تازہ ترین
متنازعہ کتاب: اسد درانی کل جی ایچ کیو میں پیش ہونگے

متنازعہ کتاب: اسد درانی کل جی ایچ کیو میں پیش ہونگے

راولپنڈی:(27 مئی 2018) متنازعہ کتاب لکھنے پر آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کل اٹھائیس مئی کو جی ایچ کیو میں پیشں ہونگے  جس میں ان سے کتاب میں منسوب خیالات کی وضاحت مانگی جائے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کتاب ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہے، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ سے کتاب میں ان سے منسوب خیالات کی وضاحت مانگی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ تمام حاضر اور ریٹائرڈ فوجیوں پر لاگو ہوتا ہے اور کتاب میں ان سےمنسوب خیالات اس کی خلاف ورزی ہے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

اس سے قبل سیکیورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر اسد درانی کی کتاب پر فوج کو تحفظات ہیں، سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ اس کتاب میں بہت سے موضوعات حقائق کے برعکس بیان کی گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ملٹری ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر اسد درانی کو اپنی پوزیشن واضح کرنی ہوگی اور یوں عسکری قیادت نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اگر پاک فوج کا کوئی سابق افسر بھی ملکی مفاد کے خلاف کوئی بات کرے گا تو اس کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے گا۔واضح رہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کی سابق ‘را’ چیف اے ایس دلت کے ساتھ مل کر لکھی ہے، کتاب ‘دی سپائے کرونیکلز: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الوژن آف پیس’ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اہم معاملات پر بات کی ہے۔

کتاب میں جن معاملات پر روشنی ڈالی گئی، اُن میں کارگل آپریشن، ایبٹ آباد میں امریکی نیوی  کا اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا آپریشن، کلبھوشن یادیو کی گرفتاری، حافظ سعید، کشمیر، برہان وانی اور دیگر معاملات شامل ہیں۔اس کتاب پر پاکستان کی سیاسی قیادت نے سنگین خدشات ظاہر کیے ہیں۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسددرانی کی کتاب پرقومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ قومی سانحات اور سلامتی سے متعلق معاملات پر انکوائری کے لیے قابل اعتبار قومی کمیشن بنایا جائے ، ملک میں ایک وقت میں دو تین حکومتیں نہیں چل سکتیں۔سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے پاکستان اور بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے دو سابق سربراہوں کی کتاب ‘دی سپائے کرونیکلز: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الوژن آف پیس’ کی اشاعت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ کتاب کسی سویلین یا سیاستدان نے بھارتی ہم منصب کے ساتھ مل کر لکھی ہوتی تو اس پر غدار کا فتویٰ لگا دیا جاتا۔اس کتاب کی رونمائی گزشتہ دنوں بھارت میں کی گئی ہے تاہم نئی دہلی میں ہونے والی تقریب میں شرکت کے لیے اسد درانی کو بھارت کا ویزہ بھی نہیں ملا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

اگر کتاب کوئی سیاستدان لکھتا تو اس پر غداری کے فتوی آجاتے، سابق چیئرمین سینیٹ

نواز شریف کا اسد درانی کی کتاب پر قومی کمیشن بنانے کا مطالبہ

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top