تازہ ترین
صدمے میں ہوں

صدمے میں ہوں

قومی اسمبلی کے اسپیکر نے اسمبلی کے چھ ماہ کے اجلاسوں کے دوران کی قانون سازی میں ناقص کارکردگی اور ایوان میں پائی جانیوالی کشیدگی کو ختم کرنے کی غرض سے قومی اسمبلی میں موجود متعدد سیاسی جماعتوں کے سربراہوں اور دیگر ارکان اسمبلی پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔ کمیٹی کے سپرد ایوان کی کارروائی کو نظم وضبط اور صبر و تحمل کے ساتھ جاری رکھنے کے لئے سفارشات مرتب کرنا ہے ابھی کمیٹی کے اعلان کی سیاسی بھی خشک نہ ہونے پائی تھی کہ پی ٹی آئی کے حوالے سے خبر آئی کہ عمران خان، شہباز شریف اور آصف علی زرداری کے ساتھ بیٹھنے پر تیار نہیں، قومی اسمبلی کے اسپیکر نے اس مشکل ک بھی حل نکالنے کی کوشش کی اور اپنے پہلے فیصلے میں ترمیم کرتے ہوئے کمیٹی میں شریک سیاسی پارٹیاں سربراہوں کو یہ اختیار دیا کہ وہ کسی بھی رکن اسمبلی کو اپنی جگہ پر رکن نامزد کرسکتے ہیں۔پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے سربراہان ایک سے زائد بار اعلان کرچکے ہیں کہ وہ یا ان کی جماعتیں موجودہ حکومت کو نااہلی کی بنا پر گھر بھیجنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان اور ان کی پارٹی کو شک ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں ان کی حکومت کو ختم کرنے کی سازش کررہی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان کو سابق اسمبلی کی طرح موجودہ ایوان سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ گنتی کے دو تین بار جب بھی عمران خان اسمبلی کے اجلاس میں آئے تو اسمبلی ہنگامہ آرائی کا شکار رہی، عمران خان کو ان تمام حربوں، نعروں اور طوفان بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑا جس کا ارتکاب وہ خود بھی سابق اسمبلی اور کینٹنر پر کھڑے ہوکر کرتے رہے ہیں، ویسے بھی حکومت کی چھ ماہ کی کارکردگی میں ابھی تک کوئی ٹھوس اور تنیجہ خیز کارکردگی نظر نہیں آتی جس کا ایوان کے اندر فخریہ ذکر کیا جاسکے۔پاکستان کی اقتصادی تاریخ میں چین کی مدد سے شروع ہونےوالا سی پیک کا معاہدہ بڑی اہمیت کا حامل ہے لیکن اس منصوبے میں بھی نئی حکومت کسی خاص دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کررہی ہے، عوام کو پتہ ہی نہیں چل رہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں سی پیک کے منصوبے کے تحت کیا کام ہوا ہے اور یہ منصوبے تکمیل کے کن مراحل سے گزررہے ہیں جبکہ ن لیگ کی حکومت وزیراعظم اور وزرا مسلسل نہ صرف چین کی حکومت کیساتھ رابطے میں رہتے تھے بلکہ زیر تکمیل منصوبوں کا جائزہ لینے کے لئے دورے بھی کرتے رہتے تھے۔ وزیرعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف ارکان اسمبلی بلکہ عوام کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ پابندی کیساتھ قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شریک ہوا کرینگے اور ہر بدھ کو وفقہ سوالات کے دوران اراکین سوالات کے جوابات بھی دینگے، وزیراعظم اپنے اس وعدے پر آج تک عملدرآمد نہ کرسکے، حقیقت یہ ہے کہ عمران خان جو بڑے بلند بانگ دعوئوں اور وعدوں کے جھرمنٹ میں برسراقتدار آئے تھے وہ عوام کو سوائے یوٹرن کے ابھی تک کوئی ٹھوس کام کرکے نہیں دکھاسکے۔چھ ماہ کے دوران ڈالر کی قیمت میں زبردست اضافہ کی وجہ سے ملک کی اقتصادیات پر بھیانک نتائج مرتب ہورہے ہیں غیر ملکی قرضوں میں اضافہ کیساتھ ضروریات زندگی کی اشیا کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کررہی ہیں، یہ صحیح ہے کہ موجودہ حکومت کو بیروزگاری ورثے میں ملی ہے لیکن موجودہ حکومت چھ ماہ کے دوران ملازمت کے نئے مواقع مہیا کرنے کے بجائے صرف کراچی میں لاکھوں افراد کو تجاوزات کے نام پر روزگار سے محروم کرچکی ہے، اربوں روپے مالیت کی عمارات کو بغیر کسی منصوبے بندی کے مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کردیا گیا۔غیر ملکی مالی امداد ملنے کے باوجود بجلی، گیس اور مختلف ٹیکسز میں اضافہ ہونے کے بعد بھی ملکی خزانہ خالی ہے، متعدد بار انکار کرنے کے باوجود عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے دروازے پر کاسہ گدائی لئے کھڑے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی موجودہ سال کی پہلی سہ ماہی کی رپورٹ کے مطابق گیس کی قیمت میں اضافے اور روپے کے بے قدری کے نتیجے میں مہنگاءی بے قابو رہے گی اور معاشی ترقی کی شرح نمو کا ہدف حاصل نہ ہوسکے گا اس کے علاوہ بیرون ممالک سے ملنے والی امداد میں ساٹھ فیصد کمی ہوئی ہے۔جولائی تا دسمبر کی پہلی ششماہی کے دوران قرضوں اور گرانٹ کی شکل میں دو ارب تیس کروڑ ڈالر پاکستان کو ملے ہے جبکہ مسلم لیگ ن کے زمانے میں اس مدت کے دوران پانچ ارب اونانوے کروڑ ڈالر ملے تھے، اقتصادی حالات بتارہے ہیں کہ عمران خان کے پاس قومی اسمبلی میں عوام کو بتانے کے لئے کچھ ہو تو وہ اجلاس میں شریک ہوں، اس لءے فی حال ناصرف عمران خان بلکہ پوری قوم ان کے ساتھ صدمے کی حالت میں ہے۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top