تازہ ترین
شیخ چلی کے انڈے

شیخ چلی کے انڈے

ہندی کی پرانی کہاوت ہے کہ چڑھ جا بیٹا سولی پر رام بھلی کریگا” ہمارے وزیراعظم عمران خان جو اپنی بیس سالہ سیاسی جدوجہد کے بعد اقتدار پر براجمان ہوئے ہیں اپنی حکمرانی کے ابتدائی سو دنوں میں عوام دوستی کا مظاہرہ ہوشربا مہنگائی، انتظامی ابتری اور ملک کو مکمل طور پر اقتصادی طور پر کنگال کرنے کی پالیسی کی صورت میں کررہے ہیں اب تو ٹی وی اور اخبارات میں ان کے پرجوش اینکر بھی انتہائی پرمثردہ چہرے کیساتھ یہ کہنے لگے ہیں کہ عمران خان کے وزیر خزانہ ان کی حکومت کے لیے تباہ کن ثابت ہورہے ہیں ۔ ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جس کے نتیجے میں ملک پر واجب الادا قرضوں میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ ماضی کی حکومتوں پر قرضوں کا بوجھ لادنے کا الزام لگانے والوں نے قومی اقتصادیات کیساتھ صرف سو دنوں میں جو کھیل کھیلا ہے اس کی مثال گزشتہ تین برسوں کے دوران نہیں ملتی۔ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اور ماہرین اقتصادیات کھل کر اب یہ کہنے لگے ہیں کہ موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کی انتہائی کڑی شرائط مان لی ہیں اس کے تحت ہی ڈالر کی قیمت میں صرف ایک جھٹکے میں تاریخ ساز اضافہ ہوا ہے اس پر ہمارے وزیراعظم کا عوام کو یہ مشورہ کہ وہ موجودہ صورتحال سے گھبرائیں نہیں ابھی مزید مشکلات آنیوالی ہیں۔ وزیراعظم یہ مشورہ ان غریبوں کو دے رہے ہیں جن کو گزشتہ کئی برسوں سے مشکل سے دو وقت کی روٹی، علاج، تعلیم اور رہائش کی سہولتیں حاصل نہیں، کم آمدنی والے پہلے ہی دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں ۔وزیراعظم “شیخ چلی” کے انڈوں کی کہانی سےعوام کو بہلانے کی لوری دے رہے ہیں، وزیراعظم کا کہنا ہے کہ جب کبھی وہ ٹیلیویژن پر کسی شخص پر ظلم ہوتا دیکھتے ہیں تو ان کو سخت غصہ آتا ہے لیکن یہ غصہ اس وقت نامعلوم کیوں نہیں آیا جب اعظم سواتی اپنے پڑوس کے ایک غریب الادیار قبائلی خاندان کے معصوم بچوں اور عورتوں کو اپنی پولیس کے ذریعے غیض و غضب کا نشانہ بنارہا تھا اب تو سپریم کورٹ کی قائم کردہ جے آئی ٹی بھی اعظم سواتی اور اس کے بیٹے کو قصور وار قرار دے چکی ہے ۔ اب تک اعظم سواتی کے خلاف سرکاری سطح پر وزیراعظم یا ان کی حکومت نے کسی قسم کی کارروائی نہیں کی، کیا سرکاری زمین پر ناجائز قبضہ ایک غریب خاندان کو ناکردہ جرم پر جیل میں بند رکھنا حکمران طبقہ یا سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد کا حق ہے۔ ملک میں انصاف کی حکمرانی قائم کرنے کے نام پر برسراقتدار آنے والی حکومت نے مختصر دور میں پارلیمنٹ سے ملکر انتظامیہ خاص طور پر پولیس کو جس بے دردی کیساتھ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا وہ سب عوام کے سامنے ہے۔سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے صنعتی کارکنوں کے ورکرز ویلفیئر فنڈ کی ادائیگیوں میں تاخیر کے مقدمے میں ریمارکس دیئے کہ ہم وفاقی حکومت سے بالکل خوش نہیں ہے، ہمیں پتہ نہیں وفاقی حکومت کو کون چلارہا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وفاق کے بجائے دو چار بندے حکومت چلارہے ہیں ۔ تبدیلی کی دعویدار حکومت کی کارکردگی اور اہلیت کو آشکار کرنے کے لئے کافی ہے کہ ایک طرف ملک میں شہری علاقوں کے عوام روزگار کے حصول کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں دوسری طرف ہمارے جمہوری محبوب وزیراعظم پچپن میں چوتھی جماعت کے نصاب میں شامل “شیخ چلی”  کی مرغی اور اس کے انڈوں سے متعلق کہانی سنارہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ اصل دیسی مرغی تقریباً ناپید ہوگئی ہے اتنی بڑی تعداد میں دیسی مرغی کے انڈے دستیاب کیسے ہونگے، انڈے دیسی بھی اگر زیادہ عرصہ تک اسٹور کئے جائیں تو ان کی اکثریت گندی ہوجاتی ہے۔ عمران خان کی کابینہ جس مرغی کے انڈوں پر مشتمل ہے وہ بارہ سال بلکہ اکثر اس سے بھی زیادہ مدت کے پرانے ہوکر گندے ہوچکے ہیں۔کابینہ میں ایسے بھی کئی نورتن جنرل مشرف کے چھوڑے ہوئے گندے انڈوں میں سے ہیں جن سے کسی چیز کی توقع نہیں کی جاسکتی، جہاں تک کرپشن کی بہتی ہوئی گنگا کا تعلق ہے اس میں تحریک انصاف ،مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ڈوبے ہوئے نظر آتے ہیں ، پارسائی کا دعویٰ کرنے والے عوام کو گمراہ کرتے چلے آرہے ہیں، عوام دل و جان سے چاہتے ہیں کہ نام بدعنوان اور کرپٹ سیاستدانوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، ان کے درمیان اپنے اور پرائے کی تفریق نہ برتی جائے ۔ اگر شہباز شریف کو مقدمہ کی تفتیش مکمل ہونے سے قبل ان کی تمام بدعنوانیوں کی ٹیلیفویژن پر تفتیشی ادارہ نیب تشہیر کرسکتا ہے تو علیمہ خان کے خلاف ہونے والی تحقیقات کو کیوں سربمہر کرکے عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top