تازہ ترین
مشال قتل کیس: ایک ملزم کو سزائے موت سنادی گئی

مشال قتل کیس: ایک ملزم کو سزائے موت سنادی گئی

ہری پور: ( 07 فروری، 2018) انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مشال قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک ملزم کو سزائے موت جبکہ پانچ ملزمان کو پچیس سال قید اور 26 ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

فیصلہ جج فضل سبحان نے ہری پور کے سینٹرل جیل میں سنایا، پولیس کی جانب سے فیصلے سے قبل سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے تھے جبکہ مقتول طالب علم مشال کے علاقے میں بھی سیکیورٹی کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا تھا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول مشال کے بھائی ایمل نے مطالبہ کیا کہ تمام ملوث افراد کو سزا ہونی چاہیئے کیونکہ میرے بھائی کی کمی کوئی پوری نہیں کرسکتا ہے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے ملزمان کی بریت کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مشال خان کیس کن مراحل سے گزرا ، اور کیس میں ہونے والی پیش رفت کی تفصیلات

چودہ اپریل دو ہزار سترہ: مردان کے عبد الولی خان یونیورسٹی کیمپس میں پیش آنے والے واقعے کی ایف آئی آر تھانہ شیخ ملتون میں درج کی گئی، پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے آٹھ ملزمان کو گرفتار کیا،ایف آئی آر میں قتل ، اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی۔

اسی روز مشتعل ہجوم کے ہاتھوں جاں بحق ہونے والے طالب علم مشال خان کو سپرد خاک کیا گیا، نمازہ جنازہ میں قلیل افراد نے شرکت کی۔

پندرہ اپریل دوہزار سترہ: فیس بک انتطامیہ کی جانب سے مقتول طالب علم مشال خان کو خراج عقیدت پیش کیا گیا جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک نے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کی سمری پر دستخط کئے۔

اسی روز مشال کے کمرے کی تلاشی بھی لی گئی، تاہم مقتول کے کمرے سے توہین مذہب کے بارے کوئی مواد برآمد نہ ہو سکا مقتول مشال خان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کو موصول ہو گئی ہے جس کے مطابق مقتول کو تشدد سے قبل دو گولیاں ماری گئیں جو جان لیوا ثابت ہوئی۔

سولہ اپریل دو ہزار سترہ: چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے مردان یونیوسٹی کے طالبعلم مشال خان کے قتل کے معاملے کا از خود نوٹس لیا، اور چھتیس گھنٹوں میں تفصیلی رپورٹ طلب کی۔

انیس اپریل دوہزار سترہ: سپریم کورٹ نے مشال قتل کیس میں پشاور ہائی کورٹ کو جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے روکا ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے وزیراعلیٰ خیبر پختون خواہ سے وضاحت طلب کی،چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب تحقیقاتی ٹیم کام کر رہی ہے تو جوڈیشل کمیشن کی کیا ضرورت ہے؟۔بائیس اپریل دو ہزار سترہ: مشال خان کے قتل کے بعد مشتعل افراد کی وڈیو منظر اب تک نیوز نے حاصل کی، ویڈیو میں مشتعل افراد ایک دوسرے کا نام پولیس کو نہ بتانے کا عہد کررہے تھے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

پچیس اپریل دو ہزار سترہ: مشال خان قتل کیس میں مزید دو اہم ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جس کے بعد معصوم طالب علم پر انسانیت سوز تشدد کرنے والے گرفتار ملزمان کی تعداد 38 ہوئی۔ملزم اشفاق نے گملا اُٹھا کر مشال خان کے سر پر مارا تھا جبکہ ملزم فضل رازق نے معصوم طالب علم کے لاش کی بے حرمتی کی تھی۔

انتیس اپریل دوہزار سترہ: اقوام متحدہ نے عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالب علم کے قتل پر دکھ کا اظہار کرتے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

بارہ مئی دو ہزار سترہ: مقتول طالب علم مشال خان کے والد نے یونیورسٹی انتظامیہ پر تنیقد کرتے ہوئے انہیں بھی شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا ، وکیل مشال خان کا کہنا تھا کہ مردان پولیس نے حیلے بہانوں سے کام لے رہی ہےہمیں ان پر اعتبار نہیں ہے۔

چالیس روز کی بندش کے بعد عبدالولی خان یونیورسٹی کو تدریسی عمل کے لئے کھولا گیا، یونیورسٹی کھولنے سے قبل پولیس نے سرچ آپریشن بھی کیا، اس دوران اسلحہ اور دوسری غیر قانونی اشیا بھی برآمد کی گئیں۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

چار جون دو ہزار سترہ: مشال خان قتل کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ سامنے آئی، رپورٹ کے مطابق مشال خان کا قتل باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا، مشال اور اس کے ساتھیوں کے خلاف توہین رسالت یا مذہب کے کوئی ثبوت موجود نہ تھا۔

دس جون دوہزار سترہ: مقتول طالب علم مشعال کے والد نے مردان میں سیکیورٹی خدشات کے باعث مقدمے کی پیروی سے انکار کرتے ہوئے کیس کو پشاور ہائی کورٹ منتقل کرنے کی درخواست دائر کی۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

ستائیس جولائی دوہزار سترہ: پشاور ہائی کورٹ نے مشال خان قتل کیس کو ہری پور جیل منتقل کرنے کا حکم دیا اور مشال خان کے وکیل اور والد کو بھی تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

پچیس اگست دو ہزار سترہ:  مشال قتل کیس میں مجموعی طور پر 61 ملزمان کو نامزد کیا گیا، جن میں سے 57 گرفتار ہوچکے جبکہ پی ٹی آئی کونسلر سمیت چار افراد تاحال مفرور رہے، دوسری جانب ہری پور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مشال قتل کیس میں گرفتار ملزمان کا ٹرائل شروع کیا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

انیس ستمبر دو ہزار سترہ:  انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مشال قتل کیس میں گرفتار ستاون ملزمان پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے سترہ ملزمان کی درخواست ضمانت کو بھی مسترد کیا، کیس کی سماعت جج جسٹس فضل سبحان نے کی۔

چار نومبر دو ہزار سترہ: مشال خان قتل کیس کی انکوائری کمیٹی نے حادثے کے روز یونیورسٹی میں موجود پولیس اعلیٰ افسران کو کلین چٹ دیتے ہوئے دو ایس ایچ اوز کی تنزلی کے احکامات جاری کئے۔کمیٹی کے روبرو حماد نامی طالب علم کو پیش کیا گیا، جس نے اعلی افسران کی کوتاہی کی نشاندہی بھی کی ، تاہم کمیٹی نے ان کے بیاںات کو مسترد کرتے ہوئے قتل کے وقت موجود ڈی ایس پی شیخ ملتون حیدر اور ایس پی آپریشن کو کلین چٹ دی جبکہ اعلیٰ افسران کو بچانے کے لئے دو ایس ایچ اوز سب انسپکٹر سلیم خان اور مدثر کی تنزلی کی گئی۔چار جنوری دو ہزار اٹھارہ : مردان پولیس نے مشال قتل کیس میں مفرور ملزم اظہار عرف جانی کو آٹھ ماہ بعد گرفتار کیا، جس کے بعد مشال قتل کیس میں گرفتار ملزمان کی تعداد اٹھاون ہوئی جبکہ تین تاحال مفرور رہے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

پچیس جنوری دوہزار اٹھارہ:  انسداد دہشت گردی ہری پور کی عدالت نے مشال کیس میں گرفتار تمام ملزمان کے بیانات ریکارڈ کرنے کا سلسلہ مکمل کیا ، جس کے بعد مقتول طالب علم کے وکیل نے اپنی بحث کا آغاز کیا۔

ستائیس جنوری دوہزار اٹھارہ:  انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مشال کے وکیل نے اپنی بحث مکمل کی، جس کے بعد عدالت نے مشال قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے اسے سات فروری کو سنانے کا فیصلہ کیا۔

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top