تازہ ترین
طاہر داوڑ کا قاتل سرحد پار بھی ہو تو عبرت کا نشان بنائیں گے، شہریار آفریدی

طاہر داوڑ کا قاتل سرحد پار بھی ہو تو عبرت کا نشان بنائیں گے، شہریار آفریدی

پشاور: (15 نومبر 2018) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ ایس پی طاہر داوڑ کا قاتل سرحد کے دوسری جانب بھی ہو تو عبرت کا نشان بنائیں گے۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر طور خم بارڈر پر آیا اور جو رویہ طور خم بارڈ ر پر دیکھا وہ تکلیف دہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ شہید کی میت کیلئے ڈھائی گھنٹے انتظار کروایا گیا۔ طاہر داوڑ کی میت کی حوالگی کیلئے افغانستان کا رویہ افسوناک ہے۔ ہمارے سپوت کو افغانستان میں بے دردی سے شہید کیا گیا۔ ڈھائی گھنٹے ہمیں کھڑا کیا گیا اور پھر کہا گیا کہ ہم میت نہیں دیتے۔شہریار آفریدی نے کہا کہ افغانستان کا پاکستانی سپوت کی میت دینے سے انکار کرنا سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حکومت طاہر داوڑ کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔ شہید کی میت جلال آباد میں پاکستانی سفارتخانے کو نہیں دی گئی اور لاش سفارتخانے کو نہ دینا بھی سوالیہ نشان ہے۔ اس پر افغانستان سے سفارتی سطح پر جواب مانگیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دشمن ہم کو تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں لیکن ہم نے متحد ہونا ہے۔ وزیر اعظم اس بات پر پرعزم ہیں کہ طاہر داوڑ کے قاتلوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ان کے قاتل خواہ بارڈر کے دوسری جانب بھی ہوئے، کٹہرے میں لاکر عبرت کا نشان بنائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ کل اس معاملے پر وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوگا۔

اس موقع پر ایس پی طاہر داوڑ کے بھائی نے کہا کہ میرا بھائی ایک بہادر آدمی تھا، وہ شہید ہوا ہے اور اس پر میں فخر کرتاہوں۔ لیکن ریاست سے ایک درخواست کرتاہوں کہ جس نے بھی میرے بھائی کو شہید کیا ہے، اس کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے میر ی مدد کی جائے۔

یہ بھی پڑھیے

ایس پی طاہر داوڑ کا افغانستان میں قتل انتہائی قابل مذمت اقدام ہے، آصف غفور

ایس پی طاہر داوڑ کی میت پاکستان کے حوالے کردی گئی

 

Comments are closed.

Scroll To Top