تازہ ترین
منہ زور گھوڑے۔۔۔

منہ زور گھوڑے۔۔۔

ملک کے موجودہ حالات بڑی تیزی کے ساتھ ابتری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کو برسراقتدار آئے سو دن مکمل ہونے والے ہیں ، عوام کی نگاہیں عمران خان کے سو دن کے ایجنڈے کی تکمیل سے پیدا شدہ مثبت یا منفی نتائج پر لگی ہوئی ہے۔ سیاسی حالات بتا رہے ہیں کہ ابھی تک اپوزیشن اور حکمران جماعت انتخابی ماحول سے باہر نہیں نکلی ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کی اس روش میں ملک کی انتظامی مشینری کے بعض اہم کل پرزے بھی شامل ہوگئے ہیں جس کے نتیجے میں سیاسی ماحول مزید گرم ہورہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کو ملک کے غریب عوام کے مسائل کا احساس ہی نہیں ہے انکے پاس یہ سوچنے کے لیے وقت نہیں ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح میں کتنا اضافہ ہوا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ عوام کے مسائل اور جذبات کی ترجمانی کرنے کے بجائے سیاسی اکھاڑے میں تبدیل ہوگئی ہے۔ حکمران جماعت کے موسمی پرندوں کی وجہ سے صورتحال دن بدن خراب ہورہی ہے ۔ موسمی پرندے سیاسی ماحول اور حالات کے تحت اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے میں مہارت رکھتے ہیں ۔ اس صورتحال کی ابتری کا اظہار حکمران جماعت کے پرجوش حامی کالم نگار اور ٹی وی اینکرز کرنے لگے ہیں۔چوراہا فیم دانشور گزشتہ دو ماہ سے ٹیلیویژن ٹاک شو اور اپنے کالموں میں انتہائی مضطرب اور بے چین نظر آتے ہیں۔ پہلے تو دبے دبے الفاظ میں حکومتی پالیسیوں پر ناپسندیدگی کا اظہار اشارتا کرنا شروع کیا لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی حقائق اور واقعات سے دلبرداشتہ ہوچکے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ حکومت کی کارکردگی خاص طور پر موسمی پرندوں کی غوغا آرائی پر عدم اعتماد کا اظہار کرنے لگے ہیں ۔ بقول چوراہا دانشور کے ” مجھے تحریک انصاف کے کچھ نوزائیدہ منتخب نمائندوں کو دیکھ کر یاد آرہا ہے جو ہر وقت اور ہر جگہ گرم توے پر اچھل کود میں مصروف ہوتے ہیں “چوراہا دانشور کا ایسے منتخب نمائندوں کو مشورہ ہے کہ “وہ اپنے حال پر رحم فرمائیں کیونکہ انکے وریے سے ناصرف انکا بلکہ انکی پارٹی کا بھی نقصان ہوگا۔ ایک جمہوری حادثے کے نتیجے میں ان پر پارلیمنٹیرین ہونے کی مہر لگ چکی ہے۔ خود عمران خان کے لیے بھی یہ کھیل خطرناک حدود میں داخل ہوچکا ہے کیونکہ پی ٹی آئی میں وہ واحد آدمی ہیں جس کا سب کچھ اسٹیک پر لگ چکا ہے باقیوں کے پاس گنوانے کے لیے کچھ نہیں ہے، اگر ہے بھی تو بہت معمولی ،مختصر اور محدود ہے ” چوراہے کے دانشور کے موسمی پرندوں اور بدلتے ہوئے موسم سے فائدہ اٹھانے والے ابن الوقت سیاستدانوں کے متعلق یہ تجزیہ یا مشورہ کوئی نیا نہیں ہے۔ پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ چڑھتے سورج کی پوجا کرنے والے آج تک کسی کے نہیں ہوئے ہیں خود بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کو ایسے کھوٹے سکوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن جب تک قائد اعظم زندہ رہے تو اس وقت کے موسمی پرندوں کی کوئی سازش کامیاب نہ ہوسکی لیکن عمران خان نے تو خود وقتی فائدے کے لیے آستین کے سانپوں کو اپنے بازوں میں پناہ دے رکھی ہے ۔ موجودہ صورتحال کی وجہ سے ٹی اینکر اور دانشور یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور کہا کہ”میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں” ان کی اس بات پر قومی اسمبلی کی اب تک کی کارروائی پر نگاہ ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ موسمی پرندوں نے بھی اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے ۔ اب تک پنجاب یا قومی اسمبلیوں میں کسی قسم کی قانون سازی نہیں ہوسکی ہے ۔قومی اسمبلی کے اندر اور باہر سابق وزیر اعظم خاقان عباسی ،،رانا ثنا اللہ ،مریم اورنگزیب ،فواد چوہدری اور راجا فیاض الحسن کے درمیان ناختم ہونے والا دنگل اسمبلیوں کے معطل ہونے یا برطرف ہونے تک جاری رہے گا۔موجودہ صورتحال پر اب بھی قابو پایا جاسکتا ہے بشرط یہ کہ عمران خان اور شہباز شریف اپنے منہ زور گھوڑوں کی لگاموں کو دی ہوئی ڈھیل ختم کریں اور افہام و تفہیم کے ذریعے ملک کو درپیش مسائل کا حل تلاش کریں بصورت دیگر اس وقت سے ڈریں جب بھوک و افلاس سے بلکتے عوام کے ہاتھ انکے گریبانوں کو چاک کرنا شروع کردیں گے اور اس وقت پھٹے ہوئے گریبانوں کو رفو کرنے کا بھی موقع نہیں ملے گا۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top