تازہ ترین
عالمی یوم ذہنی صحت

عالمی یوم ذہنی صحت

ویب ڈیسک: (10 اکتوبر 2018) پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ذہنی صحت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔جس کا مقصد ذہنی و دماغی امراض سے تعلق نہ صرف معلومات کی فراہمی ہے، بلکہ اس حوالے سے شعور اجاگر کرنا بھی ہے۔طرز زندگی میں تبدیلی ، معاشرتی رویے ، خصوصاً خاندانی مسائل ، معاشرتی ناہمواریاں اور غربت کے باعث دنیا بھر میں ہر چوتھا بالغ شخص ذہنی دباؤ کا شکارہے۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی ادارہ صحت کے تحت ذہنی صحت کا عالمی دن انیس سو بیانوے میں منایا گیا۔عالمی ادارہ صحت کا کہناہے کہ دنیا بھر میں پینتالیس کروڑ افراد کسی نہ کسی دماغی عارضے میں مبتلا ہیں۔زندگی کے بدلتے طرز اور آرام پسندی نے انسانی بدن کو بری طرح متاثر کیا ہے اس طرز زندگی نے جہاں جسم کو نقصان پہنچایا وہیں ہمارے معاشرتی رویوں خصوصا خاندانی مسائل ،معاشرتی ناہمواریوں اور غربت نے انسان پر بہت برا اثرا ڈالا ہے۔

ترقی پزیر ملکوں میں پچیاسی فیصد تک افراد کو دماغی امراض کے کسی علاج تک کوئی رسائی حاصل نہیں۔ وہاں دماغی بیماری کو شرمندگی اور بدنامی سمجھا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق ذہنی دباؤ یعنی ڈپریشن کا برقت علاج نہ ہونے سے انسان کے دیگر اعضا بھی متاثر ہوتے ہیں۔محکمہ صحت کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں ہر چھ میں سے ایک فرد ذہنی امراض کا شکار ہے جس میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے ۔طبی ماہرین کے مطابق اس مرض کے تدارک کے لیے علاج کے ساتھ عوام میں شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے ۔نفسیاتی اور ذہنی امراض بڑھنےکے ساتھ ہی ڈاکٹروں کی مختلف تنظیموں نے ان بیماریوں کے خلاف آگہی کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں لوگ اب بھی ذہنی امراض کاعلاج کرانے سے کتراتے ہیں لیکن یہ بیماریاں تب تک رہیں گی جب تک لوگ علاج کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

عدم تشدد کا عالمی دن

کافی کا عالمی دن

Comments are closed.

Scroll To Top