تازہ ترین
فاسٹ بریکنگ اور تخت لاہور

فاسٹ بریکنگ اور تخت لاہور

تحریر: کرم الٰہی گوندل (بیورو چیف اب تک نیوز لاہور)

باپ بیٹے کی پریس کانفرنس کے بعد اگرچہ یہ تو واضح ہو گیا کہ پیپلز پارٹی سولو فلائٹ کے لئے تیار ہے اور گرتی ہوئی دیوار کو اگر ایک اور دھکہ نہیں دے گی تو کم از کم سہارا دینے کے موڈ میں بھی نہیں ہے لیکن مستقبل کے سیاسی منظر نامے پر گرد بدستور برقرار ہے۔ بحریہ ٹاؤن سے چند کلومیٹر دور رائے ونڈ میں جب پیپلز پارٹی کے سابق اور مسلم لیگ ن کے موجودہ اتحادی مولانا فضل الرحمان ثالثی مشن کے تحت میاں نواز شریف سے ملاقات کر رہے تھے، عین اسی وقت بحریہ ٹاؤن کے قلعہ نما بلاول ہاؤس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری نئی صف بندی کا اعلان کر رہے تھے۔

لگتا یوں ہے کہ مولانا فضل الرحمان جس پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اس کے ستون ہی نہیں رہے۔ پلوں کے نیچے سے اتنا پانی بہہ گیا ہے کہ وہ ستون بھی تُند و تیز ریلے کے ساتھ بہا لے گیا ہے۔ بلاول ہاؤس میں موجود ایک رہنما سے جب پوچھا کہ میثاق جمہوریت سے بھوربن معاہدے تک کا سفر کیا اب اختتام کو پہنچا، کیا ایسا کوئی امکان نہیں کہ تحریک انصاف کے دھرنے سے پیدا شدہ بحران کی طرح اب پھر پیپلز پارٹی جمہوریت اور پارلیمنٹ کے استحکام کے لئے ن لیگ کے ساتھ کھڑی ہو جائے، تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ گرمی کا روزہ رکھ کر عصر کے وقت توڑا نہیں جاتا، اب افطاری ہی ہو گی۔

پیپلزپارٹی “فاسٹ بریکنگ” کے موڈ میں نہیں اور اس کی نظر اب تخت لاہور پر ہے، یہی وجہ ہے کہ محض ایک نشست پر ضمنی الیکشن کے لئے ساری قیادت لاہور آ کر بیٹھ گئی ہے۔

دوسری طرف رائے ونڈ میں کئی دن کی سرگرمیوں کے بعد آج قدرے خاموشی رہی، واحد وزیٹر مولانا فضل الرحمان تھے اور وہ بھی سوائے اپنی حمایت کے اعادے کے کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ خاموشی سے آئے اور میڈیا کا سامنا کئے بغیر ہی چلے گئے۔ ویسے خاموشی ہی بہتر ہے اور دو تین روز سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ اسلام آباد تا لاہور مشن جی ٹی روڈ کے دوران جو کچھ کہنا تھا، کہہ دیا گیا ہے۔

سننے میں تو یہ بھی آرہا ہے کہ کچھ حکم زباں بندی بھی جاری ہونے والے ہیں، ان میں دو وفاقی وزراء شامل ہوں گے اور ٹوئٹر پر پیغامات کی رفتار میں بھی کمی آئے گی۔ خواجہ سعد رفیق کا گزشتہ روز کا یہ بیان اس حوالے سے انتہائی اہم ہے کہ مسلم لیگ ن اداروں سے ٹکراؤ نہیں چاہتی لیکن یہ خاموشی چند حوالوں سے ہوگی، سیاسی محاذ پر چاند ماری کا سلسلہ مزید تیز ہو جائے گا کیونکہ این اے 120 کا ضمنی الیکشن محض قومی اسمبلی کی ایک نشست کا معرکہ نہیں ہے۔ سابق خاتون اول کی نمایاں ووٹوں سے کامیابی ہی مسلم لیگ ن کی مستقبل کی سیاسی حکمت عملی کےلئے مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔ تحریک انصاف تو یہ امید لگائے بیٹھی ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد اس بار اپ سیٹ کر سکتی ہیں لیکن زمینی حقائق اس خوش امیدی کے منافی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے

یہ اقتدار سے واپسی کا سفر ہے،سیاست سے نہیں

پاناما کا فیصلہ،جناب وزیراعظم کیا کریں؟

Comments are closed.

Scroll To Top