تازہ ترین
عمراکمل پاکستان کرکٹ کابگڑا بچہ

عمراکمل پاکستان کرکٹ کابگڑا بچہ

عمراکمل پاکستان کرکٹ کا وہ بگڑا ہوابچہ ہے۔ جواپنے آٹھ سالہ بین الاقوامی کیریئرمیں کوئی نمایاں کارکردگی توپیش نہیں کرسکا۔لیکن نت نئے تنازعات میں ہمیشہ ملوث رہا۔پاکستان کرکٹ بورڈ حسب روایت نہ توعمراکمل کوبہترطور پرہینڈل کرسکااورنہ ہی اس کے خلاف کوئی واضح ایکشن لیاگیا۔Image result for umar akmalعمراکمل نے اگست دوہزارنو میں ون ڈے اورٹی ٹوئنٹی کیریئرکا آغازکیا۔اسی سال نومبرمیں ڈونیڈن میں اسے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ کیپ بھی مل گئی۔نوجوان بیٹسمین نے ایک سوانتیس رنزبنائے۔ ٹیسٹ ڈیبیوکے سنچری میکر بیٹسمینوں میں اپنانام درج کرالیا۔لیکن اگلے پندرہ ٹیسٹ کی انتیس اننگ میں وہ کوئی تھری فیگراننگ نہ کھیل سکے۔سری لنکن شہردمبولا میں اپنے تیسرے ون ڈے میں عمراکمل نے ایک سودورنزاسکورکئے۔پھرپانچ سال بعد دوسری ون ڈے سنچری بنگلہ دیش کے خلاف اسکورکرسکے۔ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ان کاریکارڈ قدرے بہتر ہے۔ وہ سولہ سونورنزبناکر اس فارمیٹ میں پاکستان کے تیسرے کامیاب ترین بیٹسمین ہیں۔ لیکن دوہزارسولہ میں آخری دس ٹی ٹوئنٹی میچوں میں عمراکمل یواے ای کیخلاف نصف سنچری کے سواکوئی اچھی اننگ نہ کھیل سکے۔Related imageاس کارکردگی کے باوجود پاکستان کے تمام ماہرین نے عمراکمل کوانتہائی باصلاحیت بیٹسمین قراردیا۔لیکن کیریئرپرتوجہ دینے کے بجائے وہ کبھی ڈانس ،کبھی پولیس اہلکارسے جھگڑے اورکبھی دوسرے تنازعات میں ملوث ہوتے رہے۔پی سی بی نے بھی انہیں باربارمواقع دیئے۔ وہ چیمپئنزٹرافی کیلئے قومی ٹیم میں منتخب بھی ہوئے۔ لیکن فٹنس ٹیسٹ پاس نہ کرنے پرانگلینڈ سے وطن واپس بھیج دیئے گئے۔ عمراکمل ہیڈکوچ مکی آرتھر پرگالیاں دینے کاالزام لگاکرنئے تنازع کھڑاکردیا۔پی سی بی نے جمعرات کوعمراکمل کے تمام الزامات مسترد کرکیانہیں شوکازنوٹس جاری کردیا۔اور سات دن میں جواب طلب کرلیا۔لیکن بیٹسمین نے ہوش کے ناخن لینے کے بجائے سوشل میڈیاپرنیامحاذکھول لیا۔ان کاکہنا ہے کہ انہیں سازش کے ذریعے ٹیم سے نکالاگیا۔ تین چارسال سے انہیں باقاعدہ منصوبے کے تحت ٹیم سے باہرکیاجارہاہے۔چیف سلیکٹرانضمام الحق نے ا ن کی فٹنس دیکھ کرانہیں چیمپئنزٹرافی کے لئے منتخب کیا۔لیکن مکی آرتھر نے انگلینڈ میں دوبارہ فٹنس ٹیسٹ میں ناکام قراردیکر باہرکردیا۔پاکستان ٹیم ویسٹ انڈیزکے ٹورسے انگلینڈ پہنچی تھی۔کیاکوچ کوکھلاڑیوں کی فٹنس کاعلم نہیں تھا۔انہوں نے صرف مجھے نکالنے کیلئے یہ ٹیسٹ لیا۔ایک صحافی نے بھی مجھے بتایاکہ ٹیم انتظامیہ تمہیں بھیجنا چاہتی ہے۔ کیونکہ تماری موجودگی میں اظہرعلی یامحمد حفیظ میں سے ایک کوباہربیٹھناپڑے گا۔رائٹ ہینڈربیٹسمین کاکہنا ہے کہ وہ اپنی خامیاں دورکرلیں گے۔لیکن انہیں جھوٹ بول کرٹیم سے نہ نکالا جائے ۔انہوں نے کہاکہ این سی اے کے ہیڈ کوچ مشتاق احمد اورچیف سلیکٹرانضمام الحق اگرحلف اٹھاکراعتراف کریں کہ مکی آرتھرنے گالیاں نہیں دیں تووہ پوری قوم سے معافی مانگ لیں گے۔Image result for umar akmalپی سی بی نے عمراکمل کے الزامات کوبے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہاکہ عمراکمل کوفٹنس بہتربنانے کیلئے سات مواقع دیئے گئے۔چیمپئنزٹرافی سے قبل بھی فٹنس ٹیسٹ پاس کرنے پرانہیں منتخب کرلیاگیا۔لیکن وہ انگلینڈ کے فٹنس ٹیسٹ میں ناکام ہوگئے۔ہرانٹرنیشنل ایونٹ سے پہلے ٹرینرکھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ لیتے ہیں۔بورڈ کی پریس ریلیز میں کہاگیاہے کہ محدود اوورز کی کرکٹ میں عمراکمل ہیڈ کوچ کے پلان میں شامل تھے۔مگروہ مواقع ملنے کے باوجود خامیاں دورکرسکے نہ فٹنس کوبہتربنانے میں کامیاب ہوئے۔Image result for umar akmal With Girls
عمراکمل کی باتوں میں کچھ سچائی بھی یقیناہوگی۔لیکن ان کاغصہ چیمپئنزٹرافی ٹیم کاممبرنہ ہونے کی وجہ سے بھاری انعامی رقوم سے محرومی پرہے ۔وہاب ریاض صرف ایک میچ کھیل کربھی کروڑوں روپئے حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔مگرعمراکمل کے ہاتھ سے یہ چانس نکل گیا۔انہیں اب لکیرپیٹنے کے بجائے بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی آٹھ سالہ کارکردگی اورقومی ٹیم میں نئے کھلاڑیوں کی آمد کے بعد انہیں اپنارویہ تبدیل کرنا چاہئے۔اورمتنازعہ بیانات سے گریز کرنا چاہئے۔ان کے کزن بابراعظم قومی ٹیم میں اپنی جگہ پکی کرچکے ہیں۔فخرزمان اورچندا ور نوجوان بیٹسمینوں کی شمولیت کے بعدعمراکمل کیلئے ٹیم میں واپسی مشکل ہوگئی ہے۔وہ ٹیسٹ کرکٹ سے چھ سال پہلے باہرہوگئے تھے۔وہ اب بھی تنازعات میں الجھنے کے بجائے فارم اورفتنس بہتربناکرون ڈے اورٹی ٹوئنٹی ٹیم کاحصہ بن سکتے ہیں۔Related image
دوسری جانب بورڈ کوبھی بگڑے بچے کے ساتھ کچھ بہترسلوک کرنا چاہئے۔ این سی اے میں پریکٹس صرف کنٹریکٹ پلیئرکاحق نہیں ہے۔ مکی آرتھر نے گالیاں نہیں دی ہوں گی۔لیکن عمراکمل کوٹریننگ سے روکنا بھی غلط ہے۔نیشنل کرکٹ اکیڈمی ملک کے تمام کرکٹرزکیلئے قائم ہوئی ہے۔اوراس میں ہرکھلاڑی کوٹریننگ کاموقع ملناچاہئے۔

 

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی

 

ٹیسٹ اورون ڈےلیگ کا جلد آغاز

Comments are closed.

Scroll To Top