تازہ ترین
میاں صاحب، اعتبار سے انکار تک

میاں صاحب، اعتبار سے انکار تک

سیاسی گرد اتنی زیادہ اڑ رہی ہے کہ قانونی معاملات پر دھندلاہٹ بڑھتی جا رہی ہے۔ ٹھیک ہے کہ ثبات صرف تغیر کو ہے لیکن تغیر نے تحیر میں مبتلا کر دیا ہے۔ پل پل بدلتی صورتحال میں اچھے اچھوں کے تجزیئے اور تبصرے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ کوئی بھی خود کو صائب الرائے کہنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ ایسے میں مجھ ناچیز کے لئے حالات حاضرہ کا تجزیہ کرنا اور مستقبل کی امکانی منظر کشی کرنا کارِ دارد ہے، لیکن اس کے بنا چارہ بھی نہیں کہ شعبہ صحافت سے وابستہ ہم لوگ جب تک اپنی دانشوری نہ جھاڑ لیں، کھانا ہضم ہوتا ہے نہ سکون سے نیند آتی ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ بقراط بنے بنا کوئی چارہ ہی نہیں۔۔Image result for Nawaz Sharif
بڑے میاں صاحب کا لندن میں طویل قیام، قریبی ساتھیوں کی طرف سے جلد واپس نہ آنے کے اشارے، شہباز شریف کو پارٹی صدر بنانے کی مصدقہ خبریں، بیگم کلثوم نواز کے ذریعے بڑے میاں صاحب کی ایوان وزیراعظم تک دوبارہ رسائی کی افواہیں، اسحاق ڈٓار کی وزارت خزانہ کا قلمدان چھوڑنے کی باتیں۔۔۔ سب دھری کی دھری رہ گئیں اور میاں صاحب نے لندن سے اڑان بھری تو سیدھے شہرِ اقتدار میں پہنچ کر دم لیا۔ میرے جیسے سارے سیاسی و صحافتی بقراط انگشت بدنداں رہ گئے کہ یہ اچانک فیصلہ کس کی سرگوشی پر ہوا اور کہیں اس کے پیچھے کوئی اندرونی یا بیرونی اشارہ تو کارفرما نہیں۔ یار لوگ تو انتہائی باوثوق ذرائع سے یہ دعوے تک کرنےلگے کہ ڈیل ہو گئی ہے، اب ریورس گیئرلگنا شروع ہو جائے گا۔ لیکن ایک بار پھر میاں صاحب نے سب کو حیران کر دیا اور ایسی دھواں دھار پریس کانفرنس کی کہ ڈیل کی باتیں کرنے والے بغلیں جھانکنے کے قابل بھی نہ رہے۔Image result for Nawaz Sharifلندن سے واپسی کا غیر متوقع فیصلہ، احتساب عدالت میں پیشی اور اس کے بعد ایک اہم ادارے کے خلاف چارج شیٹ نما پریس کانفرنس سے یوں لگ رہا ہے کہ میاں صاحب ممنون حسین کی جگہ نہ ایوان صدر جانا چاہتے ہیں، نہ ہی بیگم کلثوم نواز کو وزیراعظم بنوا کر دوبارہ ایوان وزیراعظم میں براجمان ہونے کے خواہش مند ہیں، بلکہ شاید اب انہوں نے عدالت سے جیل کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جن عدالتوں پر پہلے اعتبار کی باتیں کی جاتی رہیں، اور عدلیہ کی بنائی جے آئی ٹی میں پیشی کو قانون کی حکمرانی کی اعلیٰ مثال قرار دیا جاتا رہا، اب اگر اسی عدلیہ اور اس کی بنائی جے آئی ٹی کے ارکان کی طرف توپوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے تو یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ اب کی بار جدہ کی جگہ جیل کا چناو کر لیا گیا ہے۔Image result for Nawaz Sharifمیاں صاحب نے کچھ عرصہ پہلے فرمایا تھا کہ پہلے وہ نظریاتی نہیں تھے، اب ہو گئے ہیں، اس پر محترم آصف زرداری صاحب نے تبصرہ کیا تھا کہ بندہ نظریاتی کتابیں پڑھ کر ہوتا ہے، میاں صاحب بتائیں انہوں نے کتنی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔ تو لگتا یوں ہے کہ زرداری صاحب کا یہ گلہ دور کرنے کے لئے میاں صاحب کچھ عرصہ زرداری صاحب کی طرح ہی کسی اے کلاس بیرک میں مطالعہ کرتے گزاریں گے۔Image result for Nawaz Sharif GT Roadبرسبیل تذکرہ میاں صاحب کا ایک جملہ دھرانا چاہتا ہوں کہ ملک میں کچھ عجیب ہونے جا رہا ہے، یہ جملہ بہت ہی اہم ہے اور اسے ابھی تک میرے جیسے بقراطوں اور فیس بکی دانشوروں نے وہ توجہ نہیں دی جس کا یہ مستحق ہے۔ حکومتوں کا آنا جانا، برسراقتدار چہرے بدل جانا، غیرجمہوری قوتوں کے ماورائے آئین اقدامات تو اس ملک خداداد میں معمول کی کارروائی ہیں، تو پھر عجیب کیا ہونے جا رہا ہے؟Image result for Nawaz Sharif GT Road
مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی، ہے کوئی جو اس پر روشنی ڈال سکے؟میاں صاحب، اعتبار سے انکار تک!!
سیاسی گرد اتنی زیادہ اڑ رہی ہے کہ قانونی معاملات پر دھندلاہٹ بڑھتی جا رہی ہے۔ ٹھیک ہے کہ ثبات صرف تغیر کو ہے لیکن تغیر نے تحیر میں مبتلا کر دیا ہے۔ پل پل بدلتی صورتحال میں اچھے اچھوں کے تجزیئے اور تبصرے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ کوئی بھی خود کو صائب الرائے کہنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ ایسے میں مجھ ناچیز کے لئے حالات حاضرہ کا تجزیہ کرنا اور مستقبل کی امکانی منظر کشی کرنا کارِ دارد ہے، لیکن اس کے بنا چارہ بھی نہیں کہ شعبہ صحافت سے وابستہ ہم لوگ جب تک اپنی دانشوری نہ جھاڑ لیں، کھانا ہضم ہوتا ہے نہ سکون سے نیند آتی ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ بقراط بنے بنا کوئی چارہ ہی نہیں۔۔Image result for Nawaz Sharif GT Roadبڑے میاں صاحب کا لندن میں طویل قیام، قریبی ساتھیوں کی طرف سے جلد واپس نہ آنے کے اشارے، شہباز شریف کو پارٹی صدر بنانے کی مصدقہ خبریں، بیگم کلثوم نواز کے ذریعے بڑے میاں صاحب کی ایوان وزیراعظم تک دوبارہ رسائی کی افواہیں، اسحاق ڈٓار کی وزارت خزانہ کا قلمدان چھوڑنے کی باتیں۔۔۔ سب دھری کی دھری رہ گئیں اور میاں صاحب نے لندن سے اڑان بھری تو سیدھے شہرِ اقتدار میں پہنچ کر دم لیا۔ میرے جیسے سارے سیاسی و صحافتی بقراط انگشت بدنداں رہ گئے کہ یہ اچانک فیصلہ کس کی سرگوشی پر ہوا اور کہیں اس کے پیچھے کوئی اندرونی یا بیرونی اشارہ تو کارفرما نہیں۔ یار لوگ تو انتہائی باوثوق ذرائع سے یہ دعوے تک کرنےلگے کہ ڈیل ہو گئی ہے، اب ریورس گیئرلگنا شروع ہو جائے گا۔ لیکن ایک بار پھر میاں صاحب نے سب کو حیران کر دیا اور ایسی دھواں دھار پریس کانفرنس کی کہ ڈیل کی باتیں کرنے والے بغلیں جھانکنے کے قابل بھی نہ رہے۔Image result for Nawaz Sharif GT Road
لندن سے واپسی کا غیر متوقع فیصلہ، احتساب عدالت میں پیشی اور اس کے بعد ایک اہم ادارے کے خلاف چارج شیٹ نما پریس کانفرنس سے یوں لگ رہا ہے کہ میاں صاحب ممنون حسین کی جگہ نہ ایوان صدر جانا چاہتے ہیں، نہ ہی بیگم کلثوم نواز کو وزیراعظم بنوا کر دوبارہ ایوان وزیراعظم میں براجمان ہونے کے خواہش مند ہیں، بلکہ شاید اب انہوں نے عدالت سے جیل کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جن عدالتوں پر پہلے اعتبار کی باتیں کی جاتی رہیں، اور عدلیہ کی بنائی جے آئی ٹی میں پیشی کو قانون کی حکمرانی کی اعلیٰ مثال قرار دیا جاتا رہا، اب اگر اسی عدلیہ اور اس کی بنائی جے آئی ٹی کے ارکان کی طرف توپوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے تو یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ اب کی بار جدہ کی جگہ جیل کا چناو کر لیا گیا ہے۔Image result for Nawaz Sharif GT Roadمیاں صاحب نے کچھ عرصہ پہلے فرمایا تھا کہ پہلے وہ نظریاتی نہیں تھے، اب ہو گئے ہیں، اس پر محترم آصف زرداری صاحب نے تبصرہ کیا تھا کہ بندہ نظریاتی کتابیں پڑھ کر ہوتا ہے، میاں صاحب بتائیں انہوں نے کتنی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔ تو لگتا یوں ہے کہ زرداری صاحب کا یہ گلہ دور کرنے کے لئے میاں صاحب کچھ عرصہ زرداری صاحب کی طرح ہی کسی اے کلاس بیرک میں مطالعہ کرتے گزاریں گے۔Image result for Nawaz Sharif GT Roadبرسبیل تذکرہ میاں صاحب کا ایک جملہ دھرانا چاہتا ہوں کہ ملک میں کچھ عجیب ہونے جا رہا ہے، یہ جملہ بہت ہی اہم ہے اور اسے ابھی تک میرے جیسے بقراطوں اور فیس بکی دانشوروں نے وہ توجہ نہیں دی جس کا یہ مستحق ہے۔ حکومتوں کا آنا جانا، برسراقتدار چہرے بدل جانا، غیرجمہوری قوتوں کے ماورائے آئین اقدامات تو اس ملک خداداد میں معمول کی کارروائی ہیں، تو پھر عجیب کیا ہونے جا رہا ہے؟Image result for Nawaz Sharif GT Road
مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی، ہے کوئی جو اس پر روشنی ڈال سکے؟میاں صاحب، اعتبار سے انکار تک!!
سیاسی گرد اتنی زیادہ اڑ رہی ہے کہ قانونی معاملات پر دھندلاہٹ بڑھتی جا رہی ہے۔ ٹھیک ہے کہ ثبات صرف تغیر کو ہے لیکن تغیر نے تحیر میں مبتلا کر دیا ہے۔ پل پل بدلتی صورتحال میں اچھے اچھوں کے تجزیئے اور تبصرے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ کوئی بھی خود کو صائب الرائے کہنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ ایسے میں مجھ ناچیز کے لئے حالات حاضرہ کا تجزیہ کرنا اور مستقبل کی امکانی منظر کشی کرنا کارِ دارد ہے، لیکن اس کے بنا چارہ بھی نہیں کہ شعبہ صحافت سے وابستہ ہم لوگ جب تک اپنی دانشوری نہ جھاڑ لیں، کھانا ہضم ہوتا ہے نہ سکون سے نیند آتی ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ بقراط بنے بنا کوئی چارہ ہی نہیں۔۔Image result for Nawaz Sharif GT Roadبڑے میاں صاحب کا لندن میں طویل قیام، قریبی ساتھیوں کی طرف سے جلد واپس نہ آنے کے اشارے، شہباز شریف کو پارٹی صدر بنانے کی مصدقہ خبریں، بیگم کلثوم نواز کے ذریعے بڑے میاں صاحب کی ایوان وزیراعظم تک دوبارہ رسائی کی افواہیں، اسحاق ڈٓار کی وزارت خزانہ کا قلمدان چھوڑنے کی باتیں۔۔۔ سب دھری کی دھری رہ گئیں اور میاں صاحب نے لندن سے اڑان بھری تو سیدھے شہرِ اقتدار میں پہنچ کر دم لیا۔ میرے جیسے سارے سیاسی و صحافتی بقراط انگشت بدنداں رہ گئے کہ یہ اچانک فیصلہ کس کی سرگوشی پر ہوا اور کہیں اس کے پیچھے کوئی اندرونی یا بیرونی اشارہ تو کارفرما نہیں۔ یار لوگ تو انتہائی باوثوق ذرائع سے یہ دعوے تک کرنےلگے کہ ڈیل ہو گئی ہے، اب ریورس گیئرلگنا شروع ہو جائے گا۔ لیکن ایک بار پھر میاں صاحب نے سب کو حیران کر دیا اور ایسی دھواں دھار پریس کانفرنس کی کہ ڈیل کی باتیں کرنے والے بغلیں جھانکنے کے قابل بھی نہ رہے۔Image result for Nawaz Sharif GT Road
لندن سے واپسی کا غیر متوقع فیصلہ، احتساب عدالت میں پیشی اور اس کے بعد ایک اہم ادارے کے خلاف چارج شیٹ نما پریس کانفرنس سے یوں لگ رہا ہے کہ میاں صاحب ممنون حسین کی جگہ نہ ایوان صدر جانا چاہتے ہیں، نہ ہی بیگم کلثوم نواز کو وزیراعظم بنوا کر دوبارہ ایوان وزیراعظم میں براجمان ہونے کے خواہش مند ہیں، بلکہ شاید اب انہوں نے عدالت سے جیل کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جن عدالتوں پر پہلے اعتبار کی باتیں کی جاتی رہیں، اور عدلیہ کی بنائی جے آئی ٹی میں پیشی کو قانون کی حکمرانی کی اعلیٰ مثال قرار دیا جاتا رہا، اب اگر اسی عدلیہ اور اس کی بنائی جے آئی ٹی کے ارکان کی طرف توپوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے تو یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ اب کی بار جدہ کی جگہ جیل کا چناو کر لیا گیا ہے۔Image result for Nawaz Sharif GT Road
میاں صاحب نے کچھ عرصہ پہلے فرمایا تھا کہ پہلے وہ نظریاتی نہیں تھے، اب ہو گئے ہیں، اس پر محترم آصف زرداری صاحب نے تبصرہ کیا تھا کہ بندہ نظریاتی کتابیں پڑھ کر ہوتا ہے، میاں صاحب بتائیں انہوں نے کتنی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔ تو لگتا یوں ہے کہ زرداری صاحب کا یہ گلہ دور کرنے کے لئے میاں صاحب کچھ عرصہ زرداری صاحب کی طرح ہی کسی اے کلاس بیرک میں مطالعہ کرتے گزاریں گے۔Image result for Nawaz Sharif GT Road
برسبیل تذکرہ میاں صاحب کا ایک جملہ دھرانا چاہتا ہوں کہ ملک میں کچھ عجیب ہونے جا رہا ہے، یہ جملہ بہت ہی اہم ہے اور اسے ابھی تک میرے جیسے بقراطوں اور فیس بکی دانشوروں نے وہ توجہ نہیں دی جس کا یہ مستحق ہے۔ حکومتوں کا آنا جانا، برسراقتدار چہرے بدل جانا، غیرجمہوری قوتوں کے ماورائے آئین اقدامات تو اس ملک خداداد میں معمول کی کارروائی ہیں، تو پھر عجیب کیا ہونے جا رہا ہے؟
مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی، ہے کوئی جو اس پر روشنی ڈال سکے؟

گامے پہلوان کی پوتی میدان مارے گی

این اے 120: ضمنی انتخابات کا احوال

Comments are closed.

Scroll To Top