بھگت چکے ہیں،کیا کوئی مثال ہے کہ کسی نے سو کے قریب پیشیاں بھگتی ہوں؟، احتساب عدالت میں پیشی کے لئے ہم تو سحری کر کے لاہور سے نکل پڑتے ہیں۔آٹھ جون کو ہونے والی سماعت کے موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے اپنے شواہد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف ہی لندن فلیٹس کے اصل مالک ہیں، ڈپٹی پروسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ قطری والا دفاع بھی ان کا اپنا ہے جسے ہم غلط ثابت کر چکے ہیں، یہ پراپرٹی ان کی ہے ہم نے شواہد سے ثابت کیا۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

سردار مظفر عباسی کا کہنا تھا کہ ثابت کرچکے کہ پراپرٹی 1993 سے ان کی ہے، یہ لندن فلیٹ کی ملکیت سے انکاری بھی نہیں، فرد جرم کے مطابق ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے، بار ثبوت ان پر تھا کہ وہ وضاحت کرتے مگر وہ کوئی ثبوت نہ دے سکے۔سردار مظفر عباسی کے مطابق مریم نواز نے ٹرسٹ ڈیڈ اصل بتا کر جے آئی ٹی میں دی جب کہ ریڈلے کی رپورٹ میں اسے خود ساختہ اور جعلی قرار دیا گیا جب کہ ملزمان نے عدالت میں کوئی ٹرسٹ ڈیڈ نہیں دی،ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے عدالت کو بتایا تھا نواز شریف کے بطور وزیراعظم قوم سے خطاب میں کہا گیا تھا کہ کرپشن سے جائیداد بنانے والا جائیداد اپنے نام پر نہیں رکھتا اور ان کا یہ بیان بطور ثبوت استغاثہ کی طرف سے عدالت میں پیش کیا گیا۔سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ہمارا کیس بھی یہی ہے کہ نواز شریف نے اپنے بچوں کے نام جائیداد بنائی، پبلک آفس ہولڈر کرپشن کے پیسے سے جائیداد بناتا ہے تو اپنے نام پر نہیں رکھتا۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق کیلبری فونٹ 2007 سے پہلے کمرشل استعمال کے لیے دستیاب نہیں تھا اور ریڈلے رپورٹ کے مطابق دستاویزات میں جعلسازی پائی گئی ہے۔سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ریڈلے کے بیان اور رپورٹ کے بعد ملزمان نے کسی ایکسپرٹ کو بطور گواہ پیش نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیے

خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈ نہ بنانے پر چیف جسٹس کا از خود نوٹس

مسلم لیگ ن نے لاہور کے لیئے امیدواروں کا حتمی چناؤ کر لیا

 

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top