تازہ ترین
مایوسی بڑھ رہی ہے

مایوسی بڑھ رہی ہے

جولائی 2018 کے عام انتخابات کے نتیجے میں برسراقتدار آنے والی حکومت سے عوام کو بجا طور پر یہ توقع تھی کہ نئے حکمران اپنے وعدوں اور انتخابی منشور پر عمل کرتے ہوئے انکے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ انتخابات سے قبل تحریک انصاف اور اسکے رہنما عمران خان عوام کو باور کراتے رہے کہ نواز شریف کی حکومت بدعنوان، نااہل اور عوام کا خون چوسنے والوں پر مشتمل ہے، انکے برسراقتدار رہتے ہوئے پاکستان اقتصادی، تعلیمی، طبی غرض کہ قومی زندگی کے کسی بھی شعبے میں ترقی نہیں کرسکتا۔ عوام کی حمایت سے عمران خان ن لیگ کی حکومت کو اقتدار سے محروم کرنے کے بعد ابھی تک اپنی حکومت کا ہنی مون منا رہے ہیں۔ اس مدت کے دوران سابقہ حکومت کے چھوڑے ہوئے مسائل و بحران کا خاتمہ کرنے کے بجائے مذید اضافے کا مرتکب ہورہے ہیں۔ مہنگائی کی شرح دو ماہ کے دوران تین گنا ہوچکی ہے، پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، غریب عوام کے لیے روٹی کا حصول مشکل ہوگیا ہے، نوکر شاہی ہے کہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں خوف و ہراس کے عالم میں مبتلا ہے، وزرا کے اختیارات سے تجاوز کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں ۔یہ صحیح ہے کہ عمران خان خلوص دل کے ساتھ عوام کے مسائل کو کم سے کم مدت میں ختم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے مشن کی تکمیل کے لیے جو ٹیم منتخب کی ہے اس کی اہلیت و صلاحیت پر بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں خاص طور پر سپریم کورٹ کے تاریخ ساز آسیہ بی بی کیس کے فیصلے سے پیدا شدہ صوتحال سے عہدہ براں ہونے میں ناکامی انکی کارکردگی کا منہ چڑا رہی ہے ۔ پورے پاکستان کی شہری زندگی تین دن سے معطل پڑی ہے ۔ سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان کا فیصلہ یقینا اسلامی تعلیمات ،قرآن و سنت کے عین مطابق ہے اس سے اختلاف یا اتفاق کرنے کا ہر پاکستانی کو حق حاصل ہے لیکن اختلاف رائے کے اظہار کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے وہ کسی صورت مستحسن نہیں۔دھرنے اور گھیراو کرنے کی سوچ پیدا کرنے والے اور اسکے ذریعے منتخب حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی سوچ کا آغاز کرنے والوں  کو آج اپنے سابقہ، موجودہ اور خفیہ ساتھیوں کے ہاتھوں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں عدالت عالیہ کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے دھرنے کی حمایت کرنے سے گریزاں ہیں ۔ عوام کو یہ بھی توقع ہے کہ علمائے کرام موجودہ حالات کا احساس کرتے ہوئے مفاہمت کی راہ اختیار کریں گے۔ بزرگو کا کہنا ہے کہ بچپن کی غلط تربیت سے انسان بہت مشکل سے نجات حاصل کرتا ہے۔ ہمارے موجودہ سیاستدانوں کی بڑی تعداد کی ابتدائی سیاسی تربیت ڈکٹیٹروں  کے سایے اور سرپرستی میں ہوئی ہے ، ان لوگوں میں حالات کے  مطابق اپنے آپ کو ڈھالنےکی خاصیت بھی بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے ۔جنرل ایوب خان کے زیر سایہ تربیت پانے والے سیاستدان یحیٰی خان،ذوالفقار علی بھٹو ،ضیاالحق ،بے نظیر بھٹو ،نواز شریف اور پرویز مشرف کی حکومتوں میں حکمرانوں کی ناک کے بال بنے ہوئے تھے ۔ تحریک انصاف کی حکومت میں بھی آمریت کی نرسرسی میں ابتدائی سیاسی تربیت حاصل کرنے والوں کی اکثریت ہے اس میں سب سے بلند و آہنگ شخصیت فواد چوہدری کی ہے۔ اپنی چرب زبانی کی بدولت عمران خان کی حکومت کے ترجمان کے عہدے پر فائز ہیں۔ ویسے تو انکی زبان سے جھڑنے والے الفاظ آمریت کی زبان و لہجے میں ہی آتے ہیں لیکن گزشتہ روز فواد چوہدری نے وہی الفاظ مذہبی جماعت کے دھرنے میں شریک افراد کے متعلق استعمال کیے جو جنرل مشرف نے سردار اکبر بگٹی کے متعلق کہے تھے انکا کہنا تھا کہ دھرنے میں بیٹھے لوگوں کو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ مذہبی دھرنے کے رہنماوں کا رویہ بھی سخت قابل مذمت ہے ، انکی تقاریر میں عدلیہ،مسلح افواج اور دیگر قانون نافذ  کرنے والے اداروں کے خلاف جو زبان استعمال کی جارہی ہے وہ کسی طور پر بھی کسی محب وطن پاکستانی کی زبان نہیں ہوسکتی ۔ پاکستان کی مسلح افواج اسلام و پاکستان کے سپاہی ہیں ،قیام پاکستان سے آج تک انکی تاریخ قربانیوں سے عبارت ہے۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top