تازہ ترین
لاہور: احتجاج کے باعث مال روڈ کے تجارتی مراکز ایک روز قبل ہی بند

لاہور: احتجاج کے باعث مال روڈ کے تجارتی مراکز ایک روز قبل ہی بند

لاہور: (16 جنوری 2018) اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے باعث مال روڈ کے تجارتی مراکز ایک روز قبل ہی بند ہوگئے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ آئے روز مظاہروں سے ان کا کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں تاجروں اور عوام کے وسیع تر مفاد میں احتجاج کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اپنائیں۔

پاکستان عوامی تحریک اور دیگر سیاسی جماعتوں کے مشترکہ احتجاجی مظاہرے کیلئے مال روڈ پر تیاریاں جاری ہیں جس کے باعث مال روڈ پر کاروباری زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ دھرنے کی وجہ سے ہال روڈ پینو راما، بیڈن روڈ اور ریگل چوک سے لے کر چیئرنگ کراس تک دکانیں اور تمام کاروباری مراکز بند ہوگے ہیں۔تاجروں اور دکانداروں نے مصروف تجارتی مرکز مال روڈ پر دھرنے کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں تاجر برادرای کا معاشی قتل بند کریں۔

مال روڈ پر اپوزیشن  جماعتوں کے دھرنے کی لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں نے بھی مخالفت کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معاشی حالت ٹھیک نہیں۔ ملک کو کم برآمدات، بھاری تجارتی خسارے، غیر متاثر کن پیداوار اور بھاری قرضوں جیسے معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے لیکن  اس کے برعکس سیاسی جماعتیں احتجاج کا راستہ اختیار کرکے مزید مسائل پیدا کررہی ہیں۔

اس سے قبل لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ پاکستان عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ کل کے احتجاج میں ایک ہی کنٹینر اور ایک ہی اسٹیج ہوگا۔ آصف زرداری اور عمران خان ایک ہی اسٹیج پر خطاب کریں گے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

طاہرالقادری نے بتایا کہ کل احتجاج 12 بجے شروع ہوگا اور اس کے 2 سیشنز ہوں گے۔ کل فیصلہ کن احتجاج شروع ہونے جا رہا ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ احتجاج کے اگلے لائحہ عمل کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، اب ہم استعفے مانگ نہیں رہے بلکہ ان کو دینے ہوں گے۔ کل سے شروع ہونے والے احتجاج پر کوئی پابندی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سلطنت شریفیہ کے اقتدار کا خاتمہ ہوگا۔ احتجاج آئین، جمہوریت اور امن کے دائرے میں ہوگا۔ کبھی آئین توڑنے کا نہیں سوچ سکتے۔ ہماری تحریک جمہوریت کی بحالی کی تحریک ہے، کل جو ہوگا وہ سب دیکھ لیں گے۔جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی اتحاد کسی قیمت پر ممکن نہیں۔ کل سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے متحدہ اپوزیشن کا احتجاج 2 سیشنز پر مشتمل ہوگا۔ ایک سیشن میں آصف علی زرداری جبکہ دوسرے سیشن میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ہوں گے۔

لاہور میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے کہا کہ کل ہونے والا احتجاج پہلا باب ہے جو شہبازشریف اور پنجاب حکومت کے خاتمے پر اختتام پذیر ہوگا۔ اپوزیشن کا احتجاج ایک دن کا ہے لیکن ختم شہباز شریف کے جانے پر ہی ہوگا۔واضح رہے کہ آج لاہور ہائیکورٹ نے مال روڈ پر متحدہ اپوزیشن کے احتجاج کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کیلئے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں نیا فل بینچ تشکیل دیا ہے۔ مقامی وکیل اے کے ڈوگر نے کل مال روڈ پر متحدہ اپوزیشن کے احتجاج کے خلاف درخواست دائر کی ہے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

قبل ازیں پنجاب حکومت نے سیکیورٹی خدشات کی بنا پرمال روڈ پر دھرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ دھرنے کیلئے اپوزیشن کی چھ جماعتوں نے اجازت مانگی تھی۔

ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خان کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ فارماسسٹ کے احتجاج کے دوران مال روڈ پر دھماکا ہوا تھا، دھرنوں میں اشتعال انگیز تقاریر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا مال روڈ پر احتجاج کے باعث اسکولوں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونگی، احتجاج کے حوالے سے سکیورٹی الرٹ موجود ہے۔ترجمان پنجاب حکومت نے مزید کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جےآئی ٹی طاہرالقادری کی مشاورت سے بنی تھی، جے آئی ٹی پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا، طاہر القادری ثبوت مٹانے کا کوئی شواہد دکھا دیں۔

یہ بھی پڑھیے

متحدہ اپوزیشن کا احتجاج شہبازشریف حکومت کے خاتمے پرہی ختم ہوگا، فواد چوہدری

کل آصف زرداری اور عمران خان ایک ہی اسٹیج پر خطاب کریں گے، طاہر القادری

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top