تازہ ترین
مقبوضہ کشمیر میں 6 ماہ کیلئے صدارتی راج نافذ کرنے کا فیصلہ

مقبوضہ کشمیر میں 6 ماہ کیلئے صدارتی راج نافذ کرنے کا فیصلہ

سرینگر:(19 دسمبر 2018) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اور کٹھ پتلی انتظامیہ کا کشمیری مسلمانوں کی جانوں کے ساتھ ساتھ سیاسی اور ثقافتی تشخص چھیننے لگی۔ مقبوضہ کشمیر میں آج گورنر راج کے خاتمے کے بعد کل سے چھ ماہ کیلئے صدارتی راج نافذ کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ بھارتی کٹھ پتلی حکومت نے سرکاری دفاتر میں قومی لباس پھیرن پہننے پر بھی پابندی لگا دی ۔نوجوانوں کی شہادتوں کے خلاف وادی میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

نہ جان محفوظ نہ سیاسی آزادی، قابض بھارت نے مظلوم کشمیریوں کیلئے زمین تنگ کردی۔ مقبوضہ وادی میں گورنرراج کے بعد اب چھ ماہ کیلئے صدارتی راج نافذ کر دیا گیا جبکہ کٹھ پتلی انتظامیہ نے کشمیریوں پر روایتی لباس پھیرن پہننے پر پابندی لگا دی۔ گزشتہ دنوں چودہ کشمیری جوانوں کی شہادت کے بعد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔کشمیریوں کے قتل عام کے بعد بھی بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار ہے۔ مظلوم کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے قابض حکومت نے کل سے چھ ماہ کیلئے صدارتی راج نافذ کرنے کا اعلان کر دیاہے۔ جمہوریت کی جھوٹی علمبردار حکومت نے یہ قدم گورنر راج کی مدت ختم ہونے پر کیا ہے۔دوسری جانب بھارت کو کشمیر کی ثقافتی تشخص بھی کھٹکنے لگی۔ وادی والوں کے روایتی لباس پھیرن پہننے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ محکمہ تعلیم کے انتظامی دفاتر اور سول سیکریٹریٹ میں افسران، ملازمین اور سائلین کے پھیرن پہننے کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کشمیریوں کے قتل عام کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

مقبوضہ کشمیر میں حالیہ بھارتی جارحیت، او آئی سی کی مذمت

Comments are closed.

Scroll To Top