تازہ ترین
لاہور: تین سال بعد مقتول ماڈل عبیرہ کےلواحقین کو انصاف مل گیا

لاہور: تین سال بعد مقتول ماڈل عبیرہ کےلواحقین کو انصاف مل گیا

لاہور: (13 مارچ 2018) ماڈل عبیرہ کے قاتل کو اپنے کیے کی سزا مل گئی۔سیشن کورٹ لاہور نے ماڈل عبیرہ قتل کیس کا تین سال بعد فیصلہ سنادیا۔مجرمہ ماڈل گرل عظمیٰ راؤ کو سزائے موت اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی گئی۔عدالت نے دوملزموں کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔

تین سال بعد مقتول ماڈل عبیرہ کے لواحقین کو انصاف مل گیا ایڈیشنل سیشن جج عائشہ رشید نے ماڈل عبیرہ قتل کیس کا محفوظ کیا گیا  فیصلہ سناتے ہوئے ماڈل عظمٰی راؤ کو سزائے موت اور مقدمے کے دو ملزمان فاروق الرحمن اور حکیم ذیشان کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے چونتیس گواہان کی شہادت قلمبند کرنے کے بعد چھبیس فروری کوفیصلہ محفوظ کیا تھا۔ اداکارہ عبیرہ کو دسمبر دوہزار چودہ میں قتل کیا گیا تھا۔جس کا مقدمہ تھانہ شیرا کوٹ پولیس نے درج کیا۔پولیس نے تینوں ملزمان کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا۔

مارچ دو ہزار پندرہ سے سیشن کورٹ میں ملزمان کا ٹرائل زیر سماعت تھا۔عدالت کے روبرو ماڈل عظمیٰ راؤ سزائے موت کا فیصلہ سن کر آبدیدہ ہوگئی۔ فیصلے کے دوران اداکارہ عظمیٰ کی تین سالہ کمسن بیٹی ماں کو پریشان دیکھ کر روتی رہی۔ کیس کی دلچسپ بات یہ تھی کہ ایک خاتون جج نے خاتون کے قتل ہونے پر خاتون ملزم کو موت کی سزا سنائی۔

یہ بھی پڑھیے

ماڈل عبیرہ قتل کیس، مرکزی ملزمہ طوبی اور حکیم ذیشان کی درخواست ضمانت خارج

عبیرہ قتل کیس: نامزد ملزمہ خولہ عرف سدرہ بے گناہ قرار

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top