تازہ ترین
ضمنی انتخابات کے لیے امیدواروں کی حتمی فہرست آج جاری کی جائے گی

ضمنی انتخابات کے لیے امیدواروں کی حتمی فہرست آج جاری کی جائے گی

اسلام آباد: (16 ستمبر 2018)ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار وں کے حتمی فہرست انتخابی نشانات کے ساتھ آج جاری کی جائے گی جبکہ ضمنی انتخابات کے لئے پولنگ 14اکتوبر کو ہو گی۔

ضمنی الیکشن میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے37 حلقوں کے لئے پولنگ منعقد کی جائے گی،الیکشن کمیشن نے ان حلقوں کے رائے دہندگان کے اعداد و شمار بھی جاری کر دیئے ہیں۔واضح رہے گذشتہ روز کاغذات نامزدگی واپس لینے کا آخری دن تھا۔ ضمنی الیکشن کیلئےپاکستان تحریک انصاف نے امیدواروں کے نام جاری کر دیے ہیں۔ لاہور کے این اے 131 سے ہمایوں اختر میدان میں اتریں گے، کراچی سے محمد عالمگیر اور آفتاب صدیقی کا نام بھی فائنل ہو گیا۔ ضمنی الیکشن کیلئے جاری کردہ ناموں میں این اے 56 سے ملک خرم شامل ہیں، این اے 53 سے علی اعوان امیدوار ہوں گے۔ این اے 63 میں پی ٹی آئی امیدوار منظور حیات ہوں گے جبکہ لاہور کے این اے 131سے ہمایوں اخترخان میدان میں اتریں گے۔کراچی کے این اے 243 سے محمد عالمگیر اور 247 سے آفتاب صدیقی کپتان کے کھلاڑی ہوں گے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے پی کے 78 سے محمد عرفان، پی کے 99 سے آغا اکرام گنڈاپور الیکشن لڑیں گے۔ پی کے 3 سے ساجد علی، 7 سے فضل مولا، 97 سے فیصل امین میدان میں ہوں گے۔سندھ کے پی ایس 87 سے سردار قادر بخش، پنجاب کے پی پی 27 سے شاہنواز راجہ، پی پی 272 سے زہرہ بتول اور 296 سے اویس دریشک کو پی ٹی آئی کاٹکٹ جاری کیا گیا ۔دوسری جانب الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات کیلئے ضابطہ اخلاق جاری کردیا ہے۔ 61 نکات پر مشتمل انتخابی ضابطہ اخلاق سیاسی جماعتوں، امیدواروں، الیکشن ایجنٹ اورپولنگ ایجنٹ سے متعلق اصول و ضوابط پر مشتمل ہے۔

وزرائے اعلی اور وفاقی وصوبائی وزرا کے انتخابی حلقوں کے دورے پرپابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ضابطہ اخلاق  کے مطابق صدرپاکستان، وزیراعظم، گورنرز اور رکن قومی و صوبائی اسمبلی متعلقہ حلقے کے دورے پر نہیں جاسکیں گے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

اس کے علاوہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکروں اور چئیرمین وڈپٹی چئیرمین سینیٹ پر بھی حلقوں کے دورے سے متعلق پابندی عائد کردی گئی ہے۔

ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی نمائندے کسی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتے جبکہ انتخابی مہم پولنگ کے روز سے 48 گھنٹے قبل ختم ہو جائے گی۔ ضلعی انتظامیہ سے انتخابی ریلی کی اجازت لینا لازم ہے اور جبکہ کار ریلی پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔اسی طرح افواج پاکستان اور اعلی عدلیہ کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے پر بھی پابندی عائد ہوگی۔

ضابطہ اخلاق میں بتایا گیا ہے کہ اخراجات کے حوالے سے موجود شق کے مطابق کسی بھی امیدوار کے انتخابی اخراجات مقررہ کردہ حد سے زیادہ نہیں ہونے چاہیے۔  انتخابی مہم میں اشتہارات کا سائز مقرر کردہ حد سے زیادہ نہ ہو۔الیکشن کمیشن کا مزید کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر، ریٹرنگ افسر، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ضابطہ اخلاق پرعمل درآمد یقینی بنائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top