تازہ ترین
قوم کا فخر پاک فضائیہ

قوم کا فخر پاک فضائیہ

ایک زمانہ تھا جب مقبوضہ کشمیر کے تمام کٹھ پتلی حکمران اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لئے کشمیر کے بھارت کے ساتھ نام نہاد الحاق کو جائز قرار دیتے تھے۔ کشمیر کے حالات اور واقعات نے اب ان کو بھی حق اور صداقت پر مبنی کشمیری حریت پسندوں اور پاکستان کے موقف کی حمایت پر مجبور کردیا ہے۔ شیخ عبداللہ پنڈت نہرو کیساتھ کشمیری عوام کی موجودہ مشکلات اور مسائل کے ذمے دار ہیں ان کی اولادیں آج بھارت کے خلاف اقوام عالم کی توجہ مسئلے کی سنگینی کی طرف دلارہے ہیں ۔ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے والدین ستر برس کی بھارتی غلامی کے دور میں تیس سال سے زائد حکمران رہے ۔ محبوبہ مفتی تو 2018 تک مقبوضہ کشمیر کی وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز رہی پاکستان پر بھارت کے فضائی حملے کی گمراہ کن خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان سے زیادہ بلند آواز میں اسے جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ۔ بھارت کی طرف سے جس علاقے میں فضائیہ حملے کا دعویٰ کیا جارہا ہے وہاں موجودہ موسم میں کسی قسم کے کیمپ کا قیام ناممکن ہے۔ عمر عبداللہ نے بھی بھارتی فضائیہ اور حکومت کے آزاد کشمیر کے علاقے کو نشانہ بنانے کے دعویٰ کو مسترد کردیا ۔ بھارت کے پاکستان پر فضائی حملے کے جھوٹ ہونے کا اس سے بہتر اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ بھارت کی وزیر دفاع نرملا سیتھارامن کو 26 فروری کو دوپہر تک علم ہی نہیں تھا کہ بھارتی فضائیہ نے پاکستان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کی ہے ۔ وزارت خارجہ کے سیکرٹری وجے گوکھلے اور ترجمان رادیش کمار نے بھارتی صحافیوں کو پاکستان پر فضائی حملے کی بریفنگ دیتے ہوئے صرف چند سطر نامکمل تفصیلات فراہم کرنے تک محدود رکھا اور صحافیوں کے سوالات کے جوابات سے بچنے کے لئے اچانک پریس کانفرنس نے اٹھ کر چلے گئے۔اس سے قبل اسی قسم کا رویہ بھارت آزاد کشمیر میں اسٹریٹیجک حملے کی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے کیا گیا تھا ۔ دوسری طرف پاکستان نے عالمی مبصرین صحافیوں کو ان علاقوں کا دورہ کرنے کی کھلی دعوت دی ہے جہاں بھارت دہشت گرد کے کیمپوں کو تباہ کرنے کیساتھ ساڑھے تین سو افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کررہا ہے ۔ بالا کوٹ کے متاثرہ علاقے کے عوام کا کہنا تھا کہ بھارت کا دعویٰ نہ صرف جھوٹ بلکہ بھارتی عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے اگر بھارت اپنے دعویٰ میں سچا ہے تو پھر کم از کم اس کو اس علاقے کی تصاویر تو جاری کرنی چاہئے تھی جہاں 350 افراد اس کے طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت کے غریب اور پسماندہ عوام کی آزادی کے بعد سے یہ بدقسمتی رہی ہے کہ بھارت میں جب بھی عام انتخابات کے انعقاد کا زمانہ آتا ہے تو پاکستان کیخلاف بھارت کے عوام کے جذبات ابھارکر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اس مکروہ حرکت میں کانگریس اور جتناپارٹی پیش پیش رہی ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر کی حالیہ سبکدوش ہونے والی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اس شرط پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جتنا پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے پر آمادگی ظاہر کی تھی کہ بھارت سرکار وادی کشمیر میں امن کی بحالی اور س کے مستقبل کے متعلق پاکستان اور حریت رہنمائوں کے ساتھ مذاکرات کرے گی لیکن بھارتی حکومت نے اپنا وعدہ پورا کرنے کے بجائے نہتے کشمیری نوجوانوں کو اپنے ظلم و تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا ۔ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت تواتر کے ساتھ مجھ پر دبائو ڈالتی رہی کہ میں مقبوضہ کشمیر کی جماعت اسلامی کے خلاف کریک ڈائون کرو لیکن میں نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ہماری بدقسمتی ہے کہ بھارت کے ہر انتخاب کے موقع پر کشمیر اور یہاں پر ہونیوالی دہشتگردی کو ایشو بنا لیا جاتا ہے ۔ 2014 کے انتخابات میں افضل گررو کی پھانسی اور اب 2019 میں پلوامہ کے واقعے کو انتخابی موضوع بنالیا گیا ہے۔ محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ اور دیگر سماجی و سیاسی رہنمائوں اور دانشوروں نے بھی بھارت کو پاکستان کو انتخابی حربے کے طور پر استعمال کرنے سے احتراز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے بالکل صحیح کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان اب تک جتنی بھی جنگیں ہوئیں ہیں ان سے دونوں ملکوں کے پسماندہ عوام کے مسائل میں اضافہ ہوا ۔ بھارت ہمیشہ رات کی تاریکی میں پاکستان پرحملہ آور ہواہے ، 1965 کی جنگ ہو یا 1971 کا معرکہ ، پلوامہ واقعے کے بعد پاکستان کے علاقے میں فضائی کارروائی کا واقعہ، بھارت کو پاکستان کے خلاف اپنی فضائیہ استعمال کرتے وقت دونوں ملکوں کے درمیان ہونیوالے فضائی معرکوں کو ذہن میں رکھنا چاہئے تھا ۔ یہ صحیح ہے کہ بھارت کی فضائی طاقت پاکستان سے کئی گنا زیادہ ہے لیکن بھارتی فضائیہ میں ایم ایم عالم، سرفراز رفیق اور سیسل چوہدری کے دوسرے ساتھیوں نے 1965 کی جنگ کے دوران اپنے ہوائی اڈے چھوڑ کر خندقوں میں پناہ لینے پر مجبور کردیا تھا ۔ لاہور کے لاکھوں شہریوں نے 1965 کی جنگ میں اپنی فضا میں بھارت کے حملہ آور طیاروں کے ساتھ اپنے مکانوں کی چھتوں پر کھڑے ہوکر فضائی جھڑپ دیکھی تھی جس میں لاہور کے قرب و جوار میں تین بھارتی بمبار طیاروں کو خاک چاٹنے پر مجبور کردیا گیا۔بھارت نے اس مرتبہ بھی رات کے اندھیرے میں ایک ایسے علاقے کو نشانہ بنایا جہاں آبادی نہ ہونے کے برابر تھی، بھارت کی اس جارحیت کا دوسرے دن پاک فضائیہ نے دن کے اجالے میں جو دندان شکن جواب دیا ہے اس نے ایک بار پھر 1965 کی جنگ میں ہونے والی فضائی جھڑپوں کی یاد تازہ کردی۔ابتدا میں بھارت کی حکومت اور اس کی میڈیا بھارت کے دو بمبار طیاروں کی پاک فضائیہ کے ہاتھوں تباہی کی خبر کا مذاق اڑانے کی کوشش کررہی تھی ان کو یقین تھا کہ پاکستان کے پاس اپنے فضائی حملے کا کوئی ثبوت نہیں ہوگا، وہ بار بار یہ مطالبہ کرتے نظر آرہے تھے کہ پاکستان دستاویزی ثبوت فراہم کرے ۔ پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان جنرل آصف غفور نے اپنی پریس کانفرنس میں تباہ کئے جانیوالے طیارے اور گرفتار بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو زندہ حالت میں صحافیوں کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے پیش کردیا جس کے بعد بھارتی میڈیا کی زبانوں کو چپ لگ گئی ۔ پاکستان کی بھرپور جوابی کارروائی نے پاکستان کیخلاف ہروقت شعلہ اگلنے والی زبان دراز وزیر خارجہ سشماسوراج کو یہ کہنے پر مجبور کردیا کہ بھارت ایک ذمے دار ملک کی حیثیت سے کردار ادا کرتا رہے گا اور ہم پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مزید کشیدگی نہیں چاہتے ۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو وزارت اعظمیٰ کا حلف اٹھاتے ہوئے امن و دوستی کا پیغام دیا تھا لیکن نریندر مودی نے خیرسگالی کے جذبے کی قدر نہیں کی اور محض انتخابات میں کامیابی کے لئے پاکستان کے خلاف جنگی ماحول پیدا کرکے خود اپنے ملک کی اقلیتوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔دو دنوں کے فضائی حملے سے بھارت نے حسب معمول کوئی سبق نہیں سیکھا ہے ۔ بھارت کی وزرات خارجہ نے تقریبا پاکستان کے میڈیا پر بھارتی طیارے کی تباہی اور دو پائلٹس کی گرفتاری کی تصویر صبح دس بجے کے قریب پاکستانی میڈیا پر دیکھیں لیکن بھارت کے وزارت خارجہ کے اعلیٰ افسران تین بجے تک پائلٹ کی گمشدگی کا راگ الاپتے رہے اور حسب معمول اس مرتبہ بھی بھارتی حکام صحافیوں کے سوالات کے جواب دینے سے انکاری رہے ۔

جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960ء سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top