تازہ ترین
مولانا اعظم طارق قتل کیس: مرکزی ملزم سبطین کاظمی پر فرد جرم عائد

مولانا اعظم طارق قتل کیس: مرکزی ملزم سبطین کاظمی پر فرد جرم عائد

اسلام آباد: (17 نومبر 2017) مولانا اعظم طارق قتل کیس کے مرکزی ملزم سبطین کاظمی پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔

اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے مولانا اعظم طارق قتل کیس کے مرکزی ملزم سبطین کاظمی پر فرد جرم عائد کردی ہے۔ ملزم نے صحت جرم سے انکار کردیا ہے۔ سبطین کاظمی کے خلاف 2 گواہان عمران اور امتیاز نے اپنا ریکارڈ کرادیا ہے۔

واضح رہے کہ ملزم سبطین کاظمی کو 14 سال بعد اسلام آباد کے بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ لندن جارہے تھے۔یہ بھی یاد رہے کہ اعظم طارق کو اکتوبر 2003ء میں اسلام آباد کی حدود میں کشمیر ہائی وے پر اس وقت قتل کیا گیا جب وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے جھنگ سے پارلیمنٹ ہاؤس جارہے تھے۔ ملزم سبطین کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کا تعلق تحریک جعفریہ پاکستان سے ہے اور اس مقدمے میں وفاقی حکومت نے ان کی گرفتاری پر 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کر رکھا تھا۔ اعظم طارق سمیت 5 افراد کے قتل کا مقدمہ 3 افراد کے خلاف درج کیا گیا تھا تاہم اس میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی تھی۔

حکام کے مطابق ملزم نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست بھی دی تھی جس کے بعد انہیں برطانیہ میں قیام کا اجازت نامہ مل گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

مولانا اعظم طارق کے قتل کا مرکزی ملزم گرفتار

مولانا طارق قتل کیس، جے آئی ٹی قتل کے مرکزی ملزم سبطین کاظمی سے بھی تفتیش کرے گی

 

Comments are closed.

Scroll To Top