تازہ ترین
فاٹا اصلاحات کی منظوری:کے پی کے اسمبلی کا خصوصی اجلاس آج ہوگا

فاٹا اصلاحات کی منظوری:کے پی کے اسمبلی کا خصوصی اجلاس آج ہوگا

.پشاور: (27 مئی 2018) فاٹا اصلاحات کی منظوری کے لیے خیبرپختونخواہ اسمبلی کا اجلاس آج اتوار کوہوگا

اس  سے قبل کے پی اسمبلی کا اجلاس بلانے کےلیے سمری گورنر کوارسال کی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ کے ترجمان شوکت یوسفزئی کے مطابق فاٹا اصلاحات ایک تاریخی فیصلہ ہے اور اسے دو تہائی اکثریت سے منظور کرایا جائے گا اجلاس آج سہ پہر دو بجے ہوگا۔

 قومی اسمبلی میں بل کی منظوری کے موقع پر جے یو آئی (ف) ، پختون خوا میپ اور پی ٹی آئی کے داور کنڈی نے فاٹا اصلاحات بل کی مخالفت کی تھی جبکہ جے یو آئی ارکان نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیاتھا جبکہ مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی سے غیر حاضر رہےتھے۔اس موقع پر فاٹا کے رکن مولانا جمال الدین نے کہا کہ فاٹا بل کے نام پر فاٹا کے نام کو آئین سے نکالا جارہا ہے ۔ فاٹا کی رائے کے بغیر اگر یہ بل منظور ہوا تو خطرناک ہوگا۔

کے پے کے کی حکمراں جماعت پی ٹی آئی نے بڑھتے ہوئے بحران کو حل کرنے کےلیے اراکین اسمبلی سے رابطے کرنے شروع کردیے ہیں۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

فاٹا اصلاحات کی منظوری کے لیے اس کے حمایتی جماعتوں نے تمام ارکان کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے، فاٹا اصلاحات کی منظوری پیپلزپارٹی کے ضیاء اللہ آفریدی نے اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی واپس لے لی ہے جس کے بعد اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے سمری بھجوائی گئی ہے۔

یاد رہے کہ فاٹا اصلاحات کی صوبائی اسمبلی سے منظوری آئینی ضرورت ہے۔گزشتہ روز فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے متعلق آئینی بل قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی منظور کرلیا تھا، بل کی حمایت میں 71 اور مخالفت میں 5 ووٹ آئے تھے،حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت علماء اسلام (ف)اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیاتھا۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

اس سے قبل 24مئی کو قومی اسمبلی نے فاٹا کا خیبر پختونخواہ میں انضمام کا بل کثرت رائے سے منظور کیا تھا، بل کی منظوری کے بعد فاٹا میں ایف سی آر کا خاتمہ ہوجائے گا۔

 قومی اسمبلی میں فاٹا بل کے حق میں 229 اور مخالفت میں 11 ووٹ آئے۔جے یو آئی (ف) ، پختون خوا میپ اور پی ٹی آئی کے داور کنڈی نے فاٹا اصلاحات بل کی مخالفت کی، جے یو آئی ارکان نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا جبکہ مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی سے غیر حاضر رہے۔

اس موقع پر فاٹا کے رکن مولانا جمال الدین نے کہا کہ فاٹا بل کے نام پر فاٹا کے نام کو آئین سے نکالا جارہا ہے ۔ فاٹا کی رائے کے بغیر اگر یہ بل منظور ہوا تو خطرناک ہوگا۔

وزیر قانون محمود بشیر ورک نے فاٹا انضمام کی اکتسویں آئینی ترمیم کی تحریک قومی اسمبلی میں پیش کی تھی۔

اس سے قبل ایوان میں مطلوبہ ارکان کی تعداد نہ ہونے پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت یا اپوزیشن کا نہیں بلکہ سب کا بل ہے، ڈیڑھ سو سال کی تاریخ بدلنی ہے، آدھا گھنٹہ اور انتظار کرنے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔

اس موقع پر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہم تو ایک گھنٹہ انتظار کرنے کو تیار ہیں۔

فاٹا اصلاحات بل

فاٹا اصلاحات بل کے تحت آئندہ پانچ سال تک فاٹا میں قومی اسمبلی کی 12 اور سینیٹ میں 8 نشستیں برقرار رہیں گی اور فاٹا کے لیے مختص صوبائی نشستوں پر انتخابات اگلے سال ہوں گے۔

بل کے مطابق صوبائی حکومت کی عملداری سے صدر اور گورنر کے خصوصی اختیارات ختم ہوجائیں گے اور ایف سی آر کا بھی مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

این ایف سی ایوارڈ کے تحت فاٹا کو 24 ارب روپے کے ساتھ 100 ارب روپے اضافی ملیں گے اور 10 سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا خصوصی فنڈ ملے گا جو کسی اور جگہ استعمال نہیں ہو سکے گا۔

ترمیمی بل میں سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھایا جائے گا جب کہ پاٹا اور فاٹا میں 5 سال کے لیے ٹیکس استثنا دیا جائے گا۔بل کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ فاٹا اصلاحات بل کی منظوری میں معاونت پر اپوزیشن کا مشکور ہوں کہ انہوں نے بل کی منظوری کے لیے ہمارا ساتھ دیا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

انہوں نے کہا کہ فاٹا اصلاحات بل ابتدا ہے اور ہمیں فاٹا کے عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہے تاکہ انہیں محسوس ہو کہ وہ بھی پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح برابر کے شہری ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

قومی اسمبلی میں فاٹا انضمام کا بل کثرت رائے سے منظور

وزیراعظم کی زیرصدارت پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں فاٹا انضمام کے بل پر اتفاق

 

 

 

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top