تازہ ترین
قدم بڑھاؤ لیکن سنبھل کے

قدم بڑھاؤ لیکن سنبھل کے

گزشتہ روز مقامی اخبارات کے ایک اشتہار نے ماضی کے جابر، نااہل اور وعدہ شکن حکمرانوں کے عوام دشمن سیاہ کرتوت کی یاد دلادی ۔ اخبارات میں مقامی صنعتکاروں کی طرف سے شائع کئے جانے والے اشتہار میں موجود وزیراعظم سے درخواست کرتے ہوئے ان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ عمران خان قدم بڑھائیں ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔

سب سے پہلے اس مضمون کا اشتہار ضیا الحق کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کراچی کی سڑکوں پر ضیا حمایت تحریک نامی تنظیم کے تحت ایئر پورٹ سے گورنر ہائوس تک لگائے گئے تھے جس میں ضیا الحق کو یقین دلایا گیا تھا کہ ضیا الحق قدم بڑھاو ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔

ضیا حمایت تحریک کا بانی فواد نامی شخص تھا جو ایس ایم لا کالج کے سامنے واقع فلیٹوں میں رہائش پذیر تھا اور قریب ہی ایک دوسری عمارت میں اس نے ضیا حمایت تحریک کا دفتر بنارکھا تھا ۔ سرکاری سرپرستی حاصل ہونے کی وجہ سے کراچی کی انتظامیہ اس کی مذموم اور خلاف قانون سرگرمیوں کو نظرانداز کئے ہوئے تھی ۔ جنرل ضیا الحق کی وفات کے بعد اینٹی نارکوٹکس فورس نے اس کے دفتر پر چھاپہ مار کر بھاری تعداد میں چرس اور دوسری منشیات برآمد کرلی ۔ ضیا حمایت تحریک کا بانی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ماضی کے تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک سے فرار ہوگیا اس کے بعد سے آج تک اس کا کوئی سراغ نہیں ملا ۔دوسری مرتبہ اسی قسم کے بینر جنرل مشرف کی کراچی آمد کے موقع پر لگائے گئے تھے اور اب تیسری مرتبہ یہ اشتہار مقامی اخبارات کے صفحہ اول پر اس عہد کیساتھ شائع ہوا ہے کہ ٹیکسائل صنعت کے برآمد کندگان حکومت کے انقلابی اقدامات کی بھرپور حمایت کرتے ہیں ، موقع پرستی اور خوشامد پر مبنی نعرے اور بینر حکمرانوں کے لئے یقیناً تسکین قلب کا باعث ہوتے ہیں لیکن زمینی حقائق ہمیشہ اس کے برعکس ہوتے ہیں ۔

پاکستان میں برسراقتدار آنے والے جمہوری حکومتوں سے لے کر آمروں تک ہر ایک نے اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد عوام کو یقین دلایا کہ وہ ملک کو صاف ستھری کرپشن سے پاک انتظامیہ دینے کے بعد آمر اور اس کا حمایتی ٹولہ بیرکوں میں واپس چلا جائے گا لیکن یہ لوگ اقتدار کی مسند پر جونک کی طرح اس وقت تک چمٹے رہے جب تک عوام سڑکوں پر نہیں آئے یا ملک لااموت نے ان کی گردنیں نہیں دبوچیں ۔ جہاں تک عمران خان کی جمہوری حکومت کا تعلق ہے تو ملک کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں اس کو سلیکٹڈ حکومت قرار دے چکی ہیں

لیکن گزشتہ جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر مراد سعید نے قائد حزب اختلاف شبہاز شریف کی تقریر پر جوشور و غوغا مچایا اس کو کسی بھی صورت میں درست قرار نہیں دیا جاسکتا ۔عمران خان کو سب سے پہلے قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے سلیکٹڈ وزیراعظم کہا تھا اس وقت ایوان میں برسراقتدار پارٹی کے کسی بھی رکن نے عمران خان کیساتھ اپنے نمبر بڑھانے کے لئے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا ۔ اس وقت پی ٹی آئی کے تمام منتخب ارکان اسمبلی جس میں مراد سعید، فواد چودھری، شہریار آفریدی اور پرویز خٹک جیسے عقاب موجود تھے لیکن کسی نے بھی بلاول بھٹو کے دیئے ہوئے القاب پر احتجاج نہیں کیا لیکن شہباز شریف نے عمران خان کو ایوان میں ان کی موجودگی میں سلیکٹڈ وزیراعظم کہا تو مراد سعید نے اپنے شور و غوغا سے چھت پر لگادیا ۔ ایوان میں تلخ و شیریں گفتگو معمول کا حصہ ہوتی ہے ،قابل اعتراض جملوں یا باتوں کو اسپیکر کا رروائی سے حذف کرادیتے ہیں ۔

پاکستان کی بہادر اور مسلح افواج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید موجودہ حکمرانوں کی انگلی پکڑ کر اقتدار کی خار دار راہوں سے گزارنے میں عملی مدد کررہے ہیں ۔ غیر ملکی دوروں اور اس کے نتیجے میں ملنے والی مالی امداد عمران خان کی حکومت کو نہیں بلکہ جنرل قمر باجوہ کیساتھ ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں مل رہی ہے ۔

بلاشبہ جنرل قمر باجوہ ملک کے اندرونی و بیرونی دشمنوں کا قلمع قمع کرنے میں کامیاب رہنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اقتصادی بدحالی سے نجات دلانے والے سپاہی مسیحا کی حیثیت رکھتے ہیں اور وہ بڑی خاموشی کیساتھ اپنے فوجی فرائض کیساتھ ساتھ سول معاملات سے بھی عہدہ برا ہورہے ہیں ۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے بھی اپنے خطاب میں اس بات کا اعتراف کیا کہ غیر ملکی امداد کے حصول میں بنیادی کردار جنرل باجوہ کاہے ، قوم یقیناً ان کی مشکور اور شکر گزار ہے کہ جنہوں نے ملک کو درپیش شدید اقتصادی بحران سے نکالنے کے لئے اپنا مجاہدانہ کردار ادا کیا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کی اقتصادی ٹیم بیرون ملک سے ملنے والی گراں قدر مالی امداد سے کس طرح عوام کو مہنگائی اور بے روزگاری کے شکنجے سے نجات دلاتی ہے۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top