تازہ ترین
میچ فکسنگ کی نئی لہر

میچ فکسنگ کی نئی لہر

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل برسوں سے میچ فکسنگ کے ناسور پر قابو پانے میں کوشاں ہے۔ لیکن یہ کچھ عرصہ بعد کسی نہ کسی شکل میں پھر سامنے آجاتا ہے۔ آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے نئے جنرل منیجر الیکس مارشل کے لئے کرپشن پر قابو پانا بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے۔


یواے ای میں سری لنکا سے ون ڈے سیریز کے دوران بکیز نے پاکستان کے کپتان سرفرازاحمد کوفکسنگ پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ پھر زمبابوے کے کپتان گریم کریمرکو جال میں پھنسانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن دونوں کپتان نے فوری طور پر اپنے بورڈ حکام اورآئی سی سی کواس سے آگاہ کرکے فکسرزکی کوششوں پر پانی پھیردیا۔ ذرائع کے مطابق ایک اورکپتان سے بھی اس بارے میں رابطہ کیاگیاتھا۔ تاہم اس کی تصدیق نہ ہوسکی۔

میچ فکسنگ کے حوالے سے بڑا دھماکا واکا پرتھ میں تیسرے ایشیز ٹیسٹ سے پہلے برطانوی اخباردی سن نے اسٹنگ آپریشن کے ذریعے کردیا۔ اخبارکے خفیہ رپورٹر نے بھارتی نژاد دوبکیز سوبرزجوبان اورسکسینا سے چار ماہ کی تفتیش کے بعد دھماکاخیز رپورٹ پیش کی۔پرتھ ٹیسٹ سے ایک روز پہلے شائع ہونے والی اس رپورٹ میں جوبان اور سکسینا نے ایشیزسیریز سمیت دنیا بھر میں کوئی بھی میچ فکس کرانے کا دعویٰ کرکے آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کو متحرک کردیا۔

بکیز کے مطابق وہ ایشیز ٹیسٹ سمیت کسی بھی بین الاقوامی یا لیگ میچ کوفکس کرسکتے ہیں۔ وہ میچ کا ایک یادوسیشنز یا کوئی مخصوص اوور فکس کرنے پرقادر ہیں۔ان کے دعوے کے مطابق آسٹریلیا، پاکستان ، جنوبی افریقا اوردیگر ممالک کے کئی کرکٹرز ان کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ ہیں۔

انہوں نے بتایاکہ ہرکھلاڑی کا اپنا ایجنٹ یا بکی موجود ہے۔ ان سے معاملات کسی سابق کرکٹر یامنتظمین کے ذریعے طے کئے جاتے ہیں۔ کسی بھی میچ میں اسپاٹ فکسنگ کھلاڑی مخصوص انداز میں اشارہ کرے گا جس کے مطابق پلیئرمخصوص کلرکی گھڑی،آستین، گلوز یا ہیلمٹ کواتار کراشارہ کرے گا۔ جبکہ بولراوورز سے قبل رک کر،فیلڈ میں تبدیلی یاگھوم کرآگاہ کرے گا۔ جس کے بعد بکیز کے پاس شرط بک کرنے کیلئے تین منٹ ہوں گے۔پھرمخصوص سیشن یااوور میں بننے والے رنز،گرنے والی وکٹس، نویا وائیڈ بال جیسے تفصیلات پروگرام کے مطابق ہوں گی۔

جوبان نے خفیہ رپورٹر سے ایک سیشن فکس کرنے کیلئے 69ہزارپاؤنڈز اوردوسیشن کے ایک لاکھ چالیس ہزارپاؤنڈ طلب کئے۔

آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے تحقیقات شروع کردیں۔ الیکس مارشل نے پرتھ ٹیسٹ کوکلیئرکردیا۔ اوربتایاکہ آسٹریلیا اورانگلینڈ کے کسی کھلاڑی کے فکسنگ میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ لیکن ہم اس معاملے کونظرانداز نہیں کرسکتے۔ تحقیقات جاری ہیں۔ کرکٹ سے کرپشن کا ناسورختم کرنے کیلئے کوئی کسرنہیں چھوڑی جائے گی۔ کھلاڑیوں کوفکسنگ پراکسانے والوں کوبھی نہیں بخشاجائے گا۔

کرکٹ آسٹریلیا کے سربراہ جیمس سدرلینڈ کا کہنا ہے کہ معاملہ بہت سیریس ہے۔ تاہم آسٹریلوی پلیئرز کھیل سے کافی اچھی آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ اس لئے ان کے فکسنگ میں ملوث ہونے کاامکان نہیں ہے۔ اخبار سن کا تعلق اسی ادارے نیوزآف دی ورلڈ سے جس نے دوہزاردس میں پاکستان کے تین کرکٹرزکا بھانڈا پھوڑا تھا۔جس کے نتیجے میں سلمان بٹ، محمدآصف اور محمدعامر پر پابندی عائد ہوئی تھی لیکن یہ ادارہ غلط رپوٹنگ پربند کردیاگیا تھا۔ وہ اس بار بھی پرتھ ٹیسٹ میں شامل کسی کھلاڑی کے خلاف کچھ ثابت نہ کرسکے۔ لیکن بھارتی سٹے بازوں کوبے نقاب کرنے میں ضرور کامیاب ہوئے ہیں۔

:یہ بھی پڑھئیے

آئی سی سی رینکنگ: جنوی افریقہ اور کوہلی بدستور نمبر ون

ایشز سیریز کینگروز کے نام

Comments are closed.

Scroll To Top