تازہ ترین
علماء کا پولیو کے خاتمے تک مکمل تعاون جاری رکھنے کا اعادہ

علماء کا پولیو کے خاتمے تک مکمل تعاون جاری رکھنے کا اعادہ

اسلام آباد: (12 ستمبر 2017) پاکستانی علمائے دین کا پولیو کے خاتمے تک مکمل تعاون کی فراہمی جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔ سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے پولیو کے خاتمے کیلئے علماء اور مذہبی رہنماوں کے کلیدی کرداد کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خاتمے مین علماء کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔قومی اسلامی مشاورتی گروپ نے ملک سے پولیو کے خاتمے کیلئے جاری پروگرام کیلئے تعاون کی فراہمی جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر میں ہونے والے اجلاس میں قومی و صوبائی سطح پر ترتیب دی گئی حکمت عملی کا تفصیلی جا ئزہ لیا گیا۔ اجلاس میں نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان  کے تناظر میں پولیو کے خاتمے کیلئے جاری پروگرام کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کے بعد اسے حتمی شکل دی گئی۔سینیٹر عائشہ رضا نے کہا کہ رواں سال کے دوران اب تک پولیو سے متاثرہ صرف 4 کیسز سامنے آئے ہیں جو ہمارے مقصد کے حصول میں ایک مثبت اور انتہائی اہم پیشرفت ہے۔ پولیو کے مکمل خاتمے اور پولیو کیسز کی تعداد کو صفر پر لانے کا ہدف تاحال حاصل نہیں کیا جاسکا، اس کیلئے ہمیں اپنی جدوجہد کو پوری قوت کے ساتھ جاری رکھنا ہوگا۔ کراچی، کوئٹہ، قلعہ عبداللہ راولپنڈی اور اسلام آباد سے اکھٹے کیے گئے نکاسی آب اور ماحولیاتی نمونہ جات کی تشخیص میں اب تک پولیو وائرس کی ممکنہ موجودگی کے نتائج سامنے آئے ہیں، لہٰذا ان علاقوں میں پولیو وائرس کو شکست دینے کے حوالے سے ہمیں پوری توجہ کے ساتھ جدوجہد جاری رکھنا ہوگی۔قومی اسلامی مشاورتی گروپ کے نام اپنے ایک پیغام میں وزیر اعظم کی نمائندہ خصوصی برائے پولیو تدارک سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ پولیو پروگرام کے بارے میں تحفظات اور غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مذہبی رہنماؤں اور علمائے دین نے انتہائی موثر کردار ادا کیا ہے۔ علماء اور مذہبی رہنما حفاظتی قطرے پینے سے محروم رہ جانے والے بچوں تک رسائی اور انہیں حفاظتی قطرے پلانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سجاول: دڑو میں پولیو ویکسین گلیوں اورگٹروں میں پھینک دی گئی

پشاور میں انسداد پولیو مہم کا آغاز

 

Comments are closed.

Scroll To Top