تازہ ترین
صحت کے تمام منصوبوں کو وزارت قومی صحت کے زیر نگرانی دینے کی سفارش

صحت کے تمام منصوبوں کو وزارت قومی صحت کے زیر نگرانی دینے کی سفارش

اسلام آباد: (08 ستمبر 2017) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت نے کیڈ اور ضلعی اداروں کے زیرنگرانی چلنے والے تمام صحت کے منصوبوں کو  وزارت قومی صحت کے زیر نگرانی دینے کی سفارش کردی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس خالد مگسی کی سربراہی میں ہوا۔ ڈاکٹر ناصرہ تسلیم  نے کمیٹی کو بتایا کہ 20 فیصد بچے اسقاط حمل کے ذریعہ ضائع کردیئے جاتے ہیں۔ ملک میں سالانہ 35 فیصد بچے پیدائش سے قبل ہی مر جاتے ہیں۔ 2012ء کے اعداد و شمار کے مطابق 22 لاکھ بچے اسقاط حمل کے ذریعہ ضائع کیے گئے۔

چئیرمین کمیٹی خالد حسین مگسی نے کہا کہ ہمارے پانچ سال ضائع ہوگئے۔ عوام کیلئے ہم کچھ نہیں کرسکے۔ کوئی بھی بحث آج تک منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکی۔ مسائل غریب لوگوں کے ساتھ ہیں، امیر لوگوں کے عیب بھی چھپ جاتے ہیں۔ وفاقی دارلحکومت میں صحت کے ادارے تین حصوں میں تقسیم ہیں، باقی ملک کا کیا حال ہوگا؟

وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل نے کہا کہ آج ہمارے آبادی دیکھ کر ہمسایہ ممالک بھی پریشان ہیں۔ ماضی میں دوسرے ممالک ٹریننگ لیا کرتے تھے۔ اسلام آباد کی صحت کے حالات بدترین ہیں۔

کمیٹی ممبر رامیش کمار نے کہا کہ جب تک سسٹم کسی ایک ادارے کی زیرنگرانی نہیں ہو گا بہتری نہیں آئے گی۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ کی تیسری بڑی جھیل میں زہر کی آمیزش

ڈینگی کیس میں روزانہ رپورٹ جمع نہ کرانے پر پشاورہائیکورٹ ناراض

 

Comments are closed.

Scroll To Top