تازہ ترین
مذمتی لہجہ،پُرسوز آوازکے شاعرحبیب جالب کو دنیاسے کوچ کیے 25برس بیت گئے

مذمتی لہجہ،پُرسوز آوازکے شاعرحبیب جالب کو دنیاسے کوچ کیے 25برس بیت گئے

ویب ڈیسک(12مارچ، 2018) مذمتی لہجہ،پُرسوز آواز جو سننے والوں کا لہو گرما دے اور پُر وقار شخصیت میں یہ سب یکجا ہوں تو سب سے پہلے حبیب جالب کا نام ذہن میں آتا ہے،عوامی لہجے میں شاعری اور محلات کی سیاست سے لفظوں کی جنگ لڑنے والے حبیب جالب کو ہم سے بچھڑے25 برس بیت گئے۔

حبیب جالب نے24 مارچ 1928 کو بھارتی پنجاب کے ضلع ہوشیارپور میں ایک کسان گھرانے میں آنکھ کھولی۔جالب تقسیم کے بعد ہجرت کرکے کراچی پہنچے اور بعد میں لاہور کو اپنا مسکن بنا لیا۔

کمیونسٹ پارٹی اور پھر نیشنل عوامی پارٹی کا حصہ بنے،معاشرتی ناانصافیوں کو اپنی نظموں کا موضوع بنانے والے حبیب جالب کو ایوب اور یحییٰ خان کے دور آمریت میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ لیکن کوئی بھی ان کو جابر حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کہنے سے نہ روک سکا۔

حبیب جالب نے حاکم وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی تو عوام کو بیدار نہ ہونے پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔شاعر انقلاب حبیب جالب کے بے باک قلم نے ظلم و ناانصافی اور عدم مساوات کے خلاف جو لکھا وہ زبان زد عام ہوگیا۔

جالب درباروں سے صعوبتیں اور کچے گھروں سے چاہتیں سمیٹتے ہوئے12 مارچ1993 کو65 برس کی عمر میں جہان فانی سے کوچ کر گئے۔

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top