تازہ ترین
قصور واقعے کے خلاف مختلف شہروں میں مظاہرے

قصور واقعے کے خلاف مختلف شہروں میں مظاہرے

ویب ڈیسک: (12 جنوری 2018) قصور میں سات سالہ زینب سے زیادتی کے بعد قتل کی واردات نے پورے ملک کو جنجھوڑ ڈالا ہے۔ سانحہ قصور پر پوری قوم غمزدہ ہے۔ مختلف شہروں میں سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے آج بھی احتجاج و مظاہرے کیے گئے۔

کراچی

کراچی میں پاک سرزمین پارٹی نے ڈیفنس کلفٹن چیپٹر کے تحت دو تلوار پر قصور واقعے کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے رہنما پی ایس پی ڈاکٹر صغیر نے زینب کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت نے قصور واقعے پر جس رویے کو اپنایا وہ قابل افسوس ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سے کچھ کہنا بے کار ہے ہمیں اپنے بچوں کو خود تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے تعلیمی نصاب کو موثر بنانا ہوگا۔

مظاہرے میں افتخارعالم، اشفاق منگی، وسیم آفتاب اور آسیہ اسحاق سمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔

اس موقع پرمظاہرین نے پلے کارڈ بھی اٹھارکھے تھے جس پر زنیب کے والدین کو انصاف  کی فراہمی کے مطالبات درج تھے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

دوسری جانب سول سوسائٹی اور فنکاروں نے زینب واقعی کے خلاف دوسرے روز بھی احتجاج کیا۔ سندھ اسمبلی کے سامنے احتجاج کے بعد سول سوسائٹی اور فنکاروں کے وفد نے ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا سے ملاقات بھی کی۔

شہلا رضا سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حسن سومرو نے کہا کہ امید ہے کہ زینب کے قتل میں ملوث ملزم کو سخت سزا دی جائے گی۔

جبکہ فیصل قریشی نے کہا کہ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے ہم لوگوں کو شعور فراہم کرتے رہے ہیں۔ اس طرح کے معاملات باشعور ممالک میں بھی ہوتے ہیں۔

اس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عائشہ عمر اور دیگر نے کہا کہ بچوں کے ساتھ ہونے والے واقعات کو روکنے کیلئے بچوں کو بھی تربیت دی جائے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

جبکہ قصور واقعے کے خلاف فکس اٹ نے بھبی شاہراہ فیصل پر احتجاج کیا۔

راولپنڈی

قصور میں سات سالہ زینب کے قتل کے خلاف راولپنڈی میں بھی مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کی جا نب سے شدید احتجاج کیا گیا۔ احتجاج میں قاتل کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

سات سالہ معصوم زینب کے اغوا اور اندوہناک قتل کے دلخراش واقعہ کے خلاف نماز جمعہ کے بعد راولپنڈی میں جگہ جگہ احتجاج کیا گیا۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کارکنان کی جانب سے بھی احتجاج کیا گیا، جس میں کثیر تعداد میں کارکنان نے شرکت کی۔اسلامی جمعیت طلباء کے کارکنوں نے بھی قاتل کی فوری گرفتاری اور مظلوم خاندان کو انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت زینب قتل کا سنجیدگی سے نوٹس نہیں لے رہی۔

پیپلزپارٹی کی ذیلی تنظیم پی ایس ایف کی جانب سے مظلوم خاندان سے اظہار یکجہتی کیلئے لیاقت باغ کے قریب احتجاج کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ زینب کا قتل پاکستان کے نظام عدل پر زوردار طمانچہ ہے۔

پشاور

پشاور میں بھی عوام سات سالہ بچی زینب کے قاتلوں کے خلاف سراپا احتجاج رہی۔ نیشنل یوتھ اسمبلی کے ممبران نے قصورواقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے کہا کہ ملزم کو فوری طور پر گرفتار کرکے سرعام پھانسی دی جائے۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح پشاورمیں بھی قصورواقعے پر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ کم نہ ہو سکا۔ نیشنل یوتھ اسمبلی کے ممبران نے پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے قصور واقعے کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر معصوم بچی سے اظہار یکجہتی کے نعرے درج تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ملزمان کو جلدز از جلد گرفتار کرکے سرعام پھانسی دی جائے۔

لاہور

لاہور میں نجی فاؤنڈیشن کے تحت متاثرہ خاندان سے اظہار یکجہتی کے لیے شمعیں روشن کی گئیں اور ملزمان کو گرفتار کرکے عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔لاہور پریس کلب کے سامنے نجی فاونڈیشن کی جانب سے سانحہ قصور کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پولیس کی غفلت کے باعث سانحہ قصور رونما ہوا۔ اگر بچی کو بروقت بازیاب کرا لیا جاتا تو یہ دن نہ دیکھنا پڑے۔

احتجاج کے بعد ننھی پری کے والدین اور پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہونے والوں کے اہلخانہ سے اظہار یکجتی کیلئے شمعیں روشن کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیے

پنجاب حکومت کا معصوم زینب کے قاتل تک پہنچنے کا دعویٰ

قصور زینب قتل کیس: پولیس نے 2 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top