تازہ ترین
عمران کو اپوزیشن نہیں لوٹوں سے خطرہ

عمران کو اپوزیشن نہیں لوٹوں سے خطرہ

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو اقتدار سنبھالنے کے بعد خطرہ محسوس ہورہا ہے کہ اپوزیشن روز اول سے ان کی حکومت کو گرانے کی سازش کررہی ہے ۔ پاکستان کی ستر سالہ سیاسی تاریخ میں یہ کوئی نیا الزام نہیں ہے ،ملک میں برسر اقتدار آنے والے رہنما پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اسی قسم کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں ۔ جہاں تک عمران خان کی حکومت کیخلاف سازش کا الزام ہے اپوزیشن ایک سے زائد بار واشگاف الفاظ میں اعلان کرتی رہتی ہے کہ اس کو موجودہ حکومت کو گرانے میں کسی قسم کی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ عمران خان کی حکومت شاخ نازک کے سہارے قائم ہوئی ہے۔ جو لوگ یا عناصر اس کو برسراقتدار لائے ہیں وہی اس کے خاتمے کا سبب بنے گے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت کو ایوان میں واضح اکثریت حاصل نہیں ہے ۔ پاریمنٹ میں کافی بڑی تعداد میں ایسے ارکان موجود ہیں جن کی تمام سیاسی زندگی موقع پرستی بہ الفاظ دیگر سیاسی لوٹوں کی ہے جن کی سیاسی وفاداریاں ہمیشہ ناقابل بھروسہ رہی ہیں ۔ ایم کیو ایم جس کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ ہر دور میں اپنی دشمن جماعت کے ساتھ بھی اقتدار میں شریک ہونے میں شرم محسوس نہیں کرتی ، آصف علی زرداری، نواز شریف یا بلاول بھٹو کیساتھ جنگ و جدل میں مصروف رہنے ،قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے کے باوجود ان تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اقتدار کے مزے لوٹتی رہی۔اس جماعت کے متعلق یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ یہ کب اپنے آپ کو اقتدار سے علیحدہ کرے گی ۔ لوٹے ارکان اسمبلی کی موجودگی میں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے لیے لوٹے سیاستدانوں کا ضمیر اور ووٹ خریدنا کوئی مشکل کام نہیں تھا اور نہ ہے ۔ عمران خان کی کابینہ کے ارکان میں بھی انتشار پایا جاتا ہے ،وزرائے کرام ایک دوسرے پر جھوٹ بولنے کے الزامات عائد کرتے نظر آتے ہیں ۔ شیخ رشید جن کی سیاسی وفاداری کے متعلق حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہے ، سیماب صفت سیاستدان نے اپنی نظریں ایک بار پھر وفاقی وزیر اطلاعات کے عہدہ حاصل کرنے پر لگائی ہوئی ہیں ۔ کسی زمانے میں ان کا شمار عمران خان کے سخت ناقدین میں ہوتا تھا آج کل عمران خان کے عشق میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ایک زمانہ تھا جب وہ جنرل مشرف اور نواز شریف دونوں کی ناک کا بال بنے ہوئے تھے، عمران خان کے وزیر خزانہ بلاشبہ تیز اور زیرک انسان ہیں لیکن ان کی اقتصادیات کی مہارت پاکستان کےعوام کے لیے وبال جان بن گئی ہے ۔ عمران خان کے مشیر بھی ایک سے ایک بڑھ کر ہیں ، جس مشیر یا وزیر نے ان کو 126 ممالک سے لوٹی ہوئی دولت کی معلومات حاصل کرنے اور اس سلسلے میں معاہدے پر دستخط کرنے کی جھوٹی معلومات فراہم کیں اس سے عالمی سطح پر عمران خان کی جو بدنامی ہوئی ہے اس پر حکومتی حلقوں کی خاموشی معنی خیز ہے۔کرپشن کا ذکر آیا ہے تو چیئرمین نیب اور صدر مملکت بھی شطرنج کے کھلاڑیوں والا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ چیئرمین نیب نے ملک کی بیورو کریسی کو نصیحت کی ہے کہ وہ ”شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار“ نہ بنیں ہماری گزارش ہے کہ وہ بیورو کریسی کو نصیحت کرنے سے قبل اپنے اداروں کے بعض افسران کے رویہ پر بھی نظر ڈالیں ۔ حال ہی میں شہباز شریف کے خلاف قائم مقدمے میں عدالت نے مذید جسمانی ریمانڈ کی درخواست منظور کرتے ہوئے جیل بھیج دیا ۔ نیب لاہور کے ڈائریکٹر کھلم کھلا ٹی وی پر آکر غیر جانبدار ادارے کے ڈائریکٹر کے بجائے حکمران پارٹی کے ترجمان بنے ہوئے ہیں ۔ جہاں تک نیب کی غیرجانبداری کا تعلق ہے تواب پاکستان میں بعض غیر ملکی سفیر بھی اس ادارے کی جانبداری پر حیرت کا اظہار کررہے ہیں ۔ بلا شبہ رشوت اور کرپشن نے پاکستان کی بنیادیں ہلاکر رکھ دی ہیں، پاکستان کا غریب عوام جب اپنے گھر کی دہلیز سے باہر قدم رکھتا ہے تو اس کا قدم قدم پر رشوت خور سرکاری اہلکاروں سے واسطہ پڑتا ہے ، پولیس کی وردی کا روزانہ شہر کی تقریباً تمام اہم شاہراہوں پر پچاس روپے سے پانچ سو روپے تک نیلام ہوتا رہتا ہے ۔ ہمارے صدر مملکت بھی جب بحیثیت دندان ساز ڈاکٹر کے اپنا پیشہ ور کریئر شروع کرنے والے تھے تو وہ بھی پچاس ہزار روپے رشوت دینے کے مرتکب ہوئے ۔ ہماری معلومات کے مطابق صدر مملکت ایک دینی گھرانے کے فرزند ہیں ،دوران طلب علمی انہوں نے سیاست میں بھی بھرپور حصہ لیا ہے ان کے علم میں یقیناً یہ حدیث مبارکہ ہوگی کہ ”رشوت دینے اور لینے والا دونوں جہنمی ہے“ جس شخص نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ہی رشوت دے کر کیا ہو اس کے منہ سے رشوت کے خلاف باتیں کچھ عجیب سی لگتی ہیں ۔ یہ صورت حال صرف ہمارے صدر مملکت کے ساتھ ہی نہیں ہے پاکستان کے سب سے بڑے لینڈ گریبر اور خود ساختہ مخیر نے ایک سے زائد بار ٹیلیویژن پر آکر اعتراف کیا اور کہا کہ پاکستان میں کسی بھی منصوبے کی منظوری بغیر روپے کا پہیہ لگائے ناممکن ہے ، اس مخیر شخص نے ملک کے حساس اداروں اور عام بیورو کریسی سے لے کر نامی گرامی وکلا کو اپنے غیر قانونی کاموں کو تحفظ دلانے کی غرض سے بھاری معاوضے پر ملازم کررکھا ہے ۔ہمارے صدر مملکت ماضی میں رشوت دینے کا  اعتراف کرنے کے بعد سعودی عرب کے لیے روانہ ہوگئے جہاں انہوں نے عمرے جیسے مقدس فریضہ کی ادائیگی کی ، ہمیں نہیں معلوم کہ رشوت دینے اور لینے والے کے متعلق حدیث شریف کا ان کو علم ہے یا نہیں اللہ مغفرت فرمائے۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top