تازہ ترین
لاہور: رشوت لینے والا لائن مین 17 سال بعد جرم ثابت نہ ہونے پر بری

لاہور: رشوت لینے والا لائن مین 17 سال بعد جرم ثابت نہ ہونے پر بری

لاہور: (25 مئی 2018) ایک اور جوانی سو سالہ پرانے جوڈیشل سسٹم کی بھینٹ چڑھ گئی۔ تین سو روپے رشوت لینے والا لائن مین سترہ سال بعد جرم ثابت نہ ہونے پر بری کردیا گیا۔

پاکستان میں جوڈیشل نظام میں موجود خامیوں کے باعث لوگوں کی زندگیاں عدالتوں کے چکر لگاتے لگاتے گزر جاتیں ہیں۔ کچھ ایسی ہی روداد ہے لاہور کے محمد علی کی جسے تین سو روپے رشوت کے الزام کو غلط ثابت کرنے میں سترہ سال لگ گئے۔ استغاثہ کیس میں لاکھوں روپے لگانے سے جہاں الزام ثابت نہ ہوسکا وہیں مال خانے سے مال مقدمہ تین سو روپے بھی غائب ہوگیا۔اینٹی کرپشن عدالت کے جج محمد رفیق نے ملزم محمد علی کو جرم ثابت نہ ہونے پر سترہ سال بعد بری کردیا ہے۔ پراسکیوشن کے مطابق ملزم پی ٹی سی ایل میں لائن مین تھا جس نے طارق محمود سے تین سو روپے رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔

انکوائری میں بھی ملزم گنہگار ثابت ہوا جس پر دوہزار ایک میں ملزم محمد علی کے خلاف مقدمہ درج ہوا تھا۔

عدالت نے ناکافی ثبوتوں اور شواہد کے بنا پر ملزم کو بری کرتے ہوئے کہا کہ رشوت کے تین سو  مال خانے والے کھا گئے۔ مدعی مقدمہ طارق محمود کو بھی پیش نہیں کیا گیا، لہٰذا ملزم کو بری کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

رکن بلوچستان اسمبلی مجید اچکزئی قتل کے مقدمے میں بری

دھماکا خیز مواد رکھنے کے الزام میں گرفتار ایم کیو ایم کا کارکن بری

 

Comments are closed.

Scroll To Top